تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘

’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘
  • واضح رہے
  • اگست 13, 2019
  • 12:52 صبح

بھارت کے سابق وزیر داخلہ نے مودی سرکار کے ہندو انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل میں بڑی سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا ہے

بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ہی آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا ہے۔ چدم برم نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہوتی تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یہ قدم کبھی نہیں اٹھاتی۔

انہوں نے طاقت کے نشے میں چور بی جے پی حکومت کی جانب سے طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کسی ریاست کے ٹکڑے کرکے مرکز کے زیر انتطام ریاست بنانے والا یہ واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے اس مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے رویہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ لوک سبھا میں بھلے ہی اکثریت نہیں تھی لیکن اے آئی اے ڈی ایم، وائی ایس آر، کانگریس پارٹی، تلنگانہ راشٹر سمیتی، بیجو جنتا دل، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور جنتا دل (یونائیٹید) نے تعاون نہ کیا ہوتا تو یہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ بے حد افسوس ناک ہے۔ کانگریسی لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حالات بے حد خراب ہیں۔ ریاست میں انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس سے صحیح اور حقیقی حالات کی اطلاع باہر نہیں آپا رہی ہے۔

اُدھر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ کشمیر میں پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مرنے کی بھی خبریں آئی ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں صورت حال خراب ہے اور معاملات غلط سمت میں جا رہے ہیں۔