تازہ ترین
وفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زورمصباح کو ہیڈ کوچ۔ چیف سلیکٹر کی دوہری ذمہ داری مل گئیپاکستانی تربیت یافتہ کمانڈوز دیش میں داخل ہوگئے۔ بھارت کا نیا شوشہرانا ثناء اللہ کو مزید جیل میں رکھنے کا نیازی منصوبہ

مصباح کا پروفیشنلزم پر زور

مصباح کا پروفیشنلزم پر زور
  • واضح رہے
  • ستمبر 5, 2019
  • 1:45 صبح

نو منتخب ہیڈ کوچ نے پریس کانفرنس میں اشارتاً یہ بھی کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ایمانداری سے کام کرنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں

سابق کپتان مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مقرر کئے جانے کے فیصلے کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں سراہا جا رہا ہے۔ دوہری ذمہ داری ملنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مصباح الحق نے پروفیشنلزم پر زور دیا اور کہا کہ وہ تنقید برائے اصلاح پر یقین رکھتے ہیں۔

نو منتخب ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے اوپر نہیں جا پا رہی۔ اس غیر مستقبل مزاجی کی بنیادی وجہ غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ ایک میچ میں ٹیم بہت اچھی فیلڈنگ کرتی ہے تو دوسرے میچ میں ناقص فیلڈنگ کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ یہ سب پروفیشنلزم کے فقدان کی وجہ سے ہے۔ ٹیم میں پروفیشنلزم ہوگی تو یہ چیزیں ختم ہوجائیں گی۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں پروفیشنلزم کس طرح لانی ہے اس پر کام کرنا ہے۔ میں بالنگ کوچ وقاریونس کے کام میں مداخلت نہیں کروں گا، ہماری شروع سے ہی سوچ تھی کہ سلیکٹر اور کوچ ایک ہی ہونا چاہئے، پلائنگ الیون کا فیصلہ کپتان کو کرنا چاہئے اور اسے سلیکشن میں اہمیت دینی چاہئے۔

سابق کپتان نے ٹیم میں فٹنس کے حوالے سے بھی بات کی۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ایمانداری اور دیانت داری سے کام کرنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ لیکن میں اپنا کام پوری ایمانداری سے کرنے کی کوشش کروں گا۔ میری اولین ترجیح پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں آگے لے کر جانا ہے، کیونکہ سب سے اہم فارمیٹ ٹیسٹ ہے۔ اگر ہم ٹیسٹ کرکٹ میں اچھے ہوں گے تو ون ڈے کرکٹ بھی آسان ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ مصباح الحق نے پروفیشنلزم پر زور دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ لہٰذا اگر مصباح نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی بہتری کیلئے سخت اقدامات اٹھائے تو موجودہ کپتان سرفراز احمد کا ٹیم میں جگہ بنانا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ فی الحال انہیں ٹیسٹ اور ون ڈے قیادت سے ہٹانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔