تازہ ترین
مولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشاف

عہد ساز شخصیت مولانا نظام الحق تھانوی کا انٹرویو (آخری حصہ)

Molana Nizam Ul Haq Thanvi
  • محمد عدنان کیانی
  • اپریل 24, 2019
  • 8:36 شام

مغربی میڈیا کو مسلمانوں کیخلاف ہونے والی دہشت گردی انفرادی فعل نظر آتی ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں یہ مائنڈ سیٹ نہیں ہے۔

س: مغربی میڈیا نے مسلمانوں کیخلاف ایک مائنڈ سیٹ کردیا ہے کہ دہشت گردی صرف مسلمان ہی کرسکتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کیخلاف دہشت گردی کو وہ دہشت گردی نہیں کہتے۔ کیا یہ صحیح ہے؟

ج: یہ بات تو ٹھیک ہے کہ سب نہیں مگر کچھ نے خصوصاً جو زائنسٹ (صیہونی) میڈیا ہے، اس نے تو یہی عکاسی کی کوشش کی ہے، انسان ایک منصوبہ بناتا ہے، لیکن سب سے بڑا منصوبہ ساز اللہ تعالیٰ ہے۔ دیکھیں ناں کرائسٹ چرچ حملہ آور نے مسلمانوں پر فائرنگ کی ویڈیو بناکر مسلمانوں کو صحیح ثابت کردیا۔ عراق پر چڑھائی کی کیا ملا؟ ٹونی بلیئر نے کہہ دیا یہ ہم سے غلطی ہوئی، لیکن انہوں نے اپنا پورا کام کیا۔ تو اس میں اس شخص نے خود کیمرہ لگایا، خود ویڈیو بنائی تو اب جب تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ مسلمانوں   کے ساتھ ظلم ہوا ہے، نہتے مسلمانوں پر اس طرح سے گولیاں چلانا کہیں کی انسانیت نہیں۔ اللہ تعالی نے انہی کے ذریعے ان کی مووی بنوا کر ان  کی اس ناپاک سازش کو عیاں کردیا۔ یہ بات درست ہے کہ مغربی میڈیا دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور  کوئی غیر مسلم ایسا فعل کرے تو اسے دہشت گرد نہیں کہتے   لیکن نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں یہ مائنڈ سیٹ نہیں ہے۔ سب سے پہلا خطاب جو نیوزی لینڈ کی  وزیر اعظم نے کیا اسی میں یہ واضح طور سے کہا کہ "یہ دہشت گردی ہے، انتہا پسندی کا عمل ہے"۔ امریکہ کی طرح کسی حیل وحجت، مصلحت میں نہیں پڑے کہ وہاں جب کوئی غیر مسلم ایسا کرتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاگل ہے، کوئی دماغی خرابی ہے اس لئے اس نے ایسا کیا۔ یہاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کوئی مصلحت نہیں رکھی بلکہ اسے ''ٹیررسٹ اٹیک'' کہا۔ اس سے  واضح اور دو ٹوک موقف گیا کہ اس طرح اب اور نہیں چلے گا اور مسلمانوں کے دن پھریں گے انشااللہ۔ دیکھیں یہ چند ممالک کی ملی بھگت ہے، غالباً زائنسٹ ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کو مارو جتنا مار سکتے ہو مارو۔ برما، غزہ، فلسطین، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اب تو ہندوستان کے باقی حصوں میں بھی یہ سب ہورہا ہے، گھروں میں گھس کر لاٹھیوں سے  مسلمان بچوں، خواتین، بچیوں کو مار رہے ہیں تو یہ سب بہرحال اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی بھی تو ہیں ناں۔ اللہ تعالی کی طاقت ہی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ہم اللہ سے مانگیں، رو رو کر مانگیں تو ان شااللہ یہ سب خود اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عہد ساز شخصیت مولانا نظام الحق تھانوی کا پہلا انٹرویو (حصہ اول)

س: کیا عالمی برادری نے اس دہشت گردی پر  منصفانہ کردار ادا کیا ہے؟ یا کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

ج: عالمی برادری سے مراد اگر حکومتیں ہیں تو  وہ سب اپنی اپنی مصلحتوں، پالیسیوں، مفادات و سیاست و عزائم  میں لگے ہوئے ہیں۔ البتہ پورے عالم میں تمام عوام نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو اس قدر سراہا ہے کہ تمام لوگ ہی یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو امن کا نوبیل انعام ملنا چاہیئے۔ میرے خیال میں پوری دنیا میں کوئی لیڈر ایسا نہیں ہے جو ان کی طرح مسلمانوں کے ساتھ اتنا کھل کر کھڑا ہوا ہو۔

س: ایسے مشکل وقت میں پاکستانی حکومت کا کردار کیسا رہا؟

ج: میرا دل اس وقت خون کے آنسو رو رہا تھا  مگر پاکستانی ٹیلی ویژن پر پی ایس ایل چھایا ہوا تھا۔ اس پر دکھ ہوا۔ نیوزی لینڈ سمیت تمام مغربی دنیا سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی، مگر پاکستان میں اس کا اتنا اثر نہیں دیکھا گیا جو بہرحال کوئی بہت اچھا عمل نہیں تھا۔ میں پوری حقیقت تو نہیں جانتا البتہ یہاں پاکستانی سفارت خانے نے پھرپور تعاون کیا۔ کسی کو سفیر صاحب  سے رابطے میں دشواری نہیں ہوئی، بلکہ پورا سفارت خانہ یہاں ویلنگٹن میں ساری ساری رات بیٹھ کر کام کرتا رہا، جب تک کہ تمام باڈیز مل نہیں گئیں، شناخت نہیں ہوگئی انہوں نے کام جاری رکھا۔ ہم نیوزی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانے کے کردار سے مطمئن ہیں۔

س: دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی مشکلات و تکالیف کی کیا وجہ ہے؟

ج: حقیقی عوامل تو اللہ سے دوری، ایمان کی کمزوری اور حضور اکرم ﷺ سے دکھاوے کی محبت ہیں ۔اگر ہماری قربت اللہ سے ہوجائے، ہمارا ایمان مضبوط ہوجائے، حضرت محمد ﷺ سے ہمیں سچی محبت ہوجائے تو یہ دنیا کی مشکلات مسلمانوں کیلئے شاید نہ ہوں۔ حقیقی عوامل تو یہی ہیں البتہ اور عوامل بھی ہیں۔ جیسے پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی مسلمان ملک، اسے  زائنسٹ (صہیونی) لابی آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتی۔ مختصر بتا دوں تو یہ تاریخ حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں جاتی ہے کہ جب آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو کفار مکہ بہت جز بز ہوتے تھے۔ ایک یہودی مدینہ سے آیا، اس سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص ہے محمدﷺ۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تم تو یہودی ہو تم نے تو بڑے نبیوں سے نمٹا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں نمٹا تو ہے لیکن خیبر  میں جو آباد ہیں ان سے جاکر بات کرو۔ وہ سیاروں و ستاروں، علم نجوم وغیرہ پر بہت یقین رکھتے تھے۔ جب ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جو نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے وہ بنی اسماعیل کا نبی ہے اور اس نے آنا تھا اور اسی وقت انہوں نے بیت المقدس میں عیسائیوں اور ہندوستان میں آباد ہندوئوں کو پیغام بھیجا اور آپس میں بیٹھ کر ایک معاہدہ کیا کہ حضرت عیسی ؑ کی پیدائش کے وقت سے ان کی جو عداوت چل رہی ہے، اسے ختم کیا جائے اور یہ کہا کہ اس دنیا میں نبوت بنی اسرائیل کی چلنی ہے یا بنی اسماعیل کی۔ آج ہم اپنے تمام تر اختلافات اس وقت کیلئے لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جب تک اس بنی اسماعیل کے نبی اور اس کی امت سے ہم نمٹ نہ لیں۔ جن ذرائع سے یہ پتا چلا ہے انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے اور اتحاد کی کاپی آج تک ویٹی کن میں بھی موجود ہے اور گریٹر اسرائیل تل ابیب اور  ہندوستان میں بھی موجود ہے۔ لہٰذا اسی معاہدے پر کام ہو رہا ہے۔ مسلمان جہاں  کہیں بھی سر ابھارے گا اسے نہیں پنپنے دیں گے۔  دیکھئے پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا اس کی سزا آج تک پا کستان کو مل رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں مسلمان سمٹ کانفرنس بلائی، سارے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کیا اس کی سزا بھگتی۔

س: پاکستان سے دوری کیسے برداشت کرتے ہیں؟

ج: مجھ جیسے محب وطن سے کوئی پوچھے کہ تمہیں پاکستان یاد آتا ہے تو سچ یہ ہے کہ اس سوال سے ہی تکلیف ہوتی ہے۔ میرا دل پاکستان  کیلئے دھڑکتا ہے، پاکستان آسمان سے ٹپکا نہیں ، زمین سے اگا نہیں۔ یہ ہزاروں لاکھوں بچوں کو نیزے پر لٹکانے کے بعد وجود میں آیا ہے۔ یہ ہزاروں لاشوں کے اوپر تعمیر ہوا ہے، یہ ہزاروں لاکھوں بہنوں کی عصمتوں پر تعمیر ہوا ہے، یہ اللہ نے اتنا عظیم تحفہ مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے کہ آج نہیں بلکہ صدیوں بعد بھی اس کی افادیت کا بچوں کو پتا چلے گا کہ یہ کتنی بڑی نعمت اللہ  نے ہمیں عطا فرمائی ہے اور جو لوگ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں وہ جان لیں کہ پاکستان کا ایک بال بیکا نہیں کرسکتے۔ آج سب سے اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ جو انتخابات وغیرہ ہوتے ہیں اس سسٹم کو صحیح کیا جائے اور ایسی پارٹیوں پر پابندی عائد کی جائے جن کا منشور پاکستان کیخلاف ہے۔ اسی طرح الطاف حسین جنہوں نے پاکستان کیخلاف نظریہ عیاں کردیا ان پر نگاہ رکھنی چاہیئے۔ البتہ میں یہ کہوں گا کہ میں کوئی سیاسی آدمی نہیں نہ کوئی سیاسی سوچ رکھتا ہوں، لیکن پاکستان ہی میری ہر بات میں ترجیح ہے۔ اگر کوئی کہے کہ تم پاکستان آجاؤ کسی مسئلہ کا حل مجھ سے درست ہوسکے تو میں فوراً سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آجاؤں گا۔

س: دیار  غیر میں مقیم مسلمان نوجوان نسل کو کیا نصیحت فرمائیں گے؟ پاکستان کیلئے کوئی خاص پیغام؟

ج: پاکستان و دیار غیر سب جگہ مقیم مسلمانوں  کیلئے ایک نصیحت یہی ہے کہ ایک کوڈلس ہوتا ہے جس میں ایک بیس ہوتی ہے اور ایک اس کے یونٹس ہوتے ہیں، اب آپ بات کرتے کرتے اس بیس  سے جتنا دور وائرلیس کو لے جائیں گے اتنا اس میں سرسراہٹ پیدا ہوگی، آواز خراب ہوگی، رابطہ دشوار ہوگا، مزید دور لے کر جائیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ کال کی کٹ جائے گی۔ یہی معاملہ ہمارا اللہ کے ساتھ بھی ہے۔ اللہ سے قریب آجائیں، اللہ وہ بیس ہے جس کے جتنا قریب رہیں گے اتنی کامیابیاں ہیں، آسانیاں ہیں۔ ایک خواجہ صاحب نے اشعار بڑے اچھے لکھے فرمایا کہ:

''جہاں میں ہر سو ہے اس کا جلوہ ۔۔۔۔ کہاں نہیں  ہے کدھر نہیں ہے،

وہ ذرے ذرے میں جلوہ گر ہے ۔۔۔ مگر کوئی دیدہ ور نہیں ہے،

بلائیں تیر اور فلک کماں ہے ،،،، چلانے والا شہ شہاں ہے،

اسی کے زیر قدم ہما ہے۔۔۔ بس اور کوئی مفر نہیں ہے،

بس ایک بجلی سی پہلے کوندی،، پھر اس کے آگے خبر نہیں ہے،

اور اب جو پہلو میں دیکھتا ہوں،،،، تو دل نہیں ہے جگر نہیں ہے۔

پاکستان کیلئے دعا ہے کہ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے، پاکستان کیلئے جن علماء نے محنت کی، دن رات ایک کیا اللہ تعالی ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے۔ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ 27ویں شب کو پاکستان بنا ہے۔ انشاءاللہ اس کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: عہد ساز شخصیت مولانا نظام الحق تھانوی کا پہلا انٹرویو (حصہ دوم)