تازہ ترین
نئی حکومت کو درپیش بڑے چیلنجزکشمیراورفلسطین میں قتل عام جاریبھارتی دہشت گردی نے کشمیر کوموت کی وادی بنا دیاووٹ کا درست استعمال ہی قوم کی تقدیر بد لے گادہشت گرد متحرکنئے سال کا سورج طلوع ہوگیااسٹیبلشمنٹ کے سیاسی اسٹیج پر جمہوری کٹھ پتلی تماشاحکومت آئی ایل او کنونشن سی 176 کوتسلیم کرےجمہوریت کے اسٹیج پر” کٹھ پتلی تماشہ“ جاریدہشت گردی کا عالمی چمپئنالیکشن اور جمہوریت کے نام پر تماشا شروعافریقہ، ایشیا میں صحت بخش خوراک عوامی دسترس سے باہردُکھی انسانیت کا مسیحا : چوہدری بلال اکبر خانوحشی اسرائیل نے غزہ کو فلسطینی باشندوں کے قبرستان میں تبدیل کر دیا”اسٹیبلشمنٹ “ کے سیاسی اسٹیج پر ” نواز شریف “ کی واپسیراکھ سے خوشیاں پھوٹیںفلسطین لہو لہو ۔ ”انسانی حقوق“ کے چمپئن کہاں ہیں؟کول مائنز میں انسپکشن کا نظام بہتر بنا کر ہی حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہےخوراک سے اسلحہ تک کی اسمگلنگ قومی خزانے کو چاٹ رہی ہےپاک فوج پاکستان میں زرعی انقلاب لانے کیلئے تیار

افریقہ، ایشیا میں صحت بخش خوراک عوامی دسترس سے باہر

africa, asia main healthy diet awami dastaras se bahir
  • واضح رہے
  • دسمبر 1, 2023
  • 9:16 شام

پاکستان سمیت دنیا کے بعض خطوں میں کھانے پینے کی اشیا کی بلند قیمتوں اور بڑھتی غربت نے اچھی خوراک کا حصول مشکل بنا دیا ہے

عالمی اقتصادی جریدے ’’ویژوئل کیپیٹلسٹ‘‘ نے ورلڈ بینک کے اعداد وشمار کی مدد سے ایسا نقشہ تیار کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔

افریقہ اور ایشیا کے ملکوں میں غذائی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہاں اُن لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جنہیں مناسب خوراک میسر نہیں یا وہ اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ جبکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ملک ہے۔

africa, asia main healthy diet awami dastaras se bahir

فوڈ اَن افورڈیبلیٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں 82.8 فیصد لوگ صحت بخش خوراک افورڈ نہیں کر سکتے۔ مذکورہ فہرست میں پاکستان 22 ویں نمبر پر موجود ہے اور نقشے میں پاکستان کو انتہائی سرخ رنگ کے اندر رکھا گیا ہے۔

اس فہرست میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ جن میں بھارت کا 30 واں نمبر ہے۔ جبکہ نیپال 29 ویں نمبر پر موجود ہے۔ خوراک کی خراب صورتحال میں بنگلہ دیش کو 41 ویں اور سری لنکا کو 53 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

انڈیکس میں افریقی ملک مداگاسکر سرفہرست ہے جہاں پر 97.8 فیصد عوام مناسب خوراک سے محروم ہیں۔ برونڈی اور ملاوی میں یہ نمبر 95.9 فیصد ہے۔ جمہوریہ وسطی افریقہ میں ہیلدی ڈائٹ 94.6 فیصد لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ یوں ہیٹی کو چھوڑ کر ابتدائی بیس ممالک میں تمام افریقی ریاستیں ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق جس گھر میں کھانے پینے کی اشیا پر اس کی آمدنی کا 52 فیصد سے زیادہ خرچ ہو اسے قوت خرید سے باہر تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک یہ بھی کہتا ہے کہ پبلک ہیلتھ ایجنسیوں کی طرف سے اچھی ڈائٹ کا یہ سب سے کم تخمینہ ہے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے