تازہ ترین
کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ اور کراچی کچرا کنڈیبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میڈیا سے کتراتی ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کی بے گناہی کو بالواسطہ تسلیم کرلیامقبوضہ کشمیر: بھارت کو ایک اور جھٹکا دینے کی پاکستانی تیاریوکٹ ٹیکر سری لنکن اسپنر کا بالنگ ایکشن رپورٹپاکستان میں فوجی سربراہان کی تاریخکولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو پاکستان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ ٹرمپبھارتی فوج نے کشمیر میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اٹھا لیا’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کا مقدمہ لڑا جائے‘‘جنریشن گیپ ایک معاشرتی ناسورکشمیر میں بدترین مظالم پر عالمی برادری کو ہوش آگیانماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچیبھارتی ٹینس ایسوسی ایشن کا پاکستان میں ڈیوس کپ کھیلنے سے انکارحکومتی عدم توجہی سے سی پیک منصوبے متاثر ہونے لگےسرکاری سعودی آئل کمپنی کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘تعلق کے دوہرے معیار سے نجات!وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائےیومِ آزادی پر چوری شدہ نغمے کا استعمال 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

سرفراز کی بزدلانہ بیٹنگ۔ پاکستان 41 رنز سے ہار گیا

pakistan vs australia world cup 2019
  • واضح رہے
  • جون 12, 2019
  • 10:54 شام

ٹیل اینڈرز حسن علی اور وہاب ریاض کی دلیرانہ اننگز کے باوجود کپتان فرنٹ پر آنے سے گریز کرتے رہے اور آخری وکٹ کیلئے بھی آسٹریلوی بالرز کا سامنا نہیں کیا۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے فاسٹ بالر محمد عامر کی کیریئر بیسٹ بولنگ پر پانی پھیرتے ہوئے 308 رنز کے ہدف کو پہاڑ بنالیا۔

آسٹریلیا کی ٹیم محمد عامر کی شاندار بولنگ کے باعث 49 اوورز میں 307 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی جواب میں پاکستان 45.4 اوورز میں 266 رنز بناکر آل آؤٹ ہوگیا۔

محمد عامر نے اپنے کیریئر کی شاندار بولنگ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایک روزہ میچوں میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا۔

ٹاؤنٹن کے کاؤنٹی کرکٹ گراؤنڈ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور کہا کہ پچ پر گھاس اور نمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

سرفراز کی منصوبہ بندی کے برعکس آسٹریلیا کو ڈیوڈ وارنر اور ایرون فنچ نے بہترین آغاز فراہم کیا اور دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 146 رنز بنائے۔ ایرون فنچ کو محمد عامر نے شکار کرکے پاکستان کو پہلی وکٹ دلائی۔

اس دوران پاکستان کی فیلڈنگ انتہائی ناقص رہی اور کئی کیچ ڈراپ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی مواقع پر مِس فیلڈنگ کا بھی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔

آسٹریلیا کی دوسری وکٹ 29 ویں اوور میں 189 رنز پر گری۔ اس موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آسٹریلیا باآسانی 350 رنز بنا لے گا لیکن پاکستانی بالرز اور فیلڈرز کا رویہ یکسر تبدیل ہوا اور پاکستان میچ میں واپس آتا دکھائی دیا۔

42 ویں اوورز میں آسٹریلیا کا اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 288 تھا مگر پاکستانی بالرز نے آخری سات اوورز میں صرف 19 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور دفاعی چیمپیئن کو 307 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

آسٹریلیا جانب سے ڈیوڈ وارنز 107 اور ایرون فنچ نے 82 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ پاکستان کی جانب سے محمد عامر 30 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ عامر کے ون ڈے کیریئر میں پہلا موقع تھا جب انہوں نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور امام الحق نے کیا۔ صرف دو کے مجموعی اسکور پر فخر زمان غیر ذمہ دارانہ اسٹروک کھیلتے ہوئے باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ وہ کوئی رن نہ بناسکے۔

دوسری وکٹ پر بابر اعظم اور امام الحق نے اسکور 56 تک پہنچایا، اس موقع پر بابر اعظم 30 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد محمد حفیظ امام الحق کا ساتھ دینے آئے اور دونوں نے اسکور 136 پر پہنچادیا۔ اس موقع پر امام الحق 75 گیندوں پر 53 رنز بناکر کمنز کا شکار بن گئے۔ مجموعی اسکور میں 10 رنز کے اضافے کے بعد محمد حفیظ بھی 46 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

147 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کی پانچویں وکٹ گری جب شعیب ملک بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ 160 کے اسکور پر آصف علی صرف 5 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

اس موقع پر وہاب ریاض کریز پر آئے اپنی دھواں دار بیٹنگ سے پاکستان کو میچ میں واپس لے آئے۔ انہوں نے 39 گیندوں پر 3 چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے۔

مچل اسٹارک کی یارکر پر محمد عامر بھی بولڈ ہوگئے۔ وہ کوئی رن نہ بناسکے۔ آخری بیٹسمین شاہین شاہ آفریدی تھے جو کریز پر آئے، ان کے ساتھ کپتان سرفراز احمد بھی وکٹ پر موجود تھے۔

45 ویں اوور کی آخری گیند پر شاہین شاہ آفریدی نے سنگل لیا جس کے بعد 46 ویں اوور میں انہیں دوبارہ اسٹرائیک مل گیا اور سرفراز دوسرے اینڈ پر کھڑے رہے۔

کین رچرڈسن نے شاہین آفریدی کو 3 گیندیں مس کرائیں، چوتھی گیند پر شاہین آفریدی نے ہلکا اسٹروک کھیلا جس پر سرفراز نے رن لینے کی کوشش کی اور دوسرے اینڈ پر رن آؤٹ ہوگئے۔

سرفراز احمد نے 48 گیندوں ایک چوکے کی مدد سے 40 رنز بنائے۔

یوں پاکستان کی پوری ٹیم 45.4 اوورز میں 266 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور آسٹریلیا یہ میچ 41 رنز سے جیت گیا۔

ڈیوڈ وارنر کو شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس میچ میں پاکستان ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی تھیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل کیا گیا جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

ورلڈکپ میں دونوں ٹیمیں اب تک 10 بار آمنے سامنے آئی ہیں اور آسٹریلوی ٹیم کا پلڑا بھاری رہا ہے، گرین شرٹس نے 4 اور کینگروز نے 6 میچز میں کامیابی سمیٹی۔