تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

پاکستان سُپر لیگ میں صفر کا سفر

پشاور زلمی کے اوپننگ بیٹسمین کارمران اکمل
  • واضح رہے
  • اپریل 7, 2019
  • 9:42 صبح

سب سے زیادہ مرتبہ بغیر کوئی رن بناکر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں کامران اکمل سرفہرست ہیں۔

پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) جہاں ہر گزرتے سیزن کے ساتھ مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہی ہے وہیں لیگ میں صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ پی ایس ایل کے اب تک ہونے والے چار ایڈیشنز میں 140 کھلاڑی بغیر کھاتہ کھولے پویلین لوٹے، جن میں سب سے زیادہ ’’ڈک‘‘ سیزن فور میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ پی ایس ایل میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آوٹ ہونے کا منفی ریکارڈ پشاور زلمی کے اوپننگ بیٹسمین کارمران اکمل کے پاس ہے، جنہوں نے 2016 سے 2019 تک کھیلے گئے ایونٹس میں 8 بار صفر پر اپنی وکٹ گنوائی۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم ہیں، جو مجموعی طور پر 5 بار صفر پر آؤٹ ہوئے۔

4مرتبہ بغیر کوئی رن بناکر آئوٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد 6 ہے۔ ان میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سابق کھلاڑی کیون پیٹرسن، اسلام آباد کے لیوک رونکی، شاداب خان اور کیمرون ڈلپورٹ، کراچی کنگز کے مڈل آرڈر بلے باز بابر اعظم اور فاسٹ بالر محمد عرفان شامل ہیں۔ واضح رہے کہ محمد عرفان پی ایس ایل تھری میں لاہور قلندرز کا حصہ تھے اور قلندرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے بھی وہ 2 بار صفر آؤٹ ہوئے تھے۔

اسی طرح اسلام آباد یونائیٹڈ کے جارح مزاج آل راؤنڈر آصف علی، پشاور زلمی کے صہیب مقصود، کراچی کنگز کے عمر خان اور لاہور قلندرز کے سابق کپتان برینڈن میکولم کی اننگز کا 3،3 مرتبہ صفر پر خاتمہ ہوا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سُپر لیگ کے ٹاپ 10 ’ڈک‘ کھلاڑیوں کی فہرست میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کیمرون ڈلپورٹ بھی نمایاں ہیں۔ یہ وہی ڈلپورٹ ہیں جنہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے پی ایس ایل فور میں 117 رنز کی دوسری بڑی انفرادی اننگز کھیلی تھی، مگر اسی سیزن میں انہیں تین بار صفر پر آؤٹ ہونے کی ہزیمت بھی اٹھانا پڑی۔

کامران اکمل بھی پی ایس ایل فور میں 3 بار صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل 2018 میں ہونے والے پی ایس ایل ٹورنامنٹ میں بھی کامران اکمل تین بار بغیر کھاتہ کھولے پویلین لوٹے تھے۔ جبکہ پی ایس ایل 2017 میں وہ 2 بار ’ڈک‘ ہوئے تھے۔

پی ایس ایل کے افتتاحی ایونٹ کی بات کی جائے تو اس میں صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد 28 رہی، جو باقی تین ایونٹس کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ پی ایس ایل 2016 کی صفر پر آؤٹ ہونے کی فہرست میں عماد وسیم 3 ’ڈک‘ کے ساتھ ٹاپ پر رہے۔

2017 میں صفر پر وکٹ گنوانے والے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ تعداد 31 تک جا پہنچی۔ اس بار سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر پویلین لوٹنے کا منفی ریکارڈ صہیب مقصود کے نام رہا۔ وہ بھی 3 بار ہی بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے تھے۔

2018میں پی ایس ایل کے صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی فہرست مزید دراز ہوگئی اور اب 37 کھلاڑی ایسے تھے جنہوں نے ’ڈک‘ پر اپنی وکٹ گنوائی۔

اس سال پی ایس ایل فور میں مجموعی طور پر 44 کھلاڑیوں کی اننگز کا خاتمہ صفر پر ہوا، جن میں عمر خان، کامران اکمل، کیمرون ڈلپورٹ، فواد احمد، محمد عامر، کولن منرو، حسین طلعت، محمد آصف اور لیوک رونکی نمایاں ہیں۔

اعداد و شمار کے حساب سے 2019 پی ایس ایل میں سب سے زیادہ یعنی 44 ’ڈک‘ کا ریکارڈ قائم ہوا۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے