تازہ ترین
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زورمصباح کو ہیڈ کوچ۔ چیف سلیکٹر کی دوہری ذمہ داری مل گئیپاکستانی تربیت یافتہ کمانڈوز دیش میں داخل ہوگئے۔ بھارت کا نیا شوشہرانا ثناء اللہ کو مزید جیل میں رکھنے کا نیازی منصوبہسعودی عرب میں نماز کے اوقات میں کاروبار کی اجازت

نماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچی

نماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچی
  • واضح رہے
  • اگست 14, 2019
  • 4:24 شام

اتر پردیش میں انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی کی حکومت ایک بار پھر مسلم دشمن اقدامات اور سختیوں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے

بھارت نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے بعد ریاست اتر پردیش کو بھی مسلمانوں کیلئے مقبوضہ علاقہ بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش میں مودی کے ساتھی یوگی آدتیا ناتھ کی حکومت ہے، جو مسلمانوں پر گائے ذبح کرنے اور گوشت کھانے سمیت مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اب انتہا پسند یوگی نے ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگانے کا ناپاک منصوبہ بنالیا ہے۔

آن لائن بھارتی جریدے جاگران پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یوگی سرکار اتر پردیش کے شہر علی گڑھ اور میرٹھ میں پہلے بھی کھلے عام نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ بدھ کے روز انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی کے حکم پر اتر پردیش پولس نے ریاست میں سڑکوں پر ہونے والی جمعہ کی نماز اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے اس سلسلے میں کہا کہ اہم مواقع پر جب زیادہ بھیڑ جمع ہوتی ہے تو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن ہر جمعہ کی نماز کے دوران اس روایت کو باضابطہ طور سے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام ضلع پولس سربراہان اور دیگر افسران کو اس سلسلے میں گائیڈ لائنس جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سڑکوں پر رکاوٹیں لگا کر نماز ادا نہ کی جائے۔

پولس ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس سے قبل علی گڑھ کی ضلع انتظامیہ نے نماز کے بڑے اجتماعات کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا تھا، جس کے بعد سے شہر میں سڑکوں پر نماز پڑھنے کی پابندی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علمائے کرام اور مساجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کرکے ان سے بھی تعاون کرنے کی درخواست کی جائے گی کہ اس طرح ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ انتہا پسند یوگی کی حکومت آنے سے پہلے ریاست اتر پردیش میں مذبح خانوں پر پابندی نہیں تھی۔ لیکن یوگی نے پابندی لگاکر مسلمانوں کا کاروبار بھی ختم کردیا۔ جبکہ گزشتہ 5 برسوں میں گئو رکشکوں کی جانب سے گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں مسلمانوں کو سفاکی سے قتل کردینے کے واقعات میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اب مسلمانوں کیلئے با جماعت نماز کی ادائیگی مشکل بنائی جا رہی ہے۔

اسی طرح ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے یوگی کی سرپرستی میں درجنوں مساجد پر حملہ کرکے انہیں شہید بھی کر دیا ہے، جس کے باعث ریاست میں مساجد کی تعداد پہلے سے کم ہے اور اب مسلمانوں کے مساجد کے باہر یا سڑک پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔