تازہ ترین
افغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زور

پی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہ

پی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجیٹ پر لانے کا مطالبہ
  • واضح رہے
  • ستمبر 5, 2019
  • 2:29 صبح

معروف صنعت کار میاں زاہد حسین نے حکومت کی غیر واضح معاشی پالیسی پر بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری برادری کی ہمت اور عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ شرح سود نے معیشت کا گلا گھونٹ رکھا ہے، جس میں کمی کئے بغیر اقتصادی سرگرمیاں اور شرح نمو کم ہوتی چلی جائے گی۔ جبکہ بے روزگاری اور ٹیکس کا شارٹ فال بڑھتا رہے گا۔ ملک کے مالیاتی نظام میں شرح سود کو 13.25 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد تک لانے کی گنجائش موجود ہے جس پر غور کیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ 2 ماہ میں محاصل کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ ستمبر میں ایف بی آر کو 5 سو ارب روپے جمع کرنا ہوں گے جو مشکل ہے، کیونکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 334 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ ٹیکس اہداف میں 30 فیصد اضافہ سے کاروباری برادری کی پریشانی میں اضافہ جبکہ معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف طلب میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبہ کا حال بہت برا ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر مینوفیکچرنگ کے اہم شعبہ کی مصنوعات کی طلب میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔ اگر مینوفیکچرنگ شعبہ کی پیداوار کی کھپت بحال نہ ہوئی تو انہیں اپنے پلانٹ بند کرنا پڑجائیں گے، جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے گی۔

معروف صنعت کار نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں تبدیلیوں اور غیر حقیقی اہداف کی وجہ سے حکومت اور کاروباری برادری میں ٹھن گئی ہے۔ جبکہ بہت سے کمپنیوں کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز شناختی کارڈ کی شرط ماننے کو تیار نہیں۔ جبکہ ٹیکس نا دھندگان اور ٹیکس گزاروں کے مابین خلیج برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کی ہمت اور عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔