تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

سویڈن اور سلووینیا کورونا وائرس سے بے نیاز ہوگئے

  • واضح رہے
  • مئی 16, 2020
  • 10:38 شام

سلووینیا ملک سے وبا کے خاتمے کا سرکاری طور پر اعلان کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے تو دوسری جانب سویڈن نے احتیاط برتنے کا معاملہ اپنی عوام پر چھوڑ دیا ہے 

سلووینیا کی حکومت نے ملک میں سرکاری طور پر کرونا کی وبا کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ وہ پہلا یورپی ملک ہے جس نے یہ اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سلووینیا کے حکام کی جانب سے کرونا وائرس کے روزانہ سات سے بھی کم نئے کیسوں کا اعلان کیا گیا۔

سرکاری اعلان کے باوجود شہریوں پر لازم ہو گا کہ وہ اس متعدی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے رہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک سے آنے والے افراد اب کم از کم سات روز کے لیے قرنطینہ میں داخل ہونے کے پابند نہیں رہے۔سلووینیا کی آبادی بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ اطالیہ، آسٹریا، ہنگری اور کروشیا کے مقابل واقع ہے۔

سلووینیا میں 12 مارچ کو کرونا وائرس پھیلنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک اس وبا کے 1464 متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 103 افراد فوت ہو گئے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن غیر ملکیوں پر کرونا کی علامات ظاہر ہوں گی انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یورپی یونین کے باہر دیگر ممالک سے آنے والے افراد کو کم از کم 14 روز تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

ادھر ایک کروڑ آبادی کا ملک سویڈن، کورونا کی وبا کے دوران اپنی بالکل مختلف پالیسی کے باعث دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک کے برعکس سویڈن میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی بجائے شہریوں پر اعتماد کرتے ہوئے سیلف کئیر کے اصول کے تحت سماجی فاصلہ اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

سویڈش حکام کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لوگ اپنےعلاقوں تک محدود ہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کر رہے ہیں۔ روزمرہ ضروریات کی خاطر لوگ گھروں سے باہر تو آ رہے ہیں لیکن اپنے شہر یا ٹاؤن سے باہر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے