تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بیان بازی تک محدود

مسئلہ کشمیر پر پالیمیٹ کا مشترکہ اجلاس بیان بازی تک محدود
  • واضح رہے
  • اگست 6, 2019
  • 9:29 شام

وزیر اعظم بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف کوئی مربوط پالیسی وضع نہ کر سکے۔ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کو تجاویز پیش نہیں کی گئیں۔

مسئلہ کشمیر اور آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے معاملے پر وزیراعظم کے پالیسی بیان، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے خطاب کے بعد اسپیکر اسمبلی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا ہے۔

مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس اجلاس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، اس اجلاس کو صرف پاکستانی قوم نہیں دیکھ رہی بلکہ کشمیری اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کیلئے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا دورہ اسی کوشش کی کڑی تھی کہ بھارت کے ساتھ ماضی میں جو بھی مسائل تھے وہ ختم ہوں تاکہ پاکستان کو استحکام ملے، ترقی ملے اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد پلوامہ واقعہ ہوا۔ نریندر مودی کو سمجھایا کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، لیکن اس وقت بھارت میں انتخابات تھے اور انہیں کشمیر میں ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا مقصد جنگی جنون اور پاکستان مخالف جذبات پیدا کر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا تھا، بھارت نے ڈوزیئر بعد میں بھیجا طیارے پہلے بھیجے اور پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیا، ہم نے ان کا پائلٹ پکڑا تو یہ بتانے کے لیے رہا کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم بھارتی انتخابات تک خاموش ہوگئے، بشکیک میں منعقد کانفرنس میں بھارت کا رویہ دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں، اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اس لئے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دو طرفہ طور پر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا اور برصغیر میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایک ارب افراد متاثر ہورہے ہیں اس لئیے امریکی صدر سے ملاقات میں درخواست کی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کا رد عمل آپ کے سامنے تھا۔

عمران خان کے مطابق بھارت نے یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا بلکہ یہ ان کے انتخابات کا منشور تھا اور یہ ان کا بنیادی نظریہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے، یہ صرف ہندوؤں کا ملک ہوگا۔ آج جو بھارت میں ہورہا ہے ہم اس کے مخالف ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت جب گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے اور لوگ انہیں مار دیتے ہیں، جو انہوں نے کل کشمیر میں کیا، پچھلے 5 برس جو تشدد کیا اور جو مسیحی برادری کے ساتھ کیا یہ بھارت کا نظریہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نسل پرست نظریے سے ہیں، کشمیر میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا لیکن وہ اپنے ملک کے آئین، اپنی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر کے فیصلے کے خلاف گئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور شملا معاہدے کے خلاف گئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے خلاف ہے، اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے نظریے کیلئے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے، بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مزید دبانا ہے، وہ انہیں اپنے برابر نہیں سمجھتے کیونکہ اگر وہ کشمیریوں کو اپنے برابر سمجھتے تو وہ جمہوری طور پر کوئی کوشش کرتے۔

وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کی تو اس کا ردعمل آئے گا۔ آئندہ پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہوگا اور بھارت وہی کہے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد آئی جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ بھارت اب کشمیریوں کی نسل کشی کرے گا، لوگوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہاں دوسری اکثریت آجائے اور کشمیری غلامی تلے دب جائیں۔ بھارت جب یہ سب کچھ کرے گا اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد سے میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ دو جوہری ممالک ایسے خطرات مول نہیں لے سکتے، ہمیں اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں، انہوں نے مزید کہا کہ جب ایسا کچھ ہوگا تو صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے اور ہم اس کا جواب نہ دیں جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر لڑیں گے، ہم غور کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی عدالت انصاف میں کس طرح اس معاملے کو اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف ممالک کے سربراہان سے اس سلسلے میں بات کریں گے۔

وزیراعظم کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ مودی سرکار نے پاکستان کی عزت اور غیرت کو للکارا ہے ہم نہ فلسطین ہیں اور نہ اس خطے میں اسرائیل بننے دیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کے وجود کے ساتھ پاکستان کا براہ راست تعلق ہے، پاکستان کشمیریوں کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ہیں۔ خصوصی حیثیت ختم کرکے مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا ہے اور کشمیر کی وادی میں نہتے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین سفاکی ہوئی ہے، یہ وہ عظیم سانحہ ہے جس کا براہ راست پاکستان کی زندگی سے تعلق ہے۔

انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی حکومت بتائے کہ اس واقعے کو 24 گھنٹے ہوچکے ہیں اور 48 گھنٹے ہونے والے ہیں ان کی کیا حکمت عملی ہے۔ حکومت مودی کے اس حملے کا جواب دینے کیلئے کیا منصوبہ بندی کررہی ہے۔ آج پوری قوم وزیراعظم سے سننا چاہتی ہے کہ ہم کیا منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا، وہاں نسل کشی کا خطرہ ہے۔ مودی نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے اور مہذب دنیا کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بحیثیت قوم کشمیریوں کے ساتھ روایتی باتوں اور متفقہ قرارداد سے بات نہیں بنے گی پاکستان کو آج ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتا چل سکے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں ثالثی کیلئے تیار ہوں اور مودی نے بھی اس کا اشارہ دیا تھا مگر وزیراعظم وطن واپس آئے اور چند دنوں میں سارا معاملہ پوری دنیا کے سامنے آگیا کہ نریندر مودی نے نہ صرف ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کی نفی کی بلکہ اس نے کشمیر میں جو کرنا تھا کل اور پرسوں کردکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کیلئے ہم شاندار اسٹیج سجائیں اور کشمیر میں دن رات خون بہایا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے۔ ہم کابل میں امن چاہتے ہیں اور مودی اس کا مخالف ہے، ہم امن کے لیے سب کچھ جھونک دیں اور ہماری اس کوشش کا اس طرح بدلا دیا جائے، شہباز شریف نے مزید کہا کہ بتایا جائے ثالثی کی پیشکش امریکی صدر کا ٹرمپ کارڈ تھا یا ٹریپ کارڈ تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مودی نے شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے اس سے پہلے وہ شہ رگ کو کاٹے ہم اس کے ہاتھ کاٹ دیں لیکن باتوں سے نہیں، یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ ہم ایک ہیں اور بھرپور مقابلہ کریں گے، آج سے پہلے اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔