تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

جھوٹ ایک سنگین گناہ ہے!!!

jot-ek-azeem-duna
  • حیدری
  • مئی 21, 2020
  • 7:18 شام

مشہور مقولہ ہے کہ"جھوٹ کے ہاتھ پیر نہیں ہوتے۔" لیکن آج کل تو اس کے پَر بھی نکل آئے ہیں۔ اب تو یہ تمام شعبہ ہائے زندگی کا جزو لا ینفک بن چکا ہے. تجارت، ملازمت،

اور بالخصوص کاروبار میں تو اس کو فن کا درجہ مل چکا ہے. بد قسمتی سے ہم نے جھوٹ کو گناہ سمجھنے کے بجائے ہنر سمجھ لیا ہے. جھوٹ بول کر سودا کرنا، کاروبار چمکانا، ووٹ لینا، حکومت کرنا اور اپنی بددیانتی کو عین دیانت داری ثابت کرنا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے.

اسی جھوٹ کی ایک کڑی، "سوشل میڈیا" کی غیر مصدقہ خبریں بھی ہیں۔ "سوشل میڈیا" کے وجود میں آنے کے بعد تو اس نے ترقی کی تمام حدیں پار کر لی ہیں گویا اس کو چار چاند لگ گئے ہوں۔ ہمارا مزاج بن چکا ہے کہ بلا تصدیق و تحقیق خبریں آگے پھیلائیں. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے کہا؟ کیوں کہا؟ کس سے کہا؟ اور کب کہا؟
جب کہ سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے کہ: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلائے۔"

آج کل معاشرے میں جھوٹ اور دروغ گوئی کا جو طریقہ رائج ہے کچھ اس طرح ہے: "مجھے معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے" یا "مجھے انتہائی قابلِ اعتبار شخص نے یہ اطلاع دی ہے۔" یہ تمام طریقے و ذرائع جھوٹ کے زمرے میں آتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں "کورنا" نامی وبا کے دوران بھی "جھوٹ" کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے، جو ابھی تک رکا نہیں. مقام افسوس یہ ہے کہ اس بہتی گنگا میں ہر کسی نے اپنے ہاتھ دھوئے اور گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے.
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص بیک وقت ڈاکٹر بھی ہے، انجینئر بھی، عالم بھی ہے، مفتی بھی، سیاست دان اور معیشت دان بھی ہے اور بیوروکریٹ بھی۔ فی الوقت ہر کس و ناکس ڈاکٹری کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے. جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ شش و پنج کا شکار ہیں۔

یاد رکھیں! جس معاشرے میں "دروغ گوئی" عام ہو جاتی ہے، تو وہاں ترقی کا پہیہ جام ہوجاتا ہے. ایسے معاشرے میں نیکی و بدی اور اچھائی و برائی کی تمییز ختم ہو جاتی ہے. معاشرہ پستی کے ایسے گرداب میں پھنس جاتا ہے کہ جس کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا.
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتے ہیں : "جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو". اکثر لوگوں کو لعنت کا معنی بھی معلوم نہیں۔ بل کہ اکثریت تو اس کو گالی گردانتے ہیں۔ جب کہ لعنت درحقیقت "اللہ کی رحمت سے دوری" کو کہتے ہیں. اس طرح بندہ جب اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے تو پھر وہ شیطان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے. جس کا انجام انتہائی بھیانک ہوتا ہے.
آئیے! آج ہم عہد کریں اور اپنے رب کو یہ وعدہ دے دیں کہ آج کے بعد اس کبیرہ گناہ یعنی "جھوٹ" سے خود کو بچائیں گے اور اپنے تمام معاملات کو اس سے ہر ممکن پاک رکھنے کی کوشش کریں گے اور بے جا تجزیات و نظریات کے پیش کرنے سے گریز کریں گے۔ وگرنہ ایسا نہ ہو کہ اس سنگین گناہ کے مرتکب ہو کر رب کی رحمت سے دوری ہمارا مقدر بن جائے!!!!

حافظ الاسد

میرا تعلق پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر سے ہے اور کراچی یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کیا ہے.

حافظ الاسد