تازہ ترین
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشافافغان جنگ کو مزید طول دینے کیلئے امریکہ کی قلابازیعالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئےیوٹیوب پر نفرت کا اظہار 52 فیصد بڑھ گیاپی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال ’’مہنگائی کا سال‘‘ قرارروشنی بکھیرنے والے پودے تیارشہید مرسی کے چھوٹے بیٹے کو دل کا دورہ۔ انتقال کرگئےبھارتی زعم کی تقویت ہماری معاشرتی تنزلیپی بی آئی ایف کا شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہمصباح کا پروفیشنلزم پر زورمصباح کو ہیڈ کوچ۔ چیف سلیکٹر کی دوہری ذمہ داری مل گئیپاکستانی تربیت یافتہ کمانڈوز دیش میں داخل ہوگئے۔ بھارت کا نیا شوشہرانا ثناء اللہ کو مزید جیل میں رکھنے کا نیازی منصوبہسعودی عرب میں نماز کے اوقات میں کاروبار کی اجازت

عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئے

عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کر گئے
  • واضح رہے
  • ستمبر 7, 2019
  • 12:54 صبح

وزیر اعظم، صدر، آرمی چیف اور ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں سمیت مداحوں اور عوام نے عظیم کرکٹر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپنر عبدالقادر جمعے کے روز لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 63 برس تھی۔ ان کے خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ عبدالقادر کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کے والد کبھی بھی دل کے عارضے میں مبتلا نہیں رہے۔

عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 236 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 1983 اور 1987 کے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ عبدالقادر کے دو بیٹے سلمان قادر اور عثمان قادر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے ہیں۔

عبدالقادر کا شمار پاکستان ہی نہیں دنیا کے چند بہترین لیگ اسپنرز میں ہوتا تھا۔ آسٹریلوی شہرہ آفاق لیگ اسپنر شین وارن بھی عبدالقادر کے زبردست مداح تھے اور 1994 میں پاکستان کے دورے میں انہوں نے عبدالقادر کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی تھی اور ان سے لیگ اسپن کے گُر سیکھے تھے۔

کپتان عمران خان کو عبدالقادر پر ہمیشہ اعتماد رہا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے انھیں ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی موقع دیا۔ عبدالقادر نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا اور 104 ون ڈے میچوں میں وہ 132 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اقبال قاسم نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دونوں اگرچہ پہلے سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے تھے لیکن صحیح معنوں میں یہ تعلق 1978 میں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے دوران قائم ہوا جو عبدالقادر کی پہلی ٹیسٹ سیریز تھی۔ یہ تعلق بعد میں دوستی میں تبدیل ہوگیا اور ہم دونوں نے ایک ساتھ کئی دورے کیے۔

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ عبدالقادر کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ جو ان کے دل میں ہوتا تھا وہ بے دھڑک کہہ دیا کرتے تھے اور کرکٹ بورڈ کے کسی بھی بڑے سے بڑے آفیشل کے سامنے سچ بات کہنے سے نہیں گھبراتے تھے۔ درحقیقت وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن سے کرکٹ بورڈ کو یہ خوف رہتا تھا کہ کسی بھی غلط اقدام کی اگر کوئی کھل کر تنقید کرسکتا ہے تو وہ عبدالقادر ہی ہیں۔

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ عبدالقادر نے رائٹ آرم لیگ اسپن کے دم توڑتے فن کو دوبارہ زندہ کردیا۔ میں نے انہیں بہت کم لیگ اسپن کرتے دیکھا، وہ حریف بیٹسمینوں کو اپنی گگلی اور فلیپر سے چکمہ دیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ عبدالقادر کو اپنی لیگ سپن پر بہت فخر تھا اور وہ بہت جوشیلے انداز میں سب کو یہ بتایا کرتے تھے کہ وہ کیسے اپنے ایک ہی اوور میں چھ مختلف انداز کی گیندیں کراتے تھے، مطلب ان کی بالنگ میں کتنی ورائٹی تھی۔ عبدالقادر نے رائٹ آرم لیگ سپن کو ایک فن کا درجہ دے دیا تھا جو ستر کے عشرے میں معدوم ہوچکی تھی۔ وہ لیگ اسپن میں ایک ایسی جارحیت لے آئے تھے جو بیٹسمینوں کو حواس باختگی پر مجبور کردیتی تھی۔

ان کی بالنگ پر دنیا کے تمام ہی بڑے تجزیہ کاروں اور بڑے بڑے کرکٹرز نے تجزیے اور تبصرے کیے اور انہیں جدید کرکٹ کا بہترین لیگ سپنر قرار دیا۔ عبدالقادر کو انگلینڈ کی متعدد کاؤنٹی ٹیموں نے کھیلنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کوئی بھی پیشکش قبول نہیں کیا کہ وہ اپنا فن فروخت کرنا نہیں چاہتے۔

عبدالقادر کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بہترین انفرادی بالنگ کے ریکارڈ کے مالک ہیں۔ نومبر 1987 میں انھوں نے انگلینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کی ایک اننگز میں صرف 56 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

عبدالقادرنے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کرکٹ سے اپنا تعلق نہیں توڑا۔ وہ قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔ ویٹرنز کرکٹ بھی کھیلی اور لاہور میں نوجوانوں کے لیے اپنی ذاتی کرکٹ اکیڈمی بھی قائم کی۔