تازہ ترین
کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ اور کراچی کچرا کنڈیبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میڈیا سے کتراتی ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کی بے گناہی کو بالواسطہ تسلیم کرلیامقبوضہ کشمیر: بھارت کو ایک اور جھٹکا دینے کی پاکستانی تیاریوکٹ ٹیکر سری لنکن اسپنر کا بالنگ ایکشن رپورٹپاکستان میں فوجی سربراہان کی تاریخکولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو پاکستان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ ٹرمپبھارتی فوج نے کشمیر میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اٹھا لیا’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کا مقدمہ لڑا جائے‘‘جنریشن گیپ ایک معاشرتی ناسورکشمیر میں بدترین مظالم پر عالمی برادری کو ہوش آگیانماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچیبھارتی ٹینس ایسوسی ایشن کا پاکستان میں ڈیوس کپ کھیلنے سے انکارحکومتی عدم توجہی سے سی پیک منصوبے متاثر ہونے لگےسرکاری سعودی آئل کمپنی کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘تعلق کے دوہرے معیار سے نجات!وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائےیومِ آزادی پر چوری شدہ نغمے کا استعمال 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘

’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘
  • واضح رہے
  • اگست 13, 2019
  • 12:52 صبح

بھارت کے سابق وزیر داخلہ نے مودی سرکار کے ہندو انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل میں بڑی سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا ہے

بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ہی آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا ہے۔ چدم برم نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہوتی تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یہ قدم کبھی نہیں اٹھاتی۔

انہوں نے طاقت کے نشے میں چور بی جے پی حکومت کی جانب سے طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کسی ریاست کے ٹکڑے کرکے مرکز کے زیر انتطام ریاست بنانے والا یہ واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے اس مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے رویہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ لوک سبھا میں بھلے ہی اکثریت نہیں تھی لیکن اے آئی اے ڈی ایم، وائی ایس آر، کانگریس پارٹی، تلنگانہ راشٹر سمیتی، بیجو جنتا دل، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور جنتا دل (یونائیٹید) نے تعاون نہ کیا ہوتا تو یہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ بے حد افسوس ناک ہے۔ کانگریسی لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حالات بے حد خراب ہیں۔ ریاست میں انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس سے صحیح اور حقیقی حالات کی اطلاع باہر نہیں آپا رہی ہے۔

اُدھر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ کشمیر میں پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مرنے کی بھی خبریں آئی ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں صورت حال خراب ہے اور معاملات غلط سمت میں جا رہے ہیں۔