تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

شہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئے

abdullah mursi
  • واضح رہے
  • ستمبر 5, 2019
  • 7:42 شام

25 سالہ عبد اللہ کو مصری آمر السیسی کا سخت ترین ناقد ہونے کی وجہ سے ذہنی اذیت دی جاتی تھی

مصر میں فوجی آمریت کی بھینٹ چڑھائے گئے ملک کے پہلے منتخب عوامی صدر ڈاکٹر محمد مرسی شہید کا سب سے چھوٹا بیٹا عبداللہ مرسی انتقال کر گیا۔ عبداللہ کی عمر 25 برس تھی، لیکن آمریت کی انتقامی کارروائیوں نے انہیں نوجوانی ہی میں بوڑھا کردیا اور وہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔

عبداللہ اپنے والد کی غیر آئینی برطرفی اور غیر قانونی گرفتاری کے وقت 19 سال کے تھے۔ اپنے والد کے ساتھ انسانیت سوز سلوک نے اس جذباتی نوجوان کو ایک دن بھی خاموش نہ رہنے دیا۔ اپنے خاندان میں وہ فوجی حکومت کے شدید ترین ناقد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی انہیں منشیات رکھنے کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا، کبھی ٹرین سے لاپتا کردیا گیا، تھانوں اور عدالتوں میں بلا کر ذلیل کیا گیا، سزائیں سنائی گئیں، لیکن وہ اپنے والد کیلئے کبھی خاموش نہ ہوئے۔

واضح رہے کہ بدترین سیاسی انتقام جھیلنے والے عبداللہ کے والد اور مصر کے پہلے منتخب صدر 2 ماہ قبل کمرہ عدالت میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق آزادی اور حقوق کی اس جنگ نے شاید عبداللہ کو اندر سے توڑ دیا۔ صدر مرسی کی وفات کے بعد توہین عدالت کے نام پر ان کے گھرانے پر 10 لاکھ جنیہ کے جرمانہ کیا گیا، جس پر وہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ شام قاہرہ کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا اور اسپتال منتقل کرنے پر وہ بھی خالق حقیقی سے جا ملا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرسی خاندان کے وکیل عبدالمنیم عبدالمقصود نے بتایا کہ عبداللہ مرسی کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب وہ گاڑی چلا رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مرسی کے بیٹے کے ساتھ گاڑی میں ان کا ایک دوست بھی موجود تھا جو چلتی گاڑی روکنے میں کامیاب ہوا اور عبداللہ مرسی کو ہسپتال پہنچایا۔ مرسی خاندان کے وکیل نے بتایا کہ عبداللہ مرسی کی نماز جنازہ اور تدفین آج ہوگی۔