تازہ ترین
بیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاریخود سے قرآنی تعلیمات سمجھیں۔شمالی کوریا اور قدرتی قانونکتب بینی اور انفارمیشن ٹیکنالوجیجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔عیدالاضحیٰ کے پیش نظر سُپر ہائی وے بند نہ کرنیکی اپیلکراچی کیلئے بجلی مہنگی کرنے کے بجائے چوری، لائن لاسز روکے جائیں۔ میاں زاید حسینگندم بروقت درآمد نہ ہوئی تو آٹا بحران شدید ہوسکتا ہے۔ شیخ عمر ریحانعید الاضحی کے موقع پر غریبوں کا خیال رکھا جائے، میاں نعیم الدین

دنیا کے طویل القامت جانور کو ناپیدی کا خطرہ

دنیا کے طویل القامت جانور کو ناپیدی کا خطرہ
  • واضح رہے
  • مئی 1, 2019
  • 2:45 شام

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 3 دہائیوں میں زرافوں کی آبادی 40 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این نے کہا ہے کہ افریقی جنگلات میں انسانوں کی سرگرمیوں کے باعث زرافوں کی دو نسلیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے باعث انہیں انتہائی خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

آئرش پوسٹ کے مطابق عالمی ادارے نے کہا کہ افریقی ممالک میں کوردوفن اور نوبین نسل کے زرافوں کی آبادی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ جبکہ ایک اور نسل ریٹیکولٹڈ بھی خطرے سے دوچار ہے۔ اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ 90 کی دہائی سے زرافوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوردوفن زرافہ کیمرون، چاڈ، سینٹرل جمہوریہ افریقہ اور مغربی سوڈان میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ نوبین زرافے ایتھوپیا، کینیا، یوگینڈا، سوڈان، جنوبی سوڈان میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں اقسام کے زرافے ایرٹریا، گینیا، برکینا فاسو، نائجیریا، ملاوی، مورتانیہ اور سینیگال میں بھی موجود ہیں، جہاں ان کی نسل معدومی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں اب صرف 5200 کوردوفن اور 17 ہزار 785 نیوبن زرافے باقی رہ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بر اعظم افریقہ میں زرافہ کی نو مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور اس کی یہ اقسام اس کی جلد کے دھبوں سے پہچانی جاتی ہیں، مگر ان سبھی کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ آئی یو سی این اسپیشل سروائیول کمیشن کی شریک چیئرمین جولیان فیسینی نے بتایا ہے کہ افریقہ میں کان کنی، تعمیراتی کام، غیر قانونی شکار اور زراعت کے فروغ کے باعث ذرافے اپنی آبائی پناہ گاہوں یا فطری گھر سے محروم ہوجاتے ہیں۔

جولیان فیسینی نے کہا کہ افریقہ کے جنوبی حصوں میں زرافوں کو زیادہ خطرہ لاحق نہیں ہے، مگر مشرقی، سینٹرل اور مغربی افریقہ میں دنیا کے سب سے طویل القامت جانور ناپید ہو رہے ہیں۔ 90 کی دہائی سے زرافہ کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1985 تک دنیا بھر میں زرافوں کی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار تھی تاہم اب یہ گھٹ کر صرف 97 ہزار رہ گئی ہے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے