تازہ ترین
کورونا کی عقلمندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دینی مدارس رفاہ عام میں سب سے آگےبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہدیکھنا قیمت گلزار بھی گرجائے گیاللہ کی طاقت، کرونا وائرس اور حفاظتی حصارخاموشئی احساس سے مردہ ضمیری تکہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہوآخر دنیا ختم ہونے کی کتنی پیش گوئیاں کی جائیں گی!ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹیآٹا سستا ہونے کے باوجود عوام 70 روپے فی کلو خریدنے پر مجبورکورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کا خطرہسابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئی

ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹی

ترقی کیلئے شرح سود
  • واضح رہے
  • جنوری 31, 2020
  • 5:35 صبح

ہائی انٹرسٹ ریٹ نے صنعتی پھیلائو کا عمل روک دیا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے حکومت اپنی معاشی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ شیخ عمر ریحان

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر شیخ عمر ریحان نے کاٹی اور ایک اسلامی بینک کے اشتراک سے ایس ایم ایز کے بارے میں منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو چاہئے کہ صنعتی شعبے کو فروغ دینے کیلئے شرح سود کو کم کرکے ایک ہندسی سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری مسابقت میں اپنی جگہ نہیں بنا پا رہیں۔ معیشت کی ترقی کے لیے بلا سود بنکاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو کہ اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔

صدر کاٹی شیخ عمر ریحان نے کہا کہ بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتی پھیلائو کا عمل رک گیا ہے۔ نئے صنعتوں کے قیام کی لاگت میں کمی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالیاتی پالیسی کے بارے میں جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شرح ترقی میں کمی آ رہی ہے اور خاص طور پر صنعتی شعبہ مسائل سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی اور زر مبادلہ میں اضافے کے باوجود شرح نمو نہیں بڑھ رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بلند شرح سود کی وجہ سے خصوصاً صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی پیدواری لاگت میں اضافے کے مسائل تو اپنی جگہ موجود ہیں۔ تاہم نئی صنعتوں کے قیام پر آنے والے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود، صنعتی اراضی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور دیگر مسائل کے سبب ملک میں انڈسٹرلائزینش کا عمل رک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات کئے۔ تاہم ہمیں برآمدات کی پیدوار کرنے والی صنعتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں روزگار کی فراہمی اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے مقابلے کیلئے حکومت کو اپنی بنیادی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور بالخصوص شرح سود میں کمی کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔