تازہ ترین
امریکہ: آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی واپسجنونی فوٹو گرافر نے گھر کو کیمرے میں ہی بدل ڈالاوزیراعظم عمران خان کا آج دیا مربھاشا ڈیم کے دورے پر جانے کا پروگرامایران، انڈیا تجارتی تعلقات: ایران نے چاہ بہار بندرگاہ کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے کے منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیاوزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس،کےالیکٹرک کے معاملے پر فیصلہ نہ ہو سکا“ریتلا علاقہ مگر تعلیم کے اعتبار سے زرخیز”تعمیرات کیلئے 31دسمبر تک مراعات، سرمایہ کاری اور گھر کی خریداری پر رقوم کے ذرائع نہیں پوچھے جائینگے،نسلی تعصب کی بات کرتے ہوے مائیکل ہولڈنگ ابدیدہ ہو گےوفاقی حکومت کا ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کرنے پر غورمحکمہ جنگلات کے سیکرٹری کپٹین (ر) محمد آصف کاچھانگا مانگا جنگل کا تفصیلی دورہاسلام آباد مندر کی تعمیرعیدالاضحیٰ تعطیلاتپنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن نے فیصل آباد ڈویژن کے الیکشن کو غیر آئینی قرار دے دیاخانیوال 7 جولائی 2020 واضح رہے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کبیروالہتیری یاد آئی تیرے جانے کے بعدشین چین جی چرچ کے چار ہزرا اراکین نے پلازمہ عطیہ کیا،مین ہی لیفیصل آباد ڈویژنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے غیر قانونی الےکشنبلوچستان کے لاپتہ افراد: لاپتہ ہونے سے قبل والد کو سیاسی نظریات کی وجہ سے دھمکی آمیز فون آتے تھےچین کے ساتھ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کے لیہ دورے کے کیا معنی ہے؟تاجروں کا مارکیٹوں سے لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ

 ذمہ دار کون ہے

  • راجہ فیصل اقبال
  • مئی 19, 2020
  • 4:42 شام

کچھ عرصہ قبل راقم کو لاہور کے ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ جس میں لاہور پولیس نے ایک گیسٹ ہاوس پر چھاپہ مارا انھوں نے کئ لڑکے اور لڑکیوں کو گرفتار کیا ۔

یہ ایک قابل تحیسن عمل تھا ۔ مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی کہ انھوں نے جب ان سب جوڑوں کو گرفتار کیا تو وہ انتہائی قابل اعتراض میں تھے پولیس نے نہ صرف اُن کی ویڈیوں بھی بنائی بلکہ انھوں نے لڑکیوں کے ساتھ بہت ہی نازیبا الفاظ استعمال کیےبلکہ اُن کو اپنے چہرےدیکھنانے پر مجبور کیا اور پھر ویڈیوں بنائی ۔اور پھر اُس ویڈیوں کو وائرل بھی کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کوئی اچھا کام نہیں کرہی تھی ۔ مگر بعض اوقات انسان کو جو چیز سامنے دیکھتی ہے پس پردہ اُس کے حقائق کوئی اور ہوتے ۔

ان میں کئی لڑکیا ں ایسی ہونگی جو کسی مجبوری کی وجہ سے کام کر رہی ہوں بہت سی بھی اُسی بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی کیس نادانی کی وجہ سے اس جرم میں آگئی ہوں ۔ وقت کے ساتھ اُن کو شاہد احساس ہوجاتا وہ اس دلدل سے نکل جاتی ۔ یہ بات ایک علاقے تک ہی محدود رہتی ۔ شاہد انھیں بھی کبھی کسی وقت زندگی گزارنے کا موقع مل جاتا ۔ مگر جب ایک عورت کی ویڈیو پورے ملک میں وائرل ہو جاتی ہے ۔ تو وہ اگر اس دلدل سے نکلنا بھی چائے تو کیا وہ کبھی نکل سکی گی نہیں اگر وہ کوشش کرے گی تو زمانہ اُسے نہیں نکلنے دے گا ۔ اس کا ذمہ دار کون ہو گا ۔

طرح ایک ویڈیو حال میں موٹر وے پولیس کی طرف سے وائرل ہوئی  جس میں ایک کمسن لڑکی کے چہرے کو بار بار دیکھایا گیا۔ آخر ان ویڈیوز کو وائرل کرکے کہ ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ صرف اپنی کارکردگی کو دیکھانے کے لیے ہم کسی کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دیتے ہیں یہ کیسا انصاف ہے

اسی طرح میں آپ سب کی توجہ مظفرآباد میں ہونے والے ایک واقع کی طرف دلانا چاہوں گا ۔ حبیب بنک لمٹیڈ مظفرآباد کے ریجنل ہیڈ جو کے کافی عرصہ سے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مصروف تھے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ موصوف لڑکیوں کو جاب اور پرموشن کا لالچ دے کر اپنی حوس کا نشانہ بناتے تھے ۔ اور پھر اُن کی ویڈیوں بھی بناتے تھے ۔

اخرکار ہماری بہادر پولیس نے اُن کو ایک دن رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ یہ ہماری پولیس کا ایک اچھا کارنامہ ہے ۔ کہ انھوں نے اس درندے کے ہاتھوں مزید معصوم لڑکیوں کو شکار ہونے سے بچایا ۔ پولیس نے وہ موبائل بھی برآمد کر لیا جس میں ویڈیوں بنائی گئی تھی ۔ مگر میں ایک بار پھر انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہوں گا کہ موبائل سے برآمد ہونے والی تمام ویڈیوں وائرل ہو گئی ۔ جن لڑکیوں نے اپنی نادانی میں اس گھناونے جرم کا ارتکاب کیا ہو سکتا کہ وہ دوبارہ ایسا نہ کریں مگر یہ ویڈیوں وائرل ہونے کے بعد یہ معاشرہ اُن کو جینے دے گا کشمیر ایک چھوٹا سا علاقہ ہے یہاں تو ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے ۔ کیا عزت ہو گی ان کے والدین کی اس معاشرے کی کیا ایسا ممکن نہ تھا کہ پولیس ان ویڈیوز کو اپنے تک محددو رکھتی ۔ تو شاہد اُن معصوموں کی عزت بچ جاتی جو نادانی اور لالچ میں یہ حرکت کر بیھٹی ہیں ۔ آب معاشرہ جو ساری زندگی اُن کو لعن طعن کرے گا ۔ کون ذمہ دار ہے اس کا ۔ ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ اگر تم کسی کے عیب کا پردہ رکھوں گے اللہ تعالیٰ تمارے پردہ رکھے گا ۔

میں اُن تمام حضرات یہ گزارش کرتا ہوں کہ خدا رہ اگر آپ کے پاس کوئی اس قسم کی ویڈیو آجائے تو اُسے مت وائرل کریں اُسے ڈیلٹ کریں جب ہم برائی کو دفن کریں گے تو برائی ختم ہو گی ۔ میں اُن اعلیٰ خُکام سے بھی گزارش کرتا ہے کہ ان اداروں کو اس بات پر پابند کریں کہ وہ اس طرح کے مواد کو اگے نہ پھیلائیں اُن سے حلف نامہ لیں ۔ اگر کسی پر اس کا ارتکاب ثابت ہو جائے اُس کے خلاف کاروائی ہونے چائے۔

راجہ فیصل اقبال

راجہ فیصل اقبال مظفرآباد آزاد کشمیر E-mail raja.faisal1980@yahoo.com

راجہ فیصل اقبال