تازہ ترین
برش فائر بز کا باضابطہ آغاز: نیکسٹ جنریشن بزنس ڈائریکٹری پلیٹ فارمزیڈ کے لوکل کا باضابطہ آغاز: مقامی کاروباروں کے لیے جدید آن لائن ڈائریکٹریچپو سے چمکتے ستارے: پاکستانی روئنگ ٹیم کی تاریخی جیت مگر خاموشی کیوں؟ڈونلڈ ٹرمپ آج امریکہ کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گےسابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگوتعلیمی نظام میں سیمسٹر سسٹم کی خرابیاں24 نومبر فیصلے کا دن، اس دن پتہ چل جائے گا کون پارٹی میں رہے گا اور کون نہیں، عمران خانایشیائی کرنسیوں میں گراوٹ کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی جیت ڈالر کو آگے بڑھا رہی ہے۔امریکی صدارتی الیکشن؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے میدان مار لیاتاریخ رقم کردی؛ کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑوں گا؛ ٹرمپ کا حامیوں سے فاتحانہ خطابیورو و پانڈا بانڈز جاری کرنے کی حکومتی کوشش کی ناکامی کا خدشہکچے کے ڈاکوؤں پر پہلی بار ڈرون سےحملے، 9 ڈاکو ہلاکبانی پی ٹی آئی کے وکیل انتظار پنجوتھہ اٹک سے بازیابایمان مزاری اور شوہر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالےپشاور ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنیکا حکم’’سلمان خان نے برادری کو رقم کی پیشکش کی تھی‘‘ ؛ بشنوئی کے کزن کا الزامالیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جماعت تسلیم کر لیابشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہا ہو کر پشاور پہنچ گئیںجسٹس منیر سمیت کتنے جونیئر ججز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنےآئینی ترمیم کیلئے حکومت کو کیوں ووٹ دیا؟مبارک زیب کا ردعمل سامنے آ گیا

انسدادِ جرائم کی عالمی تنظیموں کے متعلق برطانوی بزنس مین کا بڑا انکشاف

so called human rights organizations exposed
  • واضح رہے
  • اکتوبر 18, 2020
  • 4:30 شام

انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن جرائم کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ جرائم ختم ہوگئے تو ان کی دکان بند ہوجائے گی۔ اسد شمیم

برمنگھم: پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین اسد شمیم نے دنیا بھر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، نت نئے اقسام کے جرائم اور معاشرتی خرابیوں کا ذمہ دار انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ جرائم کے خاتمے یا روک تھام کیلئے بننے والے عالمی اور ملکی سطح کے ادارے اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو رہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف قسم کے جرائم میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسد شمیم نے سوال اٹھایا کہ ڈکیتی، مالی بدعنوانی، اغوا برائے تاوان اور زیادتی جیسے کریہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے عناصر کو سخت سے سخت سزائیں دے کر نشان عبرت کیوں نہیں بنایا جاتا، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص غلط کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔

انہوں نے جرائم کے خلاف خود ساختہ طور پر لڑنے والی اکثر عالمی، مقامی اور غیر سرکاری تنظیموں/ آرگنائزیشنز کو ڈھونگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں جرائم کے خاتمے کیلئے پروگرامز بنائے جاتے ہیں۔ مختلف این جی اوز کی فنڈنگ کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں لاقانونیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ برصغیر کی ہی مثال لے لیں جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں آگاہی مہمات کے باوجود زیادتی کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

 

so-called-human-rights-organizations-exposed

 

انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی تو کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن مجرم کو پھانسی پر لٹکانے کی بات پر انہیں خود موت آجاتی ہے۔ عوامی احتجاج پر بنگلہ دیش کی حکومت نے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، جو قابل تحسین ہے۔ جبکہ بنگلہ دیشی عدالت کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں 5 مجرمان کو سزائے موت بھی دے دی گئی ہے۔ تاہم اس میں بنگلہ دیش کے اُن اداروں، تنظیموں یا آرگنائزیشن کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، جو جنسی زیادتی کیخلاف بڑھ چڑھ کر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔

دراصل انسداد جرائم کے نام پر قائم تنظیمیں اپنی دکانیں چمکا رہی ہیں۔ جرائم ختم ہوگئے تو ان کی دکان بند ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس ضمن میں سامنے آنے والا مؤقف مجرمان کو بالواسطہ تحفظ فراہم کرنے کے عمل کا واضح ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ کہتا ہے زیادتی کے جرم کو سزائے موت مسئلے کا حل نہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیشلیٹ کا کہنا ہے کہ زیادتی بڑا جرم ہے، مگر سزائے موت حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ سزائے موت سے جرم میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ محترمہ مشیل بیشلیٹ کا کہنا ہے کہ زیادتی کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو سزائے موت دینا معقول سزا نہیں ہے جیسا کہ بنگلادیش میں ہوا ہے۔

اسد شمیم نے کہا کہ اب لوگ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ یہ ادارے جرائم ختم کر سکتے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے

🔥🚀 !Wazehrahe.pk Is Available FOR SALE 🚀🔥

We are offering Wazehrahe.pk for purchase, a well-established platform with strong Google traffic, a Facebook page with 17,000+ followers, and an active YouTube channel with published videos

.If you are interested in acquiring this website and its assets, please send your offer to info@wazehrahe.pk along with your mobile number

.We will contact you if your offer is suitable