تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائے

وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائے
  • واضح رہے
  • اگست 13, 2019
  • 12:10 صبح

بھارت کی جانب سے عید الاضحیٰ پر مقبوضہ وادی میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی۔ سرینگر سمیت اہم شہروں میں لاک ڈاؤن کے باعث عوام اپنے گھروں میں محصور رہے۔

مودی سرکار نے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام کے رد عمل اور مظاہروں کے خوف سے مقبوضہ وادی کو مسلسل آٹھویں روز میں چھاؤنی میں تبدیل کئے رکھا۔ قابض بھارتی فورسز نے سرینگر سمیت اہم شہروں میں مظاہروں سے بچنے کیلئے کشمیریوں کو عید الاضحیٰ کی نماز بھی ادا نہیں کرنے دی۔ مقبوضہ کشمیر میں بڑے اجتماعات پر پابندی بدستور برقرار ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن کے باعث کئی شہروں میں کشمیری عوام اپنے گھروں میں محصور رہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذہبی فرائض کی انجام دہی نہ کرپانے کے باعث کشمیریوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔

ادھر بھارتی وزارت داخلہ نے دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عید ’’پُر امن‘‘ طریقے سے منائی گئی۔ بیان کے بقول بارہمولہ میں ایک بڑے اجتماع نے عید کی نماز ادا کی، جن کی تعداد 10 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں 5 ہزار کشمیریوں نے نماز ادا کی۔ جبکہ کشمیر زون پولیس نے بھی سب ٹھیک ہے کا راگ آلاپتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ وادی میں حالات پُر امن رہے اور عید کی نماز کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

بھارتی دعوے کا پول خود بھارتی ٹی وی چینل NDTV نے پھوڑ دیا اور بتایا کہ بڑے پیمانے پر پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں سڑکیں سنسان رہیں اور جگہ جگہ سیکورٹی فورسز ہی نظر آ رہی تھیں۔ مذکورہ ٹی وی نے بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے کہ یہ عید کشمیر کی نہیں لگ رہی۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں قربانی کے جانوروں کی خریداری بھی شدید متاثر ہوئی، جہاں ماضی میں ہر سال اوسطاً ڈھائی لاکھ جانور قربان کئے جاتے تھے۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق بھارت کے غاصبانہ قبضے کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے رشتہ داروں عزیز و اقارب سے عید بھی نہیں مل پائے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ اور دیگر کمیونکیشن ذرائع کی بندش کے سبب کشمیر سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو رہیں۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر کشمیر میں ہو کا عالم ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سیکورٹی لاک ڈاؤن کا مقصد بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست میں شدید ردعمل سے بچنا ہے جہاں کے زیادہ تر لوگ بھارتی حکمرانی کے خلاف ہیں۔ ہفتے اور اتوار کو کرفیو میں نرمی کرکے کشمیریوں کو عید کی تیاریوں کیلئے خرید و فروخت کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ تاہم اس دوران ہزاروں کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے باعث پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔