تازہ ترین
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زورمصباح کو ہیڈ کوچ۔ چیف سلیکٹر کی دوہری ذمہ داری مل گئیپاکستانی تربیت یافتہ کمانڈوز دیش میں داخل ہوگئے۔ بھارت کا نیا شوشہرانا ثناء اللہ کو مزید جیل میں رکھنے کا نیازی منصوبہسعودی عرب میں نماز کے اوقات میں کاروبار کی اجازت

دنیا کے طویل القامت جانور کو ناپیدی کا خطرہ

دنیا کے طویل القامت جانور کو ناپیدی کا خطرہ
  • واضح رہے
  • مئی 1, 2019
  • 2:45 شام

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 3 دہائیوں میں زرافوں کی آبادی 40 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این نے کہا ہے کہ افریقی جنگلات میں انسانوں کی سرگرمیوں کے باعث زرافوں کی دو نسلیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے باعث انہیں انتہائی خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

آئرش پوسٹ کے مطابق عالمی ادارے نے کہا کہ افریقی ممالک میں کوردوفن اور نوبین نسل کے زرافوں کی آبادی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ جبکہ ایک اور نسل ریٹیکولٹڈ بھی خطرے سے دوچار ہے۔ اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ 90 کی دہائی سے زرافوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوردوفن زرافہ کیمرون، چاڈ، سینٹرل جمہوریہ افریقہ اور مغربی سوڈان میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ نوبین زرافے ایتھوپیا، کینیا، یوگینڈا، سوڈان، جنوبی سوڈان میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں اقسام کے زرافے ایرٹریا، گینیا، برکینا فاسو، نائجیریا، ملاوی، مورتانیہ اور سینیگال میں بھی موجود ہیں، جہاں ان کی نسل معدومی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں اب صرف 5200 کوردوفن اور 17 ہزار 785 نیوبن زرافے باقی رہ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بر اعظم افریقہ میں زرافہ کی نو مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور اس کی یہ اقسام اس کی جلد کے دھبوں سے پہچانی جاتی ہیں، مگر ان سبھی کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ آئی یو سی این اسپیشل سروائیول کمیشن کی شریک چیئرمین جولیان فیسینی نے بتایا ہے کہ افریقہ میں کان کنی، تعمیراتی کام، غیر قانونی شکار اور زراعت کے فروغ کے باعث ذرافے اپنی آبائی پناہ گاہوں یا فطری گھر سے محروم ہوجاتے ہیں۔

جولیان فیسینی نے کہا کہ افریقہ کے جنوبی حصوں میں زرافوں کو زیادہ خطرہ لاحق نہیں ہے، مگر مشرقی، سینٹرل اور مغربی افریقہ میں دنیا کے سب سے طویل القامت جانور ناپید ہو رہے ہیں۔ 90 کی دہائی سے زرافہ کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1985 تک دنیا بھر میں زرافوں کی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار تھی تاہم اب یہ گھٹ کر صرف 97 ہزار رہ گئی ہے۔