تازہ ترین
کورونا کی عقلمندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دینی مدارس رفاہ عام میں سب سے آگےبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہدیکھنا قیمت گلزار بھی گرجائے گیاللہ کی طاقت، کرونا وائرس اور حفاظتی حصارخاموشئی احساس سے مردہ ضمیری تکہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہوآخر دنیا ختم ہونے کی کتنی پیش گوئیاں کی جائیں گی!ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹیآٹا سستا ہونے کے باوجود عوام 70 روپے فی کلو خریدنے پر مجبورکورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کا خطرہسابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئی

افغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازی

افغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازی
  • واضح رہے
  • ستمبر 8, 2019
  • 2:02 شام

کابل حملے کو جواز بناکر صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ آج ہونے والے امن مذاکرات منسوخ کردئیے ہیں۔ جبکہ مائیک پومپیو بھی معاہدے کے مخالف تھے

امریکی صدر ٹرمپ نے کابل میں گزشتہ دنوں ہونے والے کار بم دھماکے پر افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا، جس پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ قلابازی افغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ نے بھی طالبان سے معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ’’اسلامی ریاست‘‘ کے لفظ کے استعمال پر افغانستان میں قیام امن کے ضامن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہونی تھیں لیکن کابل حملے کے بعد انہوں نے یہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ کابل حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، دباؤ ڈالنے کیلئے طالبان نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے بلکہ انہوں نے اپنی پوزیشن خراب کرلی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے سفارت کاری کا دروازہ اچانک بند کر دیا اور وہ طویل عرصے جاری رہنے والے مذاکرات سے بھاگ گئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں طالبان سے خفیہ ملاقات کا ذکر کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے بم کا گولا پھاڑ دیا۔

ادھر جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق اگر ٹرمپ اور طالبان وفد کی ملاقات ہو جاتی تو یہ امریکا پر گیارہ ستمبر 2001ء کے ان حملوں کے 18 برس پورے ہونے سے محض دو تین روز قبل ہوتی، جن میں تقریباً تین ہزار انسان مارے گئے تھے۔ اس بات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی عوام کے رد عمل اور نائن الیون کی 18 برسی کی وجہ سے مذاکرات سے پیچھے ہٹے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے کل رات گئے کیے جانے والے اعلان سے قبل امریکا افغان طالبان کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن بات چیت کے چھ دور مکمل کر چکا تھا اور اس مکالمت کے بعد بہت حد تک یہ امید بھی پیدا ہو گئی تھی کہ افغانستان کی اس 18 سالہ جنگ کا کسی امن معاہدے کی صورت میں اختتام ممکن ہے جو اب امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے 9 دور چلے جس کے بعد امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنماؤں کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد اب افغانستان جا کر افغان حکومت کو اعتماد میں لوں گا لیکن تین روز قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیک پومپیو سمجھتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ معاہدے اور اس میں ’’اسلامی ریاست‘‘ کے لفظ کا استعمال اس امر کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ طالبان افغانستان میں سیاسی قوت ہیں۔

گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی نے بھی طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دورئہ امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ جبکہ افغانستان کے نائب صدر نے بھی طالبان سے معاہدے اور امریکی فوجی انخلا کے طریق کار کی مخالفت کی تھی۔