تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

بنگلہ دیشی بورڈ کا غیر ملکی کوچز کی تنخواہوں میں کمی پر غور

853515-charl-langeveldt-and-daniel-vettori
  • واضح رہے
  • مئی 14, 2020
  • 10:59 شام

مارچ کے اوائل میں غیر ملکی کوچز اپنے اپنے وطن واپس لوٹ گئے تھے اور کورونا کی وبائی صورتحال کے باعث فوری طور پر کرکٹ سرگرمیاں بحال ہونے کا امکان نہیں

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) غیر ملکی کوچوں کے معاہدوں پر نظرثانی کرنے پر غور کر رہا ہے کیونکہ بورڈ توقع کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے وہ یہ رقم ضائع کریگا۔ وبائی امراض کی وجہ سے موجودہ حالات میں پوری دنیا میں تاحال کوئی کھیل اور کام ممکن نہیں ہے۔ زیادہ تر ملازمین کی طرح بنگلہ دیش ٹیم کا غیر ملکی کوچنگ عملہ بھی غیر معینہ مدت تک چھٹی پر ہے۔ مارچ کے شروع میں زمبابوے سیریز کے بعد، کوچ جو اپنے اپنے ممالک کے لئے روانہ ہوگئے تھے وہ لاک ڈاؤن میں پھنس چکے ہیں اور ہر کوئی اس صورتحال کے معمول پر آنے کا منتظر ہے تاکہ وہ واپس آکر اپنا کام شروع کرسکے۔

بی سی بی کرکٹ آپریشن کے چیئرمین اکرم خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پانچ یا چھ ماہ کی محصول ضائع ہوجاتی ہے تو انہیں کوچوں کے معاہدوں پر نظرثانی کرنی پڑسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی بی دوسرے بورڈوں کے برعکس تنخواہوں میں کٹوتی کا خواہاں نہیں تھا لیکن چونکہ بحران کی مدت غیر یقینی ہو رہی ہے تو ایسی صورت حال میں جب دفتر دوبارہ شروع ہوا تو ، کوچوں کے ساتھ بیٹھ کر معاہدے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ کے ہیڈ کوچ رسل ڈومنگو، فاسٹ بالنگ کوچ اوٹس گبسن اور فزیو جولین کالیفاٹو کا معاہدہ سالانہ بنیادوں پر کیا جاتا ہے جبکہ سپن بالنگ کنسلٹنٹ ڈینیئل ویٹوری، بیٹنگ کوچ نیل میکنزی اور فیلڈنگ کوچ ریان کوک کے معاہدے روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینیئل ویٹوری کا معاہدہ گزشتہ سال 20 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور رواں سال ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد 15 نومبر تک چلے گا۔
اس ٹائم فریم کے مطابق 2500 امریکی ڈالرز یومیہ کے حساب سے ڈینیئل ویٹوری کو بی سی بی کے لئے مجموعی طور پر 100 دن کام کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ اکرم نے مزید کہا حالات سازگار ہونے پر ہمیں غیر ملکی کوچز کے معاہدوں پر نظرثانی کرنی پڑسکتی ہے کیونکہ اگر حالات معمول پر آنے میں پانچ چھ ماہ سے زیارہ کا وقت لگا تو یقینا یہ دیکھنا ہوگا کہ بورڈ اور کوچز دونوں کے مقاصد کی تکمیل کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وجودہ حالات میں ڈینیئل ویٹوری بورڈ کو بہت مہنگے پڑ رہے ہیں لہذا ہمیں دیکھنا ہے کہ اس کے ساتھ بھی معاملات کیسے انجام طے پاسکتے ہیں۔ بی سی بی کے ایک اور عہدیدار کے مطابق بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے دن کے مطابق ویٹوری کو ادائیگی کی جائے گی۔ اس سے زیادہ ادائیگی کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ جن کوچز کے ساتھ یومیہ کے حساب سے معاہدہ کیا گیا ہے صورتحال معمول پر آجانے کے بعد ان کی ضرورت محسوس پڑنے پر ہی ہم ان سے کام لیں گے بصورت دیگر ہم ان سے کام نہیں لیں گے۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا فیصلہ بورڈ کرے گا کہ غیر ملکی کوچز کے ساتھ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ غیر ملکی کوچز میں ڈومنگو کا معاہدہ اگست 2019ء سے اگست 2021ء تک ہے جبکہ اس سال جنوری میں شامل ہونے والے کیریبین فاسٹ باﺅلنگ کوچ اوٹس گبسن کا معاہدہ جنوری 2022ء تک ہے۔ گزشتہ سال اگست میں شامل ہونے والے فزیو جولین کالیفاٹو کا معاہدہ نومبر 2021ء تک ہے جب کہ ٹرینر گذشتہ مارچ میں ٹیم میں شامل ہونے والے نکولس ٹریور لی کا اپریل 2023ء تک معاہدہ ہے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے