تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

موجودہ بحران میں بجٹ بنانا چیلنج قرار

Pakistan-Businessmen-and-Intellectuals-Forum-PBIF
  • واضح رہے
  • مئی 15, 2020
  • 9:21 شام

بجٹ میں ٹیکسز کے بجائے شرح نمو بڑھانے کو ترجیح دی جائے- دستاویز بندی کی لاگت اور عوام پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔ پی بی آئی ایف

ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کے لئے کورونا وائرس کی وجہ سے جاری بحران میں بجٹ بنانا بہت مشکل ہوگا۔ روایتی بجٹ شرح نمو بڑھانے میں ناکام رہے گا اورعوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کرے گا اس لئے اس بارغیر روایتی بجٹ بنایا جائے۔ بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کے بجائے شرح نمو بڑھانے کو ترجیح دی جائے تا کہ ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ بے روزگار ہونے سے بچ سکیں اور غربت میں کمی آئے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ معیشت کی دستاویز بندی بہت اہم ہے مگر اس کی لاگت میں کمی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جس کے لئے ٹیکس کے نظام کو سادہ اور عام فہم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی اور روزگار کا راستہ کھلے۔ کئی دہائیوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ٹیکس اور اخراجات میں توازن قائم نہیں کیا جا سکا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو کشکول اٹھانا پڑتا ہے۔ کشکول توڑنے اور ملکی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے عوام پر ٹیکس بڑھانے کی پالیسی تبدیل کر کے ڈائریکٹ ٹیکس کے نظام کو اپنانا ہو گا۔ زیادہ ٹیکس کے بجائے عوام کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں جبکہ ٹیکس حکام کی جانب سے سسٹم میں تبدیلی نہ لانے کے وجہ سے پوٹینشل سے بہت کم ٹیکس جمع ہو رہا ہے، جسے بڑھانے کے لئے ٹیکس کے نظام کو سادہ بنانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی غربت کو روک کر عوام کی حالت بہتر بنانا ہوگی جو عوام کو ہنر مند بنائے بغیر نا ممکن ہے۔ عوام کو غربت سے نکالنے کے لئے چین اور دیگر ممالک کی مثالیں دینا کافی نہیں، اس کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے جس میں تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، مناسب ٹرانسپورٹ، پنشن، انکم سپورٹ، تحفظ، سہولیات اور دیگر شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہونگی جو ٹیکس کے منطقی نظام کی غیر موجودگی میں ناممکن ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ جو کاروبار موجودہ صورتحال میں دیوالیہ ہونے سے بچ گئے ہیں انہیں ٹیکس کے منصفانہ نظام، کم شرح سود، بجلی اور گیس کے جائز بلز،بیل آئوٹ اور ریلیف کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کو روزگار فراہم کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ کے لئے زیرو ریٹنگ کی سہولت بحال کی جائے اور ایک لاکھ روپے ماہانہ تک کمانے والوں کے لئے بھی زیرو ٹیکس نافذ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پرانے قرضوں کی واپسی میں نرمی، سود میں کمی جبکہ بیمار صنعتوں کی بحالی بھی ضروری ہے جبکہ ودھولڈنگ اور دیگر ٹیکسوں میں خاطر خواہ کمی بھی لازمی ہے ورنہ معیشت کا پہیہ نہیں چل سکیں گے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرے، سفید ہاتھی بن جانے والے ناکام اداروں سے جو سالانہ 6سو ارب روپے ڈکار جاتے ہیں سے جان چھڑائے، انفراسٹرکچر منصوبے شروع کرے اور اپنا حجم کم کرے اور زرعی ٹیکس کی جانب پیش رفت کرے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے