تازہ ترین
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زورمصباح کو ہیڈ کوچ۔ چیف سلیکٹر کی دوہری ذمہ داری مل گئیپاکستانی تربیت یافتہ کمانڈوز دیش میں داخل ہوگئے۔ بھارت کا نیا شوشہرانا ثناء اللہ کو مزید جیل میں رکھنے کا نیازی منصوبہسعودی عرب میں نماز کے اوقات میں کاروبار کی اجازت

پورے رمضان المبارک کا اعتکاف

ramazan mein aitekaf
  • محمد عدنان کیانی
  • مئی 28, 2019
  • 3:38 صبح

پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایسی بزرگ شخصیات موجود ہیں جو سالہا سال سے نا صرف پورا رمضان اعتکاف میں گزارتے ہیں، بلکہ اسے عوام الناس اور اہل علم و دانش کیلئے ایک تربیتی، اصلاحی طرز پر لیکر چل رہے ہیں۔

شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ حضرت شیخ نے اپنے شیخ اور بزرگوں کو دیکھا کہ وہ پورے ماہ صیام کا اعتکاف کرتے  اور ان کے مریدین ان کے پاس آکر جمع ہوجاتے۔ اس طرز پر پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کرنے والے اکابر میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی،  مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا عبد الرحیم رائے پوری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا فضل الرحمان گنج مرادبادی، مولانا سید حسین احمد مدنی اور اپنے شیخ مولانا خلیل احمد سہارنپوری شامل ہیں۔

ان تمام اکابر کے منظور نظر حضرت شیخ نے بھی رمضان المبارک کے اعتکاف کو اسی طرز پر ابتدائی جوانی اور مجاز بیعت ہونے کے بعد سے  گزارنا شروع کیا۔ بھارت کے شہر سہارنپور سے یہ سلسلہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ جنوبی افریقہ، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان میں اسی طرز کے پورے ماہ کے اعتکاف ہونے لگے۔ اس سلسلہ میں آپ نے خود بھی دوسرے ممالک جاکر اپنے کسی خلیفہ کی مسجد میں پورے ماہ کا اعتکاف کیا۔

ramadan mein aftari

1981 میں پاکستان تشریف لائے اور فیصل آباد میں  مفتی زین العابدینؒ کی مسجد میں اعتکاف کیا اور اپنے بزرگوں کے مشوروں اور غیبی اشاروں پر اس اعتکاف کے شب و روز کے اعمال کو ترتیب دیا۔ یعنی اعتکاف کو اپنے مریدین اور عوام کیلئے کسب فیض کا ایک اصلاحی پروگرامبھی بنادیا جس سے معتکفین کا وقت زیادہ سے زیادہ قیمتی بن سکے اور ساتھ ہی اپنے خلفا کو  سمجھاتے بھی رہے اور طے فرمایا کہ روزے دار کو کھلانے کا ثواب بہت ہے اس لئے معتکفین کے سحر و افطار کھانے  کے تمام تر انتظامات اعتکاف کا امیر اور متولی مسجد اپنے ذمے لے اور اہل خیر اس کی مدد کریں۔

بزرگ  عالم دین مولانا پیر عزیزالرحمن ہزاروی  زید مجدہم کے ادارے دارالعلوم زکریا جامع مسجد ختم نبوت میں ہر سال کی طرح اس بار بھی پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کیا جارہا ہے۔ یہ اعتکاف کئی خصوصیات کا حامل ہے۔ پیر صاحب 1982 سے اپنے شیخ کے حکم پر  پورے ماہ کا اعتکاف کراتے ہیں، جو ابتدا میں آپ کے ادارے جامع مسجد صدیق اکبر خانقاہ تجلی گاہ حق  ویسٹریج 3 راولپنڈی میں ہوتا رہا مگر تعداد میں اضافے کے بعد اب دوسرے ادارے دارالعلوم زکریا ترنول اسلام آباد میں منتقل کردیا گیا ہے۔

تقریبا 12000 افراد کی گنجائش والی مسجد میں ابتدا رمضان سے ہی معتکفین کا رش ہوتا ہے۔ ادارے کے نائب مدیر قاری عتیق نے بتایا کہ اس وقت  پورے رمضان کا اعتکاف کرنے والے تقریباً 400 افراد موجود ہیں۔ جبکہ تعداد دوسرے عشرے اور تیسرے عشرے میں بہت بڑھ جاتی ہے۔

ملک میں شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں آخری عشرے میں تقریبا 1000افراد اعتکاف  کرتے ہیں جن سے اخراجات کی مد میں 3500 سے  4000روپے لئے جاتے ہیں۔ مگر دارالعلوم زکریا  میں گزشتہ کئی برسوں سے ملک کا سب سے بڑا اعتکاف ہورہا ہے جسمیں3  ہزار کے قریب افراد ہوتے ہیں اور یہ تعداد  27 شب اور 28 شب کو ختم قرآن  کے موقع پر دُگنی  ہوجاتی ہے اور  ان  افراد سے اخراجات کی مد میں  کوئی فیس بھی نہیں لی جاتی۔

قاری عتیق کے 40   برس سے یہ اعتکاف جاری ہے جس کی کوئی تشہیر نہیں کی جاتی۔نہ عوام کو متوجہ کرنے کیلئے کوئی اشتہار چھاپا جاتا ہے۔ لوگ خود ہی جوک در جوک چلے آتے ہیں۔ نائب مدیر کے مطابق حضرت کی طرف سے معتکفین کی خدمت کیلئے سخت ہدایات ہیں اس لئے کوشش ہوتی ہے کہ اچھے سے اچھا انتظام ہو۔ سحر و افطار میں ہزاروں کا مجمع سنبھالنا آسان نہیں۔ پھر پانی اور بجلی کے انتظامات بھی کرنا ہوتے ہیں۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ معتکفین کو افطار روزانہ مدینہ منورہ کی کھجور اور آب زم زم سے کرایا جاتا ہے۔ افطاری میں پکوڑے، پھل، شربت وغیرہ تیار کیا جاتا ہے اور نماز مغرب کے بعد کھانے کا دسترخوان لگا دیا جاتا ہے، جس میں لوکی گوشت، دال گوشت، آلو گوشت اور کبھی چاول بنائے جاتے ہیں۔

masjid mein namaz

تحریک ختم نبوت کے سابق رئیس مولانا یوسف لدھیانوی شہید، بنوری ٹاؤن کراچی کے بزرگ استاد مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، تبلیغی جماعت کے مرکزی بزرگ مولانا شاہ زبیرؒ، مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی کے بانی مولانا یحییٰ مدنی جیسے حضرات  پورے ماہ کا اعتکاف اسی طرز پر اپنے ہاں کراتے۔

’’واضح رہے‘‘ نے اس سلسلے میں حضرات قاری عتیق، مولانا عبدالرشید سکھروی، مفتی شاہ زبیر الحق، مفتی عدنان اور مولانا کامران سے معلومات اکٹھی کی ہیں، جنہوں نے بتایا کہ اسی طرز کے پورے ماہ کے اعتکاف مختلف ممالک اور پاکستا ن کے کئیوں شہروں میں ہو رہے ہیں۔ بیرون ممالک میں بھارت، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور ساوتھ افریقہ میں کئی جگہ یہ اعتکاف ہورے ہیں۔

پاکستان میں  کربوغہ میں  مفتی مختار الدین شاہ، ٹیکسلا میں حکیم مسعود الرحمان کی جامع مسجد اقبال کوچہ سید احمد شہید، لاہور کی جامع مسجد احسان میں حافظ صغیر احمد، کبیر والا میں مولانا عبدالغفار، ملتان میں صوفی محمد اسلم، سکھر کی جامع مسجد ریس کورس گراونڈ میں مولانا عبد الرشید سکھروی، کوئٹہ  کی جامع مسجد زرغون آباد نواں کلی میں مفتی سیف الرحمن اور کراچی سرجانی ٹاون میں جامع مسجد جلیلیہ میں بزرگ شخصیت عامر شاہ پورے ماہ کا اعتکاف کراتے ہیں۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن کی جامع مسجد جلیلیہ میں یہ اعتکاف 1994 سے جاری ہے اور اسی طرح معتکفین کی خدمت کی جاتی ہے، جبکہ معمولات کا طرز بھی حضرت شیخ کا ترتیب شدہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح جامع مسجد تقوی واٹر پمپ پر مولانا عمر مکی، مفتی جاوید کے ساتھ، مولانا یوسف مدنی معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد، مولانا یحی لدھیانوی  گلشن اقبال، مفتی عبد القیوم قاسمی مسجد غانم بن عبدالرحمن بلدیہ، مفتی عدنان جامع مسجد زکریاؒ، خانقاہ عزیزیہ چشتیہ گلستان جوہر میں اسی اصلاحی اعتکاف کو گزشتہ کئی برس سے چلا رہے ہیں۔

یہ اعتکاف بغیر کسی سرکاری فنڈ  کے چل رہے ہیں جو کرانے والے رمضان المبارک میں روزے داروں کو کھلانے کے ثواب اور ان کی روح کو صحیح طریقے سے اللہ سے جوڑنے، تزکیہ نفس، انسان کو انسانیت، اعلیٰ اخلاق   سکھانے اور اخلاق سئیہ سے دور رکھ کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینے کے جذبے سے سرشار ہیں۔