تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

’’یہ پھل ہر قسم کی زمین میں کاشت کیا جاسکتا ہے‘‘

انگور کا پھل
  • واضح رہے
  • اپریل 7, 2019
  • 11:06 شام

زرعی ماہرین نے بتایا ہے کہ انگور ایک ایسا خوش ذائقہ اور فرحت بخش پھل ہے، جس میں کیلشیم، فاسفورس اور فولاد کے علاوہ وٹامن اے اور بی موجود ہے۔

انگور کی کامیاب کاشت کیلئے درمیانی زرخیز ہلکی میرا اور مناسب مقدار میں نامیاتی مادہ رکھنے والی زمین موزوں ہے۔ البتہ کلر اٹھی سیم زدہ بھاری میرا زمین انگور کی کاشت کیلئے مناسب نہیں۔ اس کے علاوہ ایسی زمین جس میں پانی دیرتک کھڑا رہ جائے انگور کی کاشت کیلئے موزوں نہیں، کیونکہ ایسی زمین میں انگور کی بیلوں کو خوابیدگی کی حالت میسر نہیں ہوتی۔ انگور کی افزائش نسل قلموں کے ذریعے کی جاتی ہے، قلمیں ان بیلوں سے حاصل کی جائیں، جن کی شاخیں صحت مند اور توانا ہوں اور زیادہ سے زیادہ پھل دینے کی صلاحیت رکھنے کے علاوہ ہر قسم کی بیماریوں سے بھی پاک ہوں۔ انگور کے پودے لگانے کیلئے کالے رنگ کے پلاسٹک بیگ جن کی لمبائی 9 انچ اور چوڑائی 6 انچ ہو استعما ل کیے جاتے ہیں۔ بیج کے نچلے حصے پر پانی کی نکاسی کیلئے 9 سے 10 سوراخ بنائے جاتے ہیں۔ کامیاب پودے تیار کرنے کیلئے بھل پانچ حصے اور گلی سڑی گوبر کی کھاد ایک حصہ ملا کر پلاسٹک بیگ میں بھر دی جاتی ہے۔ قلموں کو عمودی شکل میں اس طرح لگایا جائے کہ قلم کا صرف ایک تہائی حصہ زمین کی سطح سے باہر ہو اور بقیہ دو تہائی حصہ زمین میں دبا ہوا ہو۔ قلمیں لگانے کے بعد یہ جزوی سایہ میں سبز رنگ کی نائیلون نیٹ کے نیچے رکھا جاتا ہے، تاکہ درجہ حرارت اور نمی برقرار رہ سکے۔ یاد رہے کہ صرف گوبر کی گلی سڑی کھاد ہی استعمال کی جائے ورنہ دیمک کا حملہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ قلموں کو نرسری میں تقریبا ایک برس رکھنے کے بعد پودے کھیت میں منتقلی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ نرسری کی دیکھ بھال بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہر نرسری کو پانی دینا، گوڈی کرنا اور جڑی بوٹیوں کی تلفی جیسے عوامل باقاعدگی سے سر انجام دیتے رہنا چاہیے۔ علاوہ ازیں دیمک اوردیگر کیڑوں کے حملے سے نرسری کے پودوں کو محفوظ رکھنے کیلئے خاطر خواہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، کیونکہ یہ پودوں کیلئے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بارانی علاقوں کی آب و ہوا انگور کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہے۔ تاہم مون کی بارشیں نقصان دے ہے۔