تازہ ترین
امریکہ: آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی واپسجنونی فوٹو گرافر نے گھر کو کیمرے میں ہی بدل ڈالاوزیراعظم عمران خان کا آج دیا مربھاشا ڈیم کے دورے پر جانے کا پروگرامایران، انڈیا تجارتی تعلقات: ایران نے چاہ بہار بندرگاہ کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے کے منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیاوزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس،کےالیکٹرک کے معاملے پر فیصلہ نہ ہو سکا“ریتلا علاقہ مگر تعلیم کے اعتبار سے زرخیز”تعمیرات کیلئے 31دسمبر تک مراعات، سرمایہ کاری اور گھر کی خریداری پر رقوم کے ذرائع نہیں پوچھے جائینگے،نسلی تعصب کی بات کرتے ہوے مائیکل ہولڈنگ ابدیدہ ہو گےوفاقی حکومت کا ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کرنے پر غورمحکمہ جنگلات کے سیکرٹری کپٹین (ر) محمد آصف کاچھانگا مانگا جنگل کا تفصیلی دورہاسلام آباد مندر کی تعمیرعیدالاضحیٰ تعطیلاتپنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن نے فیصل آباد ڈویژن کے الیکشن کو غیر آئینی قرار دے دیاخانیوال 7 جولائی 2020 واضح رہے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کبیروالہتیری یاد آئی تیرے جانے کے بعدشین چین جی چرچ کے چار ہزرا اراکین نے پلازمہ عطیہ کیا،مین ہی لیفیصل آباد ڈویژنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے غیر قانونی الےکشنبلوچستان کے لاپتہ افراد: لاپتہ ہونے سے قبل والد کو سیاسی نظریات کی وجہ سے دھمکی آمیز فون آتے تھےچین کے ساتھ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کے لیہ دورے کے کیا معنی ہے؟تاجروں کا مارکیٹوں سے لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ

علم اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول ناگزیر

  • خواجہ ناظم عثمانی
  • جون 21, 2020
  • 10:43 شام

چین میں قبل از انقلاب امیر لوگ اپنے بچوں کو ترقی یافته ممالک یعنی یورپ اور امریکه پڑھنے کے لئے بھیج دیتے تھے جس وجه سے چین بدحالی کا شکار تھا اور پھر چینی باشعور لوگوں نے ایک قوم کا شعور دوسرے لوگوں کو دیا. علم حاصل کیا اور ٹیکنالوجی میں بام عروج حاصل کیا۔

3دسمبر 2016 کو علی الصبح عوامی جمہوریہ چین کے ایک  دوست مسٹر اینڈی سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نجی زندگی کے نشیب و فراز پر بات چیت ہوئ جو چین کے ذرخیز ترین صوبه حنان سے تعلق رکھتے ہیں اور هیلتھ کئیر ٹیکنالوجی کے انٹرنیشنل ٹریڈ منیجر هیں. نجی باتوں سے ہماری بحث ریاست جموں کشمیر کے مستقبل پر هونا شروع ہوئی. اس وقت مسٹر اینڈی راقم کو اپنا بھائ کہہ کر پکارتے تھے. انھوں نے راقم کے شائع شدہ مضامین کا ترجمہ کر کے خواند کیا اور حوصله افزائی کی.

انهوں نے کشمیر کے متعلق کہا کہ چینی باشندے اور ان کا ملک چین یه سمجھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی ایک الگ پہچان, تاریخ و ثقافت ہے۔ کشمیر کا وہ علاقہ (وادی شکسگام، اقصاۓ چن) ملک  چین کے  قبضہ میں ہے وہ علاقہ حقیقت میں کشمیر کا حصه ہے اور جموں کشمیر کا ماضی میں چین سے گہرا تعلق رها هے.ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی کی موصوف نے حمایت کی اور انہوں نے اظہار کیا کہ چین کے اندر ایسے بہت سارے علاقه جات موجود هیں جنھیں چین کی حکومت نے مکمل اندرونی خودمختاری دے رکھی هے وه اپنے معاملات میں آزاد هیں. پاکستان اور بھارت کو بھی ریاست جموں کشمیر کو مکمل خودمختاری دینی چاہیے اور یہی تقاضا انصاف اور فلاح انسانیت ہے.

موصوف نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر مکمل آزاد ہو کر ہمسایہ طاقت ور ممالک سے سے اپنا تحفظ کیسے کرے گی جب تک علم و ٹیکنالوجی کی طرف یہاں کے لوگ راغب نہیں ہوں گے۔موصوف نے کہا کہ چین میں قبل از انقلاب امیر لوگ اپنے بچوں کو ترقی یافته ممالک یعنی یورپ اور امریکه پڑھنے کے لئے بھیج دیتے تھے جس وجه سے چین بدحالی کا شکار تھا اور پھر چینی باشعور لوگوں نے ایک قوم کا شعور دوسرے لوگوں کو دیا. علم حاصل کیا اور ٹیکنالوجی میں بام عروج حاصل کیا.بقول محترم دوست که کشمیر اور پاکستان کے امیر لوگ اپنے بچوں کو یورپی ممالک میں بھیج دیتے هیں لیکن اس کا برا نتیجه یه نکلتا هے ایسے لوگوں میں سے اکثریت اپنی تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں. ان کی اپنے وطن میں کوئ عزت نہیں ہوتی اور نه ہی کوئ طاقت هوتی هے وه بس اپنے خاندان کی حد تک عیاشی کرتے هیں اس سے پوری قوم نقصان اٹھاتی هے. اور یہی بات حقیقت ہے جس عمل سے آج دن تک کشمیر کو نقصان پهنچایا. کافی گفت و شنید و بحث و مباحثه کے بعد محترم دوست نے کہا ہم کشمیر کی مکمل آزادی کی چینی لوگ حمایت کرتے ہیں.

کشمیر اور پاکستان کے لوگوں کے پاس علم کی کمی هے جس وجه سے ٹیکنالوجی میں کمزور هیں. موصوف نے بتایا که چین ایک قوم بنی پھر علم حاصل کیا اور ٹیکنالوجی حاصل کی...کشمیر کے اندر وسائل موجود هیں لیکن جموں کشمیر کی عوام میں سواۓ چند لوگوں کے علاوه باقی کسی کے پاس علم نہیں هے اور ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنا ندارد هے. انہوں نے زور دیا کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ پہلے ایک قوم بن کر علم حاصل کر کے ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہوں. وسائل ہوں ٹیکنالوجی نه ہو تو بقا قائم رکھنا مشکل هے. راقم پر زور دیا که اپنے وطن کے لوگوں کو ایک نقطه پر قائم کرنے کی سعی کریں۔ اپنی آزادی کے حصول کے ساتھ علم حاصل کرنا محکوم قوموں بالخصوص ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کے لئے ناگزیر هے.ایک مثال دیتے هوۓ انھوں نے کہا کہ جاپان کے پاس وسائل کم ہیں لیکن اس کے پاس ٹیکنالوجی کی طاقت هے جس وجه سے موجودہ دور میں جاپان بلندی پر ہے. موصوف سے رابطہ اب نہیں رہا تاہم 4 سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود یہ باتیں ذہن پر نقوش ہیں۔محترم قارئین محوله بالا حقیقت پر مبنی باتوں سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے

کہ ہمارے لوگوں کے پاس علم کی کمی هے. ستم ظریفی که ہمارے نوجوان مختلف جامعات سے انجینیرنگ کی ڈگری اٹھاۓ پھرتے ہیں لیکن عملی کام سے ناواقف ہیں. اس نسبت چند سال قبل جموں کشمیر محاذ راۓ شماری کے ممبر محمود احمد مسافر ساکنه کوٹلی نے مظفرآباد میں بھوک ہڑتال کی تھی. ان سے کوئ شخص جب بھی پوچھتا کہ آپ کا مطالبه کیا هے؟ محمود مسافر کا ایک ہی جواب رہتا کہ منگلا ڈیم میرپور کو پیرچناسی کی چوٹی مظفرآباد منتقل کیا جاۓ.لوگ یه جواب سن کر اسے پاگل سمجھتے لیکن محمود مسافر کی یه بات ٹھیک تھی کہ انجئینرنگ اور میڈیکل کی ڈگری اٹھا کر نوکری کے لیے دوڑ پڑتے هو جب که تحقیق اور ایجادات کرنے سے قاصر هو پھر اپنی ڈگریوں کو آگ لگا دو۔ پی۔ ایچ ڈی اور اسکالر لوگ وطن کی تاریخ, اخلاقیات,اسلاف, معاشره سے ناواقف ہیں. ایک مضمون میں ایم.فل یا پی۔ ایچ ڈی کرنے والے پڑھا لکھا جاهل ہو گا اگر وه وطن کی حقیقی تاریخ سے ناواقف, اخلاقیات سے دور, اپنے مذهب سے نابلد اور اسلاف کے کارنامه جات سے ناآشنا هو.

خواجہ ناظم عثمانی

آپ جنت ارضی اور برصغیر کے سر کا تاج ریاست جموں کشمیر و تبت ہا کے ماہ پارہ علاقہ مچھیارہ نیشنل پارک، وادی کوٹلہ، مظفرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے معاشرے سے معاشرتی و سماجی برائیوں کے سدباب کے لئے ریاستی و بین الاقوامی اخبارات، رسائل و جرائد میں بیسیوں مضامین منصہ شہود پر آئے جن کو عوام الناس میں بھرپورپذیرائی حاصل ہوئی۔ آپ مشرقی معاشرہ کے سماجی تغیر و تبدل کی منظر کشی کرنے والی کتاب "خواہشوں کا ایندھن" کے مصنف بھی ہیں۔ آپ نے بحیثیت ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہفت روزہ پیام کشمیر اپنی صحافتی خدمات سرانجام دیں۔ آپ جولائی ۲۰۱۶ء میں پسے ہوئے طبقات، مزدوروں و محنت کشوں کی جماعت نیشنل لیبر کونسل جموں کشمیر کے مرکزی سیکرٹری متمکن ہوئے۔ آپ بالخصوص مشرقی معاشرہ اور بالعموم دنیا کو عالمی گاؤں کی طرح دوستانہ گاؤں بنانے کا ایک سنہری تصور بھی رکھتے ہیں اور اس نسبت حال ہی میں آپ نے ایک نیا سماجی، معاشی و سیاسی نظریہ عبوری موسومہ ’’عرشیات‘‘ تخلیق کیا جو ابھی نوک پلک سے گزر رہا ہے۔

خواجہ ناظم عثمانی