تازہ ترین
“باغ” ریاست آزاد جموں و کشمیرشیخ خالد زاہدزیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کاکھیل حکومت اور سپانسرز کی سر پرستی کے منتظر ہیں،رانا محمود الحسنرانا عباد کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہےسوشل میڈیا اور واضح رہے کے قواعدآئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردیقومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پرعمل شروع، جم، تھیٹرز اور سینما ہالز کل کھل جائیں گےہاتھی حساس جانور،ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی سن لیتے ہیںبیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

برقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلی

Screenshot_20200728-225557~2
  • خواجہ ناظم عثمانی
  • جولائی 28, 2020
  • 11:30 شام

سماجی رابطے کی ویب سائٹس جعلی دنیا یا وقت گزاری، نوسربازی اور مکاری کے لئے نہیں ہیں بلکہ سوشل و ڈیجیٹل میڈیا(Social & Digital Media) برقی دنیا سے عملی دنیا کا سفر ہے اور یہی جدید اور موجودہ زندگی کا حسین امتزاج ہے۔

لوگ اختلاف یا اتفاق کریں یہ ان کی اپنی فہم و فراست ہے۔ سوشل و ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے لوگوں میں سے بعض افراد کا اصرار رہتا ہے کہ بالعموم سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس اور بالخصوص فیس بک پر مخلصانہ پن نہیں ہے بلکہ یہاں صرف خوش گپیوں اور جھوٹی باتوں میں وقت گزارنا وغیرہ ہے۔ اس طرح کی بے سروپا باتوں کو سرے سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا اوریہ باتونی لوگوں کی چہ مگوئیاں اور کارستانیاں ہیں۔انٹرنیٹ کے ذریعے جدید دور میں دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے اور سوشل میڈیا کے تمام ذرائع وقت گزاری یا کسی کے ساتھ وقتی،

فرضی اور سطحی اور جذبات و احساسات سے کھیلنے کے لئے نہیں ہیں بل کہ کم وقت میں رابطوں میں وسعت اور استقامت پیدا کرنا ہے سوشل میڈیا سے قبل ہم عملی زندگی میں لوگوں سے میل جول رکھ کر تعلقات و مراسم استوار کیاکرتے تھے۔ کئی میل دور سفر طے کر کے ملاقات کرنا پڑتی تھی اور خط و کتابت کے موصول ہونے میں مہینوں کا وقت گزر جاتا تھا، اب فرق صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دفتر، گھر اور سیر و تفریح کے مقامات پر بیٹھے لوگوں سے میل جول رکھ رہے ہیں یعنی کہ ہماری زندگی عملی سے برقی میں منتقل ہو چکی ہے اور یہ برقی دنیا کے رشتے عملی دنیا میں منتقل ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے تعلقات استوار کئے گئے صرف وقت گزارنا یا کسی کے ساتھ ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ یہ حقیقی زندگی کے رشتے اور ناطے کہلاتے ہیں، البتہ اگر کوئی شخص ان لمحات کو وقت گزاری، دھوکا دہی اور جعلی دنیا کا نام دے یا انسانیت سوز حرکات کا مرتکب ہو تو وہ اس شخص کا اپنا کردار اور فعل ہو سکتا ہے۔لوگوں کو دکھ دینے جھوٹے اور نوسرباز لوگ ہماری روزمرہ کی عملی زندگی میں بھی لوگوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں اور دھوکا و فراڈ کے مرتکب ہوتے ہیں، یہ سوشل میڈیا پر کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

زندگی میں کسی شخص سے توقعات کا جہاں تک تعلق ہے وہ اس طور ہے کہ کسی انسان سے مثبت، تعمیری ، اخلاقی اور جاندار توقع قائم کر لینا فطرت انسانی میں ہے ۔ اس ضمن میں توقع قائم کرنے والا شخص بے وقوف یا لاعلم نہیں ہے بلکہ وہ معراج انسانی سے روشناس ہوتا ہے۔ کسی شخص کا مثبت اور معاشرے کو فائدہ پہنچنے والے عوامل میں ساتھ دینے کے لئے احساس ہونا ضروری ہے، جان پہچان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ ایسی باتیں وقت گزاروں اور مفادات پرست لوگوں کی تو ہو سکتی ہیں لیکن انسانیت کے خیرخواہوں کی کبھی نہیں۔الفت انسانوں میں کسی کی شکل و صورت،

کردار، فعل اور باتوں سے ہو سکتی ہے اور دوسرے شخص کے دل کو راغب اور شہود پر جاذب ہو جانے والے کسی بھی نکتہ سے ہو سکتا ہے۔ الفت و محبت جانوروں، نباتات، جمادات اور دیگر بے جان اشیاء سے ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں اجنبی سے محبت بھی ہو سکتی ہے اور یہ قائم شدہ مراسم تاحیات پائیدار اور دیرپا رہتے ہیں۔ لوگوں میں بالخصوص نوجوان نسل نے مقدس رشتوں، الفت و محبت، خلوص اور احساس کی اصل ہیئت و حیثیت کو بدل کرانا پرستی، بے توقیری، نفرت،مفادات اور بے حسی میں مدغم کر رکھاہے۔ اجنبی وہ جو اعلیٰ ظرف اور وفا کے پیکر ہوں۔ یاد رہے کہ موجودہ پراگندگی کی حالت میں دوستوں اور محبتوں کے رشتوں میں آستین کے سانپ بھی پھنکارتے رہتے ہیں اوراس لئے اجالے میں جاگتے ہوئے بھی لاشعور و تحت الشعور کو جگانا پڑتا ہے۔

ہر ایک سے ہمدری سے پیش آئیں،مخلص رہیں اور اچھا مشورہ دیں یہی تو زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ جان پہچان بھی گفت و شنید سے ہوتی ہے، کوئی بھی انسان ماں کے پیٹ سے جنم لیتے ہوئے کسی کو نہیں جانتا بل کہ وہ معاشرے میں بات چیت کرتا ہے اور ہر ایک کو جاننا اور پہچاننا شروع کر دیتا ہے،آپ لوگوں کو سمجھنے کے بجائے نظرانداز کرتے رہیں تو یہ صرف ذاتیات اور مطلب اور معراج انسانیت کے خلاف ہے۔سوشل میڈیا کے تمام ذرائع اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور موبائل اپلیکشنز (Facebook, Twitter, Snapchat, WeChat, WhatsApp, Kashbook etc.) جعلی دنیا یا وقت گزاری کے لئے نہیں ہیں، یہ تمام ذرائع نوسربازی اور مکاری کے لئے نہیں ہیں بلکہ سوشل و ڈیجیٹل میڈیا(Social & Digital Media) برقی دنیا سے عملی دنیا کا سفر ہے اور سوشل میڈیا رابطوں کو برقی دنیا سے حقیقی دنیا میں منتقل کرتا ہے اور یہی جدید اور موجودہ زندگی کا حسین امتزاج ہے۔

خواجہ ناظم عثمانی

آپ جنت ارضی اور برصغیر کے سر کا تاج ریاست جموں کشمیر و تبت ہا کے ماہ پارہ علاقہ مچھیارہ نیشنل پارک، وادی کوٹلہ، مظفرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے معاشرے سے معاشرتی و سماجی برائیوں کے سدباب کے لئے ریاستی و بین الاقوامی اخبارات، رسائل و جرائد میں بیسیوں مضامین منصہ شہود پر آئے جن کو عوام الناس میں بھرپورپذیرائی حاصل ہوئی۔ آپ مشرقی معاشرہ کے سماجی تغیر و تبدل کی منظر کشی کرنے والی کتاب "خواہشوں کا ایندھن" کے مصنف بھی ہیں۔ آپ نے بحیثیت ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہفت روزہ پیام کشمیر اپنی صحافتی خدمات سرانجام دیں۔ آپ جولائی ۲۰۱۶ء میں پسے ہوئے طبقات، مزدوروں و محنت کشوں کی جماعت نیشنل لیبر کونسل جموں کشمیر کے مرکزی سیکرٹری متمکن ہوئے۔ آپ بالخصوص مشرقی معاشرہ اور بالعموم دنیا کو عالمی گاؤں کی طرح دوستانہ گاؤں بنانے کا ایک سنہری تصور بھی رکھتے ہیں اور اس نسبت حال ہی میں آپ نے ایک نیا سماجی، معاشی و سیاسی نظریہ عبوری موسومہ ’’عرشیات‘‘ تخلیق کیا جو ابھی نوک پلک سے گزر رہا ہے۔

خواجہ ناظم عثمانی