تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

اے آر وائی کا گولڈ بسکٹ کے بعد عوام سے ایک اور کھلواڑ

اے آر وائی کا گولڈ بسکٹ کے بعد عوام سے ایک اور کھلواڑ
  • واضح رہے
  • اگست 27, 2019
  • 8:03 شام

گیم شو ’’جیتو پاکستان‘‘ کی انتظامیہ کی جانب سے پروگرام میں انعام جیتنے والے شہریوں کو بے وقوف بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

کراچی اے آر وائی کے گیم شو ’’جیتو پاکستان‘‘ میں ایک برس پہلے 5 تولہ سونا جیتنے والا کراچی کا شہری آج بھی انعام ملنے کا منتظر ہے۔ پروگرام کے ایک سیگمنٹ میں 5 تولہ سونا جیتے والے صنم کامران نے ’’واضح رہے‘‘ کو اے آر وائی ہیڈ آفس اینڈ اسٹوڈیوز کی ایک رسید بھیجی ہے، جس میں لکھا ہے کہ انعام جیتنے والے/ والی کو اس کا گفٹ 90 روز کے اندر پہنچا دیا جائے گا۔

تاہم صنم کامران کو ایک برس گزر جانے کے باوجود 5 تولہ سونا نہیں مل سکا ہے۔ کراچی کے علاقے لانڈھی کے رہائشی متاثرہ شخص نے یہ انعام 23 جولائی 2018 کو جیتا تھا۔ رسید کی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اے آر وائی انتظامیہ نے اسے رابطہ کیلئے اپنے نمبرز بھی دیئے ہیں۔ تاہم ان نمبروں پر رابطہ کرکے بھی انہیں اب تک انعام نہیں بھیجا گیا۔

اس سے قبل 2017 میں بھی سونے کا انعام جیتنے والے ایک شہری کے ساتھ ایسا ہی دھوکہ ہوا تھا۔ آصف علی نے یکم جون 2017ء کو ریکارڈ 50 تولہ سونا جیتا تھا اور فراڈ سے متعلق 2 جون 2018 کی ایک خبر شائع ہونے تک آصف کو یہ انعام نہیں ملا تھا۔

متاثرہ شخص آصف علی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے پروگرام کے میزبان اداکار فہد مصطفی کو یاد دلایا تھا کہ ’’بھائی میں ہی وہ شخص ہوں جس نے آپ کے پروگرام میں پہلی بار 50 تولہ سونے کا انعام جیتا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ دو برس قبل رمضان المبارک کے دوران اے آر وائی کے گولڈ بسکٹ کا ہوش ربا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس پر سُناروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کے مالک سلمان اقبال سے ملاقات کی تھی۔

سُناروں کی ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ اے آر وائی نے دانستہ طور پر اپنے 10 گرام سونے کے بسکٹ کا ریپلیکا بناکر مارکیٹ میں پھیلا دیا تھا، جس سے سُناروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ اے آر وائی نے چند ہفتوں میں بھاری منافع کمالیا تھا۔