تازہ ترین
کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ اور کراچی کچرا کنڈیبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میڈیا سے کتراتی ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کی بے گناہی کو بالواسطہ تسلیم کرلیامقبوضہ کشمیر: بھارت کو ایک اور جھٹکا دینے کی پاکستانی تیاریوکٹ ٹیکر سری لنکن اسپنر کا بالنگ ایکشن رپورٹپاکستان میں فوجی سربراہان کی تاریخکولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو پاکستان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ ٹرمپبھارتی فوج نے کشمیر میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اٹھا لیا’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کا مقدمہ لڑا جائے‘‘جنریشن گیپ ایک معاشرتی ناسورکشمیر میں بدترین مظالم پر عالمی برادری کو ہوش آگیانماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچیبھارتی ٹینس ایسوسی ایشن کا پاکستان میں ڈیوس کپ کھیلنے سے انکارحکومتی عدم توجہی سے سی پیک منصوبے متاثر ہونے لگےسرکاری سعودی آئل کمپنی کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘تعلق کے دوہرے معیار سے نجات!وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائےیومِ آزادی پر چوری شدہ نغمے کا استعمال 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

نسل پرست امریکی پولیس نے 2018 میں کتنے سیاہ فام مارے؟

black people in america
  • واضح رہے
  • جون 19, 2019
  • 11:14 شام

اہلکاروں سمیت افسران نے فیس بک پر نفرت انگیز پیج بنا رکھے ہیں، جہاں نسلی تعصب کو فروغ دینے کے علاوہ پناہ گزینوں کو امریکہ بدر کرنے کی مہم جاری ہے۔

نیویارک میگزین نے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فوئنکس میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیاہ فام فیملی پر بندوق تاننے کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ 27 مئی کو پیش آیا، جس میں ایک بچی پر گُڑیا کو چوری کرنے کا الزام عائد کرکے اس کی فیملی کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی۔ امریکی پولیس کے نسل پرستانہ سلوک سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ میں آج بھی سیاہ فام دوسرے درجے کے شہری ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم امریکن سول لبرٹیز یونین کے مطابق متعدد پولیس افسران کے پاس موجود گرفتاری کے غیر پُر شدہ (blank) فارم پر گرفتار شدگان کے خانہ میں ”سیاہ فام“ پہلے ہی لکھا ہوتا ہے۔ امریکی پولیس کی نسل پرستی اور متشدد مزاج کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ صرف ایک برس 2018 میں امریکی پولیس افسران نے 992 سیاہ فاموں کو بلا توقف گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد دگنی بتائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں امریکی پولیس کو فیٹل فورس یعنی مہلک طاقت کا نام دیا گیا ہے۔

ادھر ”یو ایس اے ٹوڈے“ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ”نسل پرستی کا رحجان“ امریکی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بڑھ رہا ہے اور 14 ہزار سے زائد پولیس افسران نسل پرست، نفرت انگیز اور پر تشدد سوشل گروپس کی رکنیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سماجی محققین نے اپنی رپورٹس سے قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں کو مطلع کردیا ہے لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لیا گیا۔ امریکی جیلوں، ایئر پورٹس، عوامی مقامات، ریلوے اسٹیشنوں سمیت اسکولوں اور ساحلی تفریح گاہوں پر تعینات ہزاروں امریکی پولیس افسران کے بارے میں تصدیق کی گئی ہے کہ وہ خواتین، ہم جنس پرستوں اور مخنثوں سے نفرت رکھتے ہیں اور سیاہ فام افراد سمیت مسلمانوں پر تشدد کے حامی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سفید فام پولیس سیاہ فام شہریوں کیلئے ”موت کا پیغام“ کی حیثیت رکھتی ہے اور 15 جون کو ریاست ٹینیسی کے ساحلی شہر میمفس میں پولیس افسران کے ہاتھوں ایک غیر مسلح کالے شہری برینڈن کی بلا وجہ موت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

فیس بک نے بھی ان سفید فام، نسل پرست اور نفرت کے پرچارک گروہوں کیخلاف آنکھیں موندی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سرزمین پر مسلمانوں اور سیاہ فام افراد کے حوالے سے نفرت اور نسل پرستی پھل پھول رہی ہے۔ امریکی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ نفرت، تشدد اور دہشت گردی کیخلاف مہم چلانے والی فیس بُک کا اس سلسلہ میں کردار دو غلا ہے اور امریکی پولیس نے انتہائی متنازع نسل پرست گروپس مثلا ً وائٹ لائیوز میٹر، وائٹ پرویلیج کلب اور ڈیتھ ٹو اسلام جیسے نفرت انگیز اور پر تشدد سماجی حلقے قائم کئے ہوئے ہیں، جن کی شر انگیزی صاف ظاہر ہے۔ لیکن فیس بک انتظامیہ منہ میں چُپ سادھے بیٹھی ہے۔