تازہ ترین
“باغ” ریاست آزاد جموں و کشمیرشیخ خالد زاہدزیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کاکھیل حکومت اور سپانسرز کی سر پرستی کے منتظر ہیں،رانا محمود الحسنرانا عباد کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہےسوشل میڈیا اور واضح رہے کے قواعدآئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردیقومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پرعمل شروع، جم، تھیٹرز اور سینما ہالز کل کھل جائیں گےہاتھی حساس جانور،ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی سن لیتے ہیںبیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

قادیانی کہاں کہاں ہیں

قادیانی
  • واضح رہے
  • اپریل 7, 2019
  • 11:14 شام

پاکستان کی طرح دنیا کے ہر اُس ملک میں جہاں قادیانی پائے جاتے ہیں، وہاں یہ اقلیتی کمیونٹی شمار ہوتے ہیں۔

1974 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کی مذہبی حیثیت واضح کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں ان کے خلیفہ کو بلاکر اس مسئلہ پر بحث کی گئی اور پھر متفقہ طور پر قادیانیوں اور ان سے ملحق دیگر گروپوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔

ان کے خود کو مسلمان کہنے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیدیا گیا۔ پاکستان میں ایک اقلیت ہونے کے ناطے ان کے تمام تر حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور انہیں پوری حفاظت دی جاتی ہے۔

پاکستان سمیت تمام ممالک میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے علاوہ خود قادیانی فورمز آج تک اپنی مجموعی تعداد کا تعین نہیں کر سکے ہیں۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ان کی تعداد ایک کروڑ سے دو کروڑ تک ہوسکتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر قادیانیوں کی تقریباً نصف آبادی صرف براعظم افریقہ میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

قادیانی دعویٰ کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد کروڑوں میں ہے جن میں سے 40 لاکھ صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کو انسائیکلوپیڈیا اور عالمی فورمز بھی حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کی ڈیجیٹل لائبریری کے اعداد و شمار کے مطابق قادیانی پوری دنیا میں موجود ہیں۔ تاہم وکی پیڈیا کا کہنا ہے کہ قادیانی دنیا کے 66 ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ 19 ممالک میں قادیانیوں کے لاہوری گروپ کے افراد موجود ہیں۔ جبکہ کرسٹن انسائیکلو پیڈیا اور ورلڈ ایٹلس کے مطابق قادیانیوں کی اپنی بیان کردہ تعداد درست نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی یقینی تعداد معلوم ہوسکی ہے۔ البتہ ان کی کُل تعداد ایک سے ڈیڑھ کروڑ ہوسکتی ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ قادیانی جن 5 ممالک میں پائے جاتے ہیں ان میں سرفہرست نائجیریا، تنزانیہ، بھارت، نائیجیر اور گھانا شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان اس فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔

ورلڈ ایٹلس کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد 6 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطابق پاکستان میں 4 لاکھ قادیانی بھی نہیں ہیں، کیونکہ راہ حق سے بھٹکنے والے کئی افراد قادیانیت سے تائب ہوکر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل بھی ہوجاتے ہیں، جن کی رپورٹس اور ویڈیوز منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

قادیانی ڈیجیٹل لائبریری کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق درج بالا ممالک کے علاوہ اس کمیونٹی کے افراد دیگر ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں بھی نہیں ہیں۔ جبکہ بہت سے ممالک میں ان کی جو تعداد بتائی گئی ہے وہ 100 سے بھی کم ہے۔ قادیانی برطانیہ، امریکہ، انڈونیشیا، کیمرون، فرانس، آسٹریلیا اور آسٹریا میں بھی قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

ورلڈ ایٹلس کے مطابق ان کی سب سے بڑی تعداد نائیجیریا میں ہے، جو 20 لاکھ سے زائد ہے۔ قادیانی ڈیجیٹل لائبریری کے مطابق روس میں 50، پولینڈ میں 38، اٹلی میں 100، اسرائیل میں 2200، میکسیکو میں 100، جاپان میں 300، نیوزی لینڈ میں 400، مراکش میں 500 قادیانی پائے جاتے ہیں۔ برطانیہ میں قادیانیوں کی تعداد 30 ہزار اور امریکہ میں 15 ہزار بتائی جاتی ہے۔

یورپی ممالک جرمنی میں 35 ہزار، نیدرلینڈز میں 1500، بلجیم میں 1250، فرانس میں 1000، ڈنمارک میں 600 اور آئرلینڈ میں 500 کے لگ بھگ قادیانی مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے برطانوی سامراج کی ایما پر 1857 کی جنگ آزادی کو کچلنے اور مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کو ختم کرنے کیلئے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد ازاں قادیانیت کے پیروکار برصغیر سے دیگر ممالک کی طرف کوچ کرتے رہے اور دنیا بھر میں پھیل گئے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے