تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

یوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیا

یوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیا
  • واضح رہے
  • ستمبر 6, 2019
  • 4:26 شام

ویب سائٹ انتظامیہ نے دوسری سہ ماہی کے دوران 50 کروڑ نفرت انگیز کمنٹس، ایک لاکھ ویڈیو اور 17 ہزار چینلز ڈیلیٹ کر دیئے ہیں

انٹرنیٹ پر مذہب، نسل اور سیاست کی بنیاد پر نفرت اور شر انگیز مواد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فیس بُک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس کو اس چیلنج کا سامنا ہے۔ جبکہ ویڈیو شیئرنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ یوٹیوب بھی نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے خود کار سسٹم کے تحت کام کر رہی ہے۔

یوٹیوب نے محض 90 روز کے اندر پالیسی کی خلاف ورزی پر مبنی 50 کروڑ کمنٹس کو حذف کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر نفرت انگیز تبصروں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ ویڈیوز اور 17 ہزار چینلز (اکاؤنٹس) کو بھی اڑا دیا گیا ہے، جہاں سے نفرت اور شر انگیزی کو ترویج دی جا رہی تھی۔

کمپنی نے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ہیٹ اسپیچ قوانین کے تحت ڈیلیٹ کئے جانے والے کمنٹس کی موجودہ تعداد پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں دوگنی ہوگئی ہے۔

نفرت انگیز مواد کیخلاف بڑے پیمانے پر ’’کارروائی‘‘ یوٹیوب کی جون میں جاری کردہ پالیسی کے تحت عمل میں آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ نسلی امتیاز، عمر، جنس اور مذہب کے نام پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز کو بلاک کر دیا جائے گا۔

یوٹیوب کی نئی پالیسی میں نازی نظریے کے فروغ اور ہولوکاسٹ اور اسکول پر فائرنگ جیسے ایونٹس کو نہ ماننے والے مواد پر مبنی ویڈیوز کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یوٹیوب نے پہلی سہ ماہی کے دوران 24 کروڑ ایسے کمنٹس کو ڈیلیٹ کیا تھا، جو نفرت انگیزی پھیلانے کے زمرے میں آتے تھے۔ جبکہ 10 ہزار سے زائد ویڈیوز بھی خارج کردی گئی تھیں۔ ان سب کے باوجود یوٹیوب کو نفرت اور شرانگیزی کے ساتھ ساتھ صارفین کی جانب سے خطرناک رویے کو اپنی ویب سائٹ پر پھیلنے سے روکنا چیلنج موجود ہے۔

اگرچہ کہ یوٹیوب از خود نشاندہی تکنیک کا استعمال کرکے نفرت انگیز مواد کو ہٹانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے، تاہم اس کا جدید نظام فی الحال اتنا موثر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یوٹیوب اپنے صارفین سے نفرت اور شر انگیز مواد کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کرتا ہے۔