تازہ ترین
مولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشاف

ملائیشیا کے عوام مایوس تھے۔ مہاتیر محمد

مہاتیر محمد
  • واضح رہے
  • اپریل 7, 2019
  • 3:45 شام

اپنے ملک کیلئے سیاست سے ریٹائرمنٹ واپس لینے والے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد مسلم دنیا کے مقبول لیڈر اور بااثر شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں اسرائیل کو "قاتل قوم" قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے قاتلوں کو ملائیشیا میں داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔ 93 سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد دنیا کے زائدالعمر ترین وزیر اعظم ہیں۔ "واضح رہے" نے اپنے قارئین کی دلچسپی کیلئے مہاتیر محمد کے عالمی میڈیا کو دیئے گئے کچھ اہم انٹرویوز کا ترجمہ کیا، جس میں انہوں نے اپنی زندگی اور سیاست سے متعلق اہم باتیں کی ہیں۔

س: آپ سیاست کی طرف کیسے آئے؟

ج: ہم برطانوی سامراج کے تلے دبے ہوئے تھے، پھر جاپانی ہم پر قابض ہوگئے اور اس کے بعد جاپانیوں نے ہمارا ملک تھائی سامی لوگوں کے حوالے کر دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ہم فٹ بال ہیں، جسے کبھی لات مار کر یہاں کبھی وہاں پھیکنا جا رہا تھا۔ میرے لئے یہ سب بالکل بھی قابل قبول نہیں تھا۔ مجھے ایسا لگنے لگا تھا کہ لوگ ہماری عزت نہیں کرتے۔ میرا ماننا تھا کہ ہمارے ساتھ بھی برابری کا سلوک ہونا چاہیئے۔

س: آپ 93 برس کی عمر میں ہر روز کام پر جاتے ہیں، ایک ملک چلا رہے ہیں، پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں، اتنی توانائی کہاں سے لاتے ہیں؟

ج: دیکھیں، سالوں مہینوں کے حساب سے تو میں 93 برس کا ہوں، مگر حیاتیاتی طور پر میں اتنا بوڑھا نہیں۔ کبھی کبھار لوگ اپنی عمر سے زیادہ تندرست و توانا ہوتے ہیں۔ میں بڑی اعتدال پسند زندگی گزارتا ہوں۔ میں کچھ بھی غیر ضروری نہیں کرتا۔ میں کھانے کیلئے نہیں جیتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احتیاط کرنے کے باوجود میں کبھی بیمار بھی ہوجاتا ہوں۔ میرے دل کے دو آپریشن ہوچکے ہیں۔ لیکن میں عمومی طور پر اپنی صحت کا خیال رکھتا ہوں۔

س: سنا ہے آپ کی اپنی اہلیہ سیتی ہاسماہ سے پہلی ملاقات یونیورسٹی کے شعبہ میڈیسن میں ہوئی تھی۔ آپ کو اُن کی کون سی خصوصیت بھاگئی تھی؟

ج: دراصل اس دور میں زیادہ لڑکیاں میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کرتی تھیں اور ہمارے گروپ میں یہ واحد ملائیشین خاتون تھیں جو میڈیکل کورس کر رہی تھیں، لہٰذا قدرتی طور پر میں ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہماری بات چیت محبت میں تبدیل ہوگئی۔ اس دور میں خواتین کا تعلیم کی طرف زیادہ رحجان نہیں تھا، مگر سیتی ہاسماہ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ ان کی اسی لگن سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ انتہائی مضبوط اعصاب کی مالک ہیں۔

س: آپ کی شادی شدہ زندگی کو اب 62 برس ہوچکے ہیں، کامیابی کا راز کیا ہے؟

ج: کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھا، شروع شروع میں بلاشبہ ہم اکثر لڑتے جھگڑے تھے۔ مجھے ان سے ہمیشہ وقت کی پابندی نہ کرنے کی شکایت رہتی تھی۔ میں وقت کی سختی سے پابندی کرتا ہوں اور وہ بہت ٹائم لیتی ہیں۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ نہ میں انہیں بدل سکتا ہوں اور نہ ہی وہ میری عادتیں بدل سکتی ہیں۔ لہٰذا ہم ایک دوسرے کو ایسے ہی قبول کرلیں جیسے ہم ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ حب الوطنی، وفاداری اور ملک کیلئے کام کرنے جیسے معاملات پر سیتی ہاسماہ میری طرح ہی سوچتی ہیں۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں وہ مجھے کمپنی دیتی ہیں۔

س: آپ ایک جدید مسلم اکثریتی ملک کے لیڈر ہیں، کیا 2003 سے ملائیشیا میں اسلام کو تقویت ملی ہے؟

ج: دیکھیں جو اسلام آپ آج کل دیکھ رہے ہیں یہ حقیقی اسلام نہیں ہے۔ دراصل یہ اسلام کی وہ تصویر ہے جو مخصوص طاقتور افراد، سیاسی لیڈران اور مذہبی اسکالرز کی بنائی ہوئی ہے۔ ہم نے یہ مطالعہ کیا کہ یہ اسلام کی اصل تعلیمات سے متصادم ہے۔ یہ وہ تعلیمات نہیں جو قرآن مجید میں سکھائی گئی ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلام سب سے بہترین اور اعتدال پسند ہے۔ یہ جنگ کا پرچار نہیں کرتا۔ یہ کہتا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ قتل و غارت گری کو روکتا ہے۔ دیکھیں ہم وہی سب کر رہے ہیں جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا میں یہ کہوں گا کہ مذہب کی غلط تشریح نے ہمیں دنیا میں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

س: آپ نے الیکشن لڑنے کیلئے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیا، زندگی کے اس مرحلے پر آپ کو یہ فیصلے لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ج: جب میں رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہوا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ میں اب اپنی باقی ماندہ زندگی بڑے سکون سے گزاروں گا۔ اپنے اہلخانہ کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھاؤں گا۔ بدقسمتی سے میری رخصت کے بعد نئے آنے والے وزیراعظم نے آوے کا آوا بگاڑ دیا۔ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا تھا مگر اس کی سمت ہی تبدیل کردی گئی۔ بالخصوص جو کام میں نے شروع کئے ان سب کو ملیا میٹ کردیا گیا۔ اس صورتحال پر بہت سے لوگ مایوس ہوئے۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ برائے مہربانی کچھ کریں۔ (Please do something)

س: آپ کی حکومت کا پہلا سال مکمل ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ بطور وزیر اعظم کام جاری رکھیں؟

ج: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اپنے وعدے پر قائم ہوں۔ میں دو برس میں ہی اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا۔ لوگ جو بھی کہنا چاہتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں وہ ان کا حق ہے۔ ہم ایک جمہوریت پسند قوم ہیں۔

س: اگر عوام آپ سے پوری مدت کیلئے وزیراعظم رہنے کا مطالبہ کریں تو کیا آپ اسے مانیں گے؟

ج: دیکھیں اس کا انحصار ان لوگوں پر ہے جو مجھے وزارت عظمیٰ کے منصب پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمیں اس سلسلے توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

س: آپ کے پہلے دور حکومت میں کچھ لوگوں نے آپ کو آمریت پسند اور ڈکٹیٹر جیسے القابات سے نوازا، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ج: میں ڈکٹیٹر نہیں تھا، مجھے عوام نے پانچ بار منتخب کیا اور آج تک کسی ڈکٹیٹر نے خود استعفا نہیں دیا۔ میں نے دیا تھا۔ ملک کیلئے کام کرنا اور ڈلیور کرنا ہی میرے لئے اطمینان بخش ہے۔ صرف پیسہ نہیں کمانا ہوتا، اطمینان بھی بہت ضروری ہے۔ میں بہت سے ممالک کا سفر کرتا تھا اور دیگر ممالک آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے سوچا ملائیشیا کیوں نہیں۔ یہ سارا معاملہ اپنے قومی اثاثوں، ذمہ داریوں اور صورتحال کے جائزے کا ہے جس کے درست تجزیے سے ملک میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

س: کیا آپ کو اپنے پہلے دور حکومت کے حوالے سے کسی بات کا افسوس ہے؟

ج: زیادہ نہیں، لیکن مجھے لگا کہ یہ ملک (ملائیشیا) ایک کثیر نسل ملک ہے۔ آپ اس کو بدل نہیں سکتے اور یہی وہ امر ہے جسے میں نے بدلنے کی کوشش کی، کیونکہ مجھے امیر اور غریب کے درمیان تفریق پسند نہیں، نسلی تعصب پسند نہیں، کیونکہ یہ سب ملک کو غیر مستحکم کر دے گا۔ میں نے اس فرق کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ تمام طبقے کے لوگ اس ملک کی سہولیات سے استفادہ کرسکیں۔ مجھے اس مقصد میں تھوڑی ہی کامیابی ملی، مگر افسوس بحیثیت مجموعی میں ہار گیا۔ میری خواہش ہے کہ کاش میں مزید کچھ کرسکتا، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم راتوں رات لوگوں کے مائنڈ سیٹ، نقطہ نظر، طرز زندگی اور تہذیب تبدیل نہیں کرسکتے۔ میں پھر سے کوشش کروں گا۔

س: آپ بیلٹ اینڈ روڈ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کرنے والے پہلے عالمی رہنما تھے، اس سے آپ چین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

ج: چین کے حوالے سے ہمارا موقف چاہے جو بھی ہو مگر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ چین ایک بڑی طاقت ہے۔ ہمیں چین کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ان کی پالیسی اور حکمت عملی کو سمجھنا ہوگا، ہمیں لچک کا مظاہرہ کرکے چین کی پالیسیوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیئے، یہی وجہ ہے کہ میں اپریل کے آخر میں بیجنگ جاؤں گا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر میں چین کے سامنے ملائیشیا کا نقطہ نظر بھی پیش کروں گا۔

س: یہ نقطہ نظر کیا ہوگا؟

ج: ہم بیلٹ اینڈ روڈ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ بلکہ بہت پہلے ہی میں نے بہتر ٹرین سروس اور دیگر ذرائع سے پرانے سلک روڈ کو سدھانے کیلئے ممکنہ کوششیں کیں۔ سمندری راستہ پہلے میرے ذہن میں نہیں تھا مگر صرف سڑک نہیں بلکہ سمندی راستے بھی یکساں اہم ہیں۔ ہم سمندر کو اپنی سپلائی لائن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ سمندر (جنوبی بحیرہ چین) میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔

س: چین کی معیشت سے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں؟

ج: اگر آپ جاپان کی طرف دیکھیں تو ابتدا میں وہاں ترقی کی شرح بہت تیز تھی۔ حتیٰ کہ جاپان کی شرح نمو ڈبل ڈجٹ میں تھی۔ لیکن جیسے جیسے معیشت بڑھتی رہی شرح نمو گرتی گئی، کیونکہ بیس بڑی تھی۔ دیکھا جائے تو چین بھی اب ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے۔ اب چین میں بھی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور لوگ تگڑی تنخواہیں اور بہتر سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ یا شاید بڑی تیزی سے موجودہ دور کے مقابلے میں چین کی مسابقت کم ہوجائے گی۔