تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

نماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچی

نماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچی
  • واضح رہے
  • اگست 14, 2019
  • 4:24 شام

اتر پردیش میں انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی کی حکومت ایک بار پھر مسلم دشمن اقدامات اور سختیوں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے

بھارت نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے بعد ریاست اتر پردیش کو بھی مسلمانوں کیلئے مقبوضہ علاقہ بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش میں مودی کے ساتھی یوگی آدتیا ناتھ کی حکومت ہے، جو مسلمانوں پر گائے ذبح کرنے اور گوشت کھانے سمیت مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اب انتہا پسند یوگی نے ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگانے کا ناپاک منصوبہ بنالیا ہے۔

آن لائن بھارتی جریدے جاگران پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یوگی سرکار اتر پردیش کے شہر علی گڑھ اور میرٹھ میں پہلے بھی کھلے عام نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ بدھ کے روز انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی کے حکم پر اتر پردیش پولس نے ریاست میں سڑکوں پر ہونے والی جمعہ کی نماز اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے اس سلسلے میں کہا کہ اہم مواقع پر جب زیادہ بھیڑ جمع ہوتی ہے تو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن ہر جمعہ کی نماز کے دوران اس روایت کو باضابطہ طور سے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام ضلع پولس سربراہان اور دیگر افسران کو اس سلسلے میں گائیڈ لائنس جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سڑکوں پر رکاوٹیں لگا کر نماز ادا نہ کی جائے۔

پولس ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس سے قبل علی گڑھ کی ضلع انتظامیہ نے نماز کے بڑے اجتماعات کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا تھا، جس کے بعد سے شہر میں سڑکوں پر نماز پڑھنے کی پابندی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علمائے کرام اور مساجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کرکے ان سے بھی تعاون کرنے کی درخواست کی جائے گی کہ اس طرح ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ انتہا پسند یوگی کی حکومت آنے سے پہلے ریاست اتر پردیش میں مذبح خانوں پر پابندی نہیں تھی۔ لیکن یوگی نے پابندی لگاکر مسلمانوں کا کاروبار بھی ختم کردیا۔ جبکہ گزشتہ 5 برسوں میں گئو رکشکوں کی جانب سے گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں مسلمانوں کو سفاکی سے قتل کردینے کے واقعات میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اب مسلمانوں کیلئے با جماعت نماز کی ادائیگی مشکل بنائی جا رہی ہے۔

اسی طرح ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے یوگی کی سرپرستی میں درجنوں مساجد پر حملہ کرکے انہیں شہید بھی کر دیا ہے، جس کے باعث ریاست میں مساجد کی تعداد پہلے سے کم ہے اور اب مسلمانوں کے مساجد کے باہر یا سڑک پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔