تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

جنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

جنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے
  • واضح رہے
  • ستمبر 10, 2019
  • 2:42 صبح

خواتین کو دن دہاڑے ریپ کرنے اور جان سے مار دینے جیسے واقعات کیخلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو حکومت سے ایکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں

جنوبی افریقہ میں اگست کو خواتین کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاہم پچھلے ماہ یعنی صرف اگست میں 30 خواتین کو ان کے شوہروں، پارٹنرز یا بوائی فرینڈز نے قتل کیا، جس کیخلاف عوام نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے ہیں۔

گزشتہ دنوں ہزاروں مظاہرین کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے اور کیپ ٹاؤن انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (سی ٹی آئی سی سی) کی طرف مارچ کیا، جہاں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کا انعقاد کیا جارہا تھا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کیخلاف صدر سیرل رامافوسا ایکشن لیں۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے زیادتی اور پھر اس کے قتل کی خبر پر ہو رہے تھے۔ یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن (یو سی ٹی) میں 19 سالہ طالب علم یوین مسٹرٹیانا 24 اگست کو ایک پارسل لینے کیلئے مقامی پوسٹ آفس گئی تھیں۔ پہلے تو اسے کہا گیا کہ وہ ابھی چلی جائے اور بعد میں آئے جب بجلی آگئی ہوگی۔

جب بعد میں وہ واپس آئی تو اسی ملازم نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے لوٹا دیا تھا۔ اس کا ریپ کرنے کے بعد اسکیل سے متعدد بار ضربیں لگائی گئیں جس کے نتیجے میں یوین ہلاک ہوگئی۔ دو ستمبر کو 42 سالہ ملازم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے عدالت میں زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا۔

اس قتل کے بعد پورے جنوبی افریقہ میں خواتین کے غم و غصے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ہیش ٹیگ #AmINext ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔ بہت سی خواتین نے زیادتی میں ملوث افراد کے ناموں سمیت ان کی تفصیلات آن لائن شیئر کی ہیں، جس سے ملک میں ایک اور تنازع نے جنم لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں جنوبی افریقہ میں مالی بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے اور مقامی افراد کی جانب سے غیر ملکیوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسہ نے کہا کہ قوم شدید غم میں ہے۔ خواتین کے قتل پر ہم سب بہت زیادہ پریشان ہیں۔ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی اپنے اختیار میں رہتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے سختی سے نمٹا جائے۔

جنوبی افریقی پولیس سروس کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ سال 2017-18 میں 20 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا گیا، جن میں تین ہزار کے قریب خواتین تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں ہر تین گھنٹے میں ایک عورت کا قتل کیا جاتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والے ایک گروپ اس صورت حال کو وبا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کا قتل اور ان پر تشدد اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خواتین رات کو ہی نہیں بلکہ دن میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ اب خواتین کیخلاف دن کی روشنی میں بھی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔