تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

بھارتی فوج کی دیہاتیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کا واقعہ

بھارتی فوج کی دیہاتیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کا واقعہ
  • واضح رہے
  • جون 25, 2019
  • 2:22 شام

30 سے 40 مسلح اہلکار کرنل کی قیادت میں دندناتے ہوئے ایک فارم میں داخل ہوئے اور فصل کو نقصان پہنچایا، جس کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑنے والی بھارتی فوج نے اپنے شہریوں کو بھی نہ بخشا۔ ریاست مہاراشٹر میں ایک حاضر سروس فوجی کرنل کھیتی باڑی کی زمین ہتھیانے کیلئے غنڈہ گردی پر اتر آیا اور طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 30 سے 40 سپاہیوں کو پونے کے قریب واقع گولانی نامی گاؤں لے کر پہنچا، جہاں مسلح اہلکاروں نے جدید اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

بھارتی فوج کے مذکورہ کرنل اور 30 فوجیوں کیخلاف پونے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کرنل نے اور اس کے ماتحت اہلکار 4 فوجی گاڑیوں میں گاؤں آئے تھے اور انہوں نے دیہاتیوں کو خوف زدہ کرنے کے علاوہ ٹریکٹرز کے ذریعے ان کی سویا بین کی فصل کو بھی نقصان پہنچایا۔ کمپلین میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کرنل نے کسانوں کو زمین نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق 65 ایکٹر رقبے پر پھیلی اراضی کے حوالے سے کرنل کی فیملی اور دیگر دو فیملیز کا تنازع چل رہا ہے۔ 14 جون کو بھی کرنل کے والد اور بھائی نے گاؤں میں ہنگامہ کیا تھا، جس کے بعد 22 جون کو خود کرنل علاقے میں فوجیوں اہلکاروں کے ساتھ پہنچا اور دونوں فیملیز کے ممبران کو فارم خالی کرنے کیلئے ڈرایا دھمکایا۔ تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس زمین کے مالکان میں شامل ہیں اور اس حوالے سے سیشن کورٹ میں 2013 سے کیس چل رہا ہے۔

ادھر مذکورہ کرنل نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے گاؤں میں گھس کر کسی کو دھمکی نہیں دی، بلکہ ایف آئی آر درج کرانے کا مقصد اس کی فیملی اور بھارتی فوج کو بدنام کرنا ہے۔ دوسری جانب پونے پولیس سپرنٹنڈنٹ سندیپ پٹیل کا کہنا ہے کہ گاؤں میں دھاوا بولنے والے تمام فوجی وردی میں تھے۔ ان کیخلاف مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جبکہ واقعے کے حوالے سے عینی شاہدین اور دیہاتیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کئے جا رہے ہیں.