تازہ ترین
امریکہ: آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی واپسجنونی فوٹو گرافر نے گھر کو کیمرے میں ہی بدل ڈالاوزیراعظم عمران خان کا آج دیا مربھاشا ڈیم کے دورے پر جانے کا پروگرامایران، انڈیا تجارتی تعلقات: ایران نے چاہ بہار بندرگاہ کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے کے منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیاوزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس،کےالیکٹرک کے معاملے پر فیصلہ نہ ہو سکا“ریتلا علاقہ مگر تعلیم کے اعتبار سے زرخیز”تعمیرات کیلئے 31دسمبر تک مراعات، سرمایہ کاری اور گھر کی خریداری پر رقوم کے ذرائع نہیں پوچھے جائینگے،نسلی تعصب کی بات کرتے ہوے مائیکل ہولڈنگ ابدیدہ ہو گےوفاقی حکومت کا ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کرنے پر غورمحکمہ جنگلات کے سیکرٹری کپٹین (ر) محمد آصف کاچھانگا مانگا جنگل کا تفصیلی دورہاسلام آباد مندر کی تعمیرعیدالاضحیٰ تعطیلاتپنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن نے فیصل آباد ڈویژن کے الیکشن کو غیر آئینی قرار دے دیاخانیوال 7 جولائی 2020 واضح رہے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کبیروالہتیری یاد آئی تیرے جانے کے بعدشین چین جی چرچ کے چار ہزرا اراکین نے پلازمہ عطیہ کیا،مین ہی لیفیصل آباد ڈویژنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے غیر قانونی الےکشنبلوچستان کے لاپتہ افراد: لاپتہ ہونے سے قبل والد کو سیاسی نظریات کی وجہ سے دھمکی آمیز فون آتے تھےچین کے ساتھ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کے لیہ دورے کے کیا معنی ہے؟تاجروں کا مارکیٹوں سے لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ

لاک ڈاؤن سے صارفین کی عادات۔ ترجیحات تبدیل ہونے لگیں

  • واضح رہے
  • مئی 27, 2020
  • 11:10 شام

کاروباری برادری کو نئے رجحانات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ سندھ سمیت پورے پاکستان میں صنعتوں اور تمام کاروباروں کو کھو لا جائے۔ میاں زاہد حسین

ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پہلی بار لاک ڈاؤن کا تجربہ کیا گیا ہے جس کے بعد صارفین کی عادات اور ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے اور کاروباری برادری کو نئے رجحانات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں عوام تقریباً دو ماہ تک لاک ڈاؤن برداشت کر چکی ہے اور اس میں مزید توسیع کا امکان ہے۔

تاہم ضرورت اس چیز کی ہے کہ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ تمام مارکیٹوں، کاروباروں، دفتروں ، بینکوں اور چھوٹی بڑی صنعتوں کو مکمل طور پر 24 گھنٹے اوقات کا ر کی بنیاد پر کھولا جائے تاکہ عوام کی معاشی مشکلات دور ہوں اور حکومت کو ریونیو کی کمی کا جو سامنا ہے اس کا تدارک ہو سکے۔ پاکستانیوں کو بھوک سے مرنے یا بیماری سے مرنے کی بجائے ایک ذمہ دار قوم کی طرح ایس او پیزکی پابندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران زیادہ تر کاروبار بند رہے جبکہ عوام کو زبردست مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس سے انہیں بچت کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران زیادہ تر افراد نے صرف اہم ضروریات زندگی پر اخراجات کئے اور لاک ڈاؤن کے مستقل طور پر ختم ہونے کے بعد بھی عوام پہلی جیسی شاپنگ اور فضول خرچی نہیں کرے گی بلکہ برے وقت کے لئے بچت کو ترجیح دے گی جس سے بہت سے کاروبار متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار جان لیں کہ اب اشیاء اور خدمات کی وہ مانگ نہیں رہے گی جو کبھی ہوا کرتی تھی کیونکہ مستقبل کے اندیشے عوام کو بچت کی جانب راغب رکھیں گے۔ کارخانہ داروں کو ضروری ساز و سامان کے لئے ایک سے زیادہ ذرائع اختیار کرنا ہوں گے اور کاروبار جاری رکھنے کے لئے آن لائن بزنس میں مہارت حاصل کرنا ہو گی۔ پاکستان زیادہ تر اشیاء چین سے درآمد کرتا ہے جس میں زپ اور بٹن تک شامل ہیں جبکہ مقامی فارما سیکٹر مکمل طور پر بھارت پر انحصار کرتا ہے جس پر اب غور کرنا ہوگا جبکہ حکومت کو خام مال کی مقامی طور پر تیاری کو اپنی پالیسیوں میں ترجیح دینا ہو گی۔ پاکستان کے بہت سے ایکسپورٹ آرڈر اس لئے کینسل ہو گئے کہ چین سے بروقت سامان نہیں پہنچا جس سے ملکی ساکھ اور آمدنی پر ضرب پڑی ہے۔

لاک ڈاؤن سے درجنوں چھوٹے کاروبار، سیاحت، ہوٹل، ریسٹورنٹ، شادی ہال اور انٹرٹینمنٹ کا بزنس تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور ان میں سے اکثریت دوبارہ اپنا کاروبار چلانے کے قابل نہیں رہی ہے جبکہ بڑا کاروبار کرنے والوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ مغربی ممالک اندیشوں کے پیش نظر برآمدات کی جانچ پڑتال کے قوانین کو زیادہ سخت کر دیں گے جس سے نمٹنا چیلنج ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت تیزی سے بڑھے گی، ادائیگیوں کا نظام خود کار ہوتا جائے گا، صحت کے شعبہ کی اہمیت، مانیٹرنگ اور مانگ میں اضافہ ہو جائے گا اور جو کمپنیاں ٹیکنالوجی کے معاملے میں سُستی کریں گی وہ اپنے پیر پر کلہاڑی

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے