تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

فیڈریشن سمیت تمام بڑے چیمبرز نے بجٹ مسترد کردیا

فیڈریشن سمیت تمام بڑے چیمبرز نے بجٹ مسترد کردیا
  • واضح رہے
  • جون 13, 2019
  • 1:04 صبح

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت اور نکاٹی نے 5 برآمدی سیکٹرز کیلئے زیروریٹنگ سیلز ٹیکس کی سہولت کے خاتمے کو صنعتوں کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کا پہلا مکمل بجٹ مسترد کرنے والا پہلا چیمبر اسی صوبہ کا ہے، جہاں پی ٹی آئی نے 5 برس حکومت کی اور اب بھی خیبر پختون میں اسی کی حکومت ہے۔ خیبر پختون چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق اس بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ اور کاروباری طبقے پر اتنا بوجھ ڈال دیا گیا جو وہ اٹھانے کے قابل ہی نہیں۔ اس لئے کاروباری طبقہ اس بجٹ کو مسترد کرتا ہے۔

بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجٹ 2019-20 پر غور کیلئے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل باڈی کا ہنگامی اجلاس ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کاراچی، ریجنل آفس لاہور اور کیپٹل آفس اسلام آباد میں طلب کیا، جس کی صدارت ایف پی سی سی آئی کے قائمقام صدر نور احمد خان نے کی۔

اجلاس میں شرکاء نے حکومت کی جانب سے 5 ایکسپورٹ سیکٹر پر زیرو رٹیٹڈ کی سہو لت ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 17 فیصد سیلز ٹیکس کے 5 ایکسپورٹ سیکٹرز پر نفاذ سے ریفنڈز اور کر پشن کے مسائل دو بارہ جنم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زیروریٹ اسکیم کئی دہائیوں سے نفاذ تھی جس کی وجہ سے مذکورہ سیکٹرز بالخصوص ٹیکسٹائل کی صنعت کی برآمدات میں اضافہ ہوا، جو ہماری معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت نے اس اسکیم کو مزید فروغ دینے کی بجائے اس اسکیم کو ختم کر دیا، انہیں امید ہے کہ آٹو میٹڈ ریفنڈسسٹم موثر طریقے سے عمل کر ے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیلز ٹیکس کے زیر التوا ریفنڈز کو بلا تاخیر ادا کیا جا ئے۔ شرکا نے کہا کہ بجٹ میں تقریباً 700 بلین اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ہدف مشکل ہو گا اور بتایا کہ ہدف پورا کرنے کی صورت میں منی بجٹ لا یا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوردنی تیل پر 17 فیصد ایف ای ڈی اور سیلز ٹیکس کی شرح میں 8 سے 17 فیصد اضافے سے عام آدمی متاثر ہو گا۔

ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے کیلئے معاشی پالیسی کی تیاری کیلئے چارٹر آف اکنامی بنایا جائے۔ اشتہارات پر 10 فیصد ٹیکس ختم کیا جائے۔ کاروباری عورتوں کو دو سال کیلئے ٹیکس چھوٹ دی جا ئے۔ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مشینری کی قیمت پر 10 فیصد ٹیکس چھوٹ بحال کی جائے۔

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے سرپرست اعلیٰ کیپٹن اے معیز خان، صدر سید طارق رشید، سینئر نائب صدر اظفر حسین اور نائب صدر فیصل شابو نے وفاقی بجٹ 2019-20 کو صنعتوں کے فروغ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے 5 برآمدی سیکٹرز کیلئے زیرو ریٹنگ سیلز ٹیکس کی سہولت ختم کرنے کو صنعتوں کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایس آر او 1125 کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے برآمدی سیکٹرز کیلئے یہ سہولت دوبارہ بحال کرے۔

نکاٹی کے رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی صنعتوں کیلئے سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے سے پیداواری لاگت میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوجائے گا اور برآمد کنندگان کو سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے برآمدات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے سے برآمدی صنعتیں تباہ جائیں گی اور بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔

 

ادھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے سابق صدر اور بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کیلئے 5500 ارب روپے کا انتہائی مشکل ہدف دیا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کے نظریہ اور عمران خان کی سوچ سے متصادم قرار دے دیا۔ تاجر برادری سمجھتی ہے کہ وفاقی بجٹ آئی ایم ایف نے تیار کیا، 5550 ارب روپے کے ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ عوام پر پڑے گا۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ چینی پر جی ایس ٹی میں اضافے سے کیا عام آدمی متاثر نہیں ہوگا؟ صنعتیں نئے ٹیکس لگنے کے بعد اپنی اضافی پیداواری لاگت کو عوام تک منتقل کریں گی جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، چینی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ پر بھی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے تعمیرات مہنگی ہو جائیں گی، ہمیں چیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹیکس دینے والوں کو نہیں چھیڑا جائے گا تاہم اس بجٹ سے لگتا ہے کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔