تازہ ترین
“باغ” ریاست آزاد جموں و کشمیرشیخ خالد زاہدزیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کاکھیل حکومت اور سپانسرز کی سر پرستی کے منتظر ہیں،رانا محمود الحسنرانا عباد کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہےسوشل میڈیا اور واضح رہے کے قواعدآئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردیقومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پرعمل شروع، جم، تھیٹرز اور سینما ہالز کل کھل جائیں گےہاتھی حساس جانور،ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی سن لیتے ہیںبیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

کراچی کیلئے بجلی مہنگی کرنے کے بجائے چوری، لائن لاسز روکے جائیں۔ میاں زاید حسین

WhatsApp Image 2020-07-20 at 8.16.52 PM
  • واضح رہے
  • جولائی 20, 2020
  • 9:07 شام

بجلی مہنگی کرنے سے سارا ملک متاثر، برآمدات گر جائیں گی۔کراچی میں بجلی کی مزید کمپنیاں قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقابلے کا رحجان پیدا ہو۔ صنعتکار

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ کراچی کے لئے بجلی مہنگی کرنے کی بجائے چوری اور لائن لا سز روکے جائیں۔ بجلی کی قیمت میں 2روپے 89 پیسے فی یونٹ کا مجوزہ اضافہ بہت زیادہ ہے جس سے کراچی کے علاوہ سارا ملک متاثر ہو گا ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کراچی ملک میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں بجلی کی قیمت میں چند پیسے اضافے کے اثرات ملک بھر پر پڑتے ہیں اور پیداوار و برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں اس لئے صنعتی مراکز میں بجلی مہنگی کرنے سے پہلے انکے اثرات کا بھرپور جائزہ لینا چاہئے ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام اور کاروباری برادری کو خطے میں سب سے مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے اور اسکی قیمت بھی مسلسل بڑھتی رہتی ہے ۔ نا اہلی، کرپشن ،بدانتظامی ،اقرباء پروری اور سیاسی مداخلت نے بجلی کے شعبہ کو ملکی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنا دیا ہے جس میں ریگولیٹر کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ بجلی کے شعبہ کا ریگولیٹر دیگر ریگولیٹرز کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اس نے بجلی کی کمپنیوں کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے اس لئے اس پر سالانہ کروڑوں روپے ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی بدحالی اورلاک ڈاءون کے بعد اب لوڈ شیڈنگ کا جن بھی بوتل سے باہرنکل آیا ہے اور ان حالات میں کاروباری برادری کو ریلیف دینے کے بجائے بجلی کی قیمت بڑھانا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ بجلی کی قیمت مسلسل بڑھانے کے بجائے اس میں چوری،بلز کی عدم ادائیگی اور لائن لا سز کوکنٹرول کرنے یا کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور عوام کو روزگار فراہم کیا جا سکے ۔ انھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی بد انتظامی کی وجہ سے ملکی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی ۔ کراچی میں بجلی کی مزید کمپنیاں قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقابلے کا رحجان پیدا ہو۔ کسی بھی کمپنی کو بجلی بنانے اور تقسیم کرنے کی دونوں ذمہ داریاں دینا اسکے ہاتھوں میں ننگی تلوار دینے کے مترادف ہے جس پر غور کیا جائے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے