تازہ ترین
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہوآخر دنیا ختم ہونے کی کتنی پیش گوئیاں کی جائیں گی!ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹیآٹا سستا ہونے کے باوجود عوام 70 روپے فی کلو خریدنے پر مجبورکورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کا خطرہسابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکان

5 برس بعد ٹیکسی بھی اُڑے گی

5 برس بعد ٹیکسی بھی اُڑے گی
  • واضح رہے
  • مئی 21, 2019
  • 1:14 صبح

جرمن کمپنی نے 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ایئر ٹیکسی تیار کرلی ہے، جو ایپ کی مدد سے استعمال کی جا سکے گی۔

جرمنی کی ایک کمپنی نے بغیر پائلٹ والی ایئر ٹیکسی تیار کرلی ہے، جو 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنی منزل پر پہنچ سکتی ہے۔ حال ہی میں گراﺅنڈ کنٹرول سسٹم کے ساتھ تیار کی جانے والی فضائی ٹیکسی کی میونخ میں پہلی تجرباتی پرواز کی گئی۔

لیلیئم کمپنی کے حکام نے کہا ہے کہ سٹرکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبہ پر دو برس قبل کام شروع کیا گیا تھا، جو کامیابی سے مکمل ہوا۔ پانچ نشستوں کی یہ پروٹوٹائپ ائیر ٹیکسی ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی پرواز کرسکتی ہے اور افقی پرواز کیلئے جیٹ طیارہ کی طرح اس کے دو پر لگائے گئے ہیں۔

امریکی جریدے ’’دی ورج‘‘ کے مطابق جرمنی میں دنیا کی سب سے پہلی پانچ سیٹوں والی سیلف فلائنگ ٹیکسی متعارف کروا دی گئی ہے، جو ایک گھنٹے میں 300 کلو میٹر سفر طے کرسکتی ہے۔ 36 الیکٹرک موٹرز والی یہ ٹیکسی ایک بار چارج ہونے کے بعد ایک گھنٹہ سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جرمن کمپنی کا کہنا ہے کہ فضائی ٹیکسی سے آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

کمپنی کے سربراہ بگ ریلا نے کہا ہم نے ایک خواب کو حقیقی شکل دی ہے۔ اب مسافر کسی دقت کے بغیر منٹوں میں اپنی منزل پر پہنچیں گے جس کے اندر نصب ایپ کی مدد سے مسافروں کو قریبی مقامات پر بھی لینڈنگ پیڈ کی سہولت حاصل ہو گی۔ ائیر ٹیکسی 2025ء تک عام استعمال کیلئے مارکیٹ میں آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 5 برس بعد ہم یہ منصوبہ مختلف شہروں میں شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ اربن ٹرانسپورٹ کی ترقی کیلئے ائیر بس بوئنگ اور اوبر جیسی دیگر کمپنیاں بھی ایئر ٹیکسی کے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں۔