تازہ ترین
مولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہےعدلیہ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ حشمت حبیبپنجاب پولیس کی حراست میں 17 افراد کی ہلاکت کا انکشاف

بمبئی سے نکالا گیا عالمی اسنوکر چیمپئن محمد یوسف (آخری حصہ)

muhammad yousaf snooker player
  • واضح رہے
  • مئی 14, 2019
  • 8:38 شام

بھارت سے جبری طور پر پاکستان بھیجے جانے کے بعد محرم علی (محمد یوسف) کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے ٹیلنٹ نے انہیں کیسے بام عروج پر پہنچایا، تفصیلات کیلئے انٹرویو ملاحظہ فرمائیے۔

س: آپ نے پاکستان آکر کس علاقے کی جانب رختِ سفر باندھا؟

ج: میں کھوکھرا پار بارڈر سے ٹرین پر بیٹھ کر سیدھا سٹی اسٹیشن کراچی پر اترا۔ مجھے شدید بھوک اور پیاس لگی ہوئی تھی۔ میں جس ٹرین میں تھا اس میں ایک بزرگ بھی بیٹھے تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا بیٹا کہاں جاﺅ گے میں نے کہا کہ بابا جی اللہ مالک ہے۔ تو انہوں نے اپنی جیب سے 12 آنے نکال کر مجھے دیئے، میں نے انکار کیا تو بولے بیٹا یہ تیرے کام آئیں گے رکھ لو۔ کراچی میرے لئے بالکل اجنبی شہر تھا۔ میری عمر بھی کم تھی تو کافی پریشان تھا۔ میں نے رات فٹ پاتھ پر بسر کی۔ پھر میں آرام باغ چلا گیا۔ رات کو وہاں پر سویا ہوا تھا کہ اچانک پولیس اہلکاروں نے وہاں سوئے ہوئے لوگوں پر ڈنڈوں کی برسات شروع کر دی۔ اگلی رات پھر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو میں نے آرام باغ میں رات کو آرام کرنا چھوڑ دیا۔ ایک دن میں ایمپریس مارکیٹ میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک سامنے حجام کی دکان کے ساتھ ایک دروازہ کھلا، میری نظر اندر پڑی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی آدمی اسنوکر کھیل رہا ہے۔ میں اٹھا اور سیدھا اندر چلا گیا۔ وہاں پر تین اسنوکر کی ٹیبلیں لگی ہوئی تھیں۔ پہلی ٹیبل پر بڑے لڑکے کھیل رہے تھے اس پر ایک روپے کا بینچ چل رہا تھا۔ اس وقت میری جیب میں آٹھ آنے تھے۔ میں نے کلب کے اندر چاروں جانب نظریں دوڑائیں تو ایک کونے میں بزرگ آدمی بیٹھا ہوا تھا، میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ بابا جی میرے پاس آٹھ آنے ہیں، اگر آٹھ آنے آپ مجھے دے دیں تو میں ایک روپے کا بینچ کھیل سکتا ہوں۔ تو اس بزرگ آدمی جن کا نام خان محمد تھا نے مجھے 2 روپے دیئے۔ یوں میرے پاس اڑھائی روپے ہو گئے۔ میں سب سے پہلے چار آنے والے بینچ پر گیا۔ میں نے پانچ روپے جیتے تو لڑکوں نے کہا کہ آپ کی گیم اچھی ہے آپ دوسری ٹیبل پر جا کر کھیلو۔ وہاں پر بھی میں نے تین گیمیں جیتیں تو انہوں نے بھی کھیلنے سے انکار کر دیا پھر میں پہلی ٹیبل پر چلا گیا۔ وہاں پر پانچ لڑکے ایک ایک روپے کا جوا کھیل رہے تھے۔ وہ بڑے لڑکے تھے، پہلے تو بچہ کہہ کر مجھے کھلانے سے منع کیا لیکن میرے اصرار پر کھیلنے دیا۔ میں نے شام تک 43 روپے جیت لیے۔ میں وہ پیسے لے کر بزرگ شخص خان محمد کے پاس گیا تو انہوں نے 20 روپے مجھے دے دیئے۔ جس پر میں بہت خوش تھا۔ میں نے کہا بابا جی کیا آپ کل بھی آئیں گے تو وہ بولے ہاں لیکن میں 2 بجے کے بعد ہی آتا ہوں۔

س: جیب میں پیسے آنے کے بعد بھی آپ فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے؟

ج: نہیں، مجھے ایک لڑکے نے بتایا کہ بولٹن مارکیٹ میں سستے ہوٹل ہیں۔ میں ٹرام میں بیٹھ کر بولٹن مارکیٹ چلا گیا۔ وہاں پر میں نے آٹھ آنے پر منجی بسترا لیا اور رات بسر کی۔ وہاں مومن ریسٹورنٹ پر کھانا کھایا۔ اگلے دن پھر میں نہا دھو کر اسنوکر کلب آگیا۔ اس کلب کا نام جمشید بلیئرڈ کلب تھا، اس کو چلانے والے شخص کو سب لوگ نانو کے نام سے پکارتے تھے۔ کچھ دن اسی طرح میں اسنوکر کھیل کر جوئے میں پیسے جیتتا رہا اور انہی پیسوں سے اپنا گزر بسر کر تا رہا۔ پھر ایک دن بزرگ خان محمد نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے تو میں سوچ میں پڑ گیا اور اچانک میں نے کہا کہ میرا نام محمد یوسف ہے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تم کیا کام کرتے ہو؟ میں نے بتایا کہ کچھ نہیں بس آوارہ گردی کرتا ہوں۔ تو انہوں نے بتایا کہ میری سامنے اخبار کی دکان ہے تم میری دکان پر کام کرو گے تو میں تمہیں یومیہ 3روپے اور دوپہر کا کھانا بھی دوں گا۔ یوں میں نے اخبار فروخت کرنا شروع کر دیئے۔ میں سڑک کنارے کھڑے ہو کر اخبار فروخت کرنے لگا۔ تین بجے فارغ ہو جاتا پھر اسنوکر کلب چلا جاتا۔ اور جا کر اسنوکر کھیلتا تھا۔ میں جمشید اسنوکر کلب میں اتنا مشہور ہو چکا تھا کہ میں وہی پر رات کو سو جاتا تھا، صبح اٹھ کر کلب کی صفائی کرتا پھر میں اخبار فروخت کرنے چلا جاتا تھا۔ کلب میں 6 بڑے غنڈے پلیئرز جوا کھیلتے تھے۔ میں ایک سال کے اندر اندر کراچی کے تمام نامور پلیئرز کو شکست دے چکا تھا۔ اس کلب میں ایک انکل اکثر آتے تھے وہ بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ میرا کھیل چونکہ بہت اچھا تھا اس لئے وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن چاند رات کو وہ کلب آئے ان کی تنخواہ ان دنوں 150روپے تھی وہ 100روپے جوئے میں ہار گئے اس کے بعد پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں پیسے ہار چکا ہوں، صبح عید ہے میں اب بچوں کو کپڑے کہاں سے لے کر دوں گا۔ میں نے ان سے کہا کہ مینا جو بہت اچھا پلیئر تھا، کے ساتھ میچ کھیلتا ہوں اور آپ میرے خلاف 50 روپے لگا دینا اس کے بعد 100 روپے پھر 200روپے لگا دینا اس کے بعد آپ چلے جانا۔ انکل نے ایسا ہی کیا اور میں جان بوجھ کر مینا سے تین گیم ہار گیا۔ انکل تین سو روپے لے کر خوشی خوشی گھر چلے گئے۔ اس کے بعد میں نے بڑی سنجیدگی سے کھیلنا شروع کیا لیکن مجھ سے ٹھیک طرح سے کھیلا نہیں جا رہا تھا۔ پھر بڑی مشکل سے میں نے گیم برابر کی۔ عید کے چند دن بعد وہ انکل کلب آئے اور مجھے ساتھ لے کر کریمی ریسٹورنٹ چلے گئے۔ کھانا کھلانے کے بعد انہوں نے مجھے 50 روپے دیئے۔ اس دوران پلیئرز پر جوا کھیلنے والے غنڈہ عناصر کے ایک چمچے نے مجھے دیکھ لیا، اس نے جا کر ان کو اطلاع کر دی کہ یوسف اس دن مینا سے جان بوجھ کر گیم ہارا تھا۔ میں جب رات کو کلب گیا تو سب اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہمیں سب پتا چل گیا ہے تم چونکہ اچھے پلیئر ہو اور تمہارا ماضی کا ریکارڈ اچھا ہے اس لئے ہم تمہاری ٹانگیں نہیں توڑ رہے، لیکن اب تم کبھی کراچی میں نظر نہیں آنا۔ وہ لوگ بڑے خطرناک تھے اس لئے میں جان بچا کر وہاں سے نکلا اور 40 روپے میں کراچی سے لاہور تک اکانومی کلاس کا ٹکٹ خریدا۔

س: لاہور میں بھی آپ نے کسی اسنوکر کلب میں پناہ لی؟

ج: یہ 1969 کی بات ہے۔ لاہور اسٹیشن پر ایک دن گزارنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ صدر کینٹ میں اسنوکر کلب ہے۔ وہاں پر میں نے اسنوکر کھیلنے کا بڑا دلچسپ ماحول دیکھا۔ وہاں پر مجھے کھیلنے کیلئے پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ میں تو بہت اچھا کھیلتا ہوں۔ مجھ سے کھیلنے کیلئے اجمل بٹ کو بلایا گیا۔ مجھے اجمل بٹ سے کھیل کر بہت مزہ آیا۔ پھر میں وہی پر رہنے لگا۔ وہاں ایک دوست نے بتایا کہ اس نے دھرم پورہ پھاٹک کے نزدیک ایک چھوٹی سی کیرم کلب بنائی ہوئی ہے، میں نے کہا کہ کیرم تو میں بہت اچھا کھیلتا ہوں۔ پھر میں وہاں چلا گیا۔ کلب میں ایک بھٹی صاحب کیرم کھیلنے آتے تھے، ان کی گیم بہت اچھی تھی۔ میں بھٹی صاحب سے کھیلنے لگا تو میں نے ان کو لگا تار تین گیموں میں شکست دی۔ وہاں پر موجود سب لوگوں نے میری بڑی تعریفیں کیں۔ پھر بھٹی صاحب مجھے اپنے ساتھ گوالمنڈی لے گئے وہاں پر رام گلی میں سیٹھ خوشنود صاحب کی کیرم کلب تھی میں نے وہاں پر کیرم کے میچز کھیلے تو میرے عمدہ کھیل کی سب نے بڑی تعریف کی۔ پھر میں نے لاہور کے مختلف علاقوں میں جا کر کیرم کھیلنا شروع کر دیا۔ میں 12 برس تک پنجاب کیرم کا چمپئن رہا۔ کیرم کھیلنے کیلئے پنجاب کے مختلف شہروں میں جایا کرتا تھا۔ 1985 میں، میں اپنے ایک پہلوان کے ساتھ ویڈیو فلمیں لینے گیا تو نیشنل اسنوکر چمپئن شپ کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس کی انٹری فیس 100روپے تھی، میں نے اس میں حصہ لیا۔ پہلا انعام پانچ ہزار روپے، جبکہ دوسرا انعام تین ہزار روپے تھا۔ میں نے اس چمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ میں فائنل میچ ہارا تھا۔ اس کے بعد میں واپس لاہور آگیا تو اس دوران پاکستان اسنوکر فیڈریشن سے اصغر ولیکا صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اچھے کھلاڑی ہو، تم کراچی آکر ہماری طرف سے کھیلو تو ہم تمہاری مکمل سرپرستی کریں گے۔ میں جنوری 1986 میں لاہور سے کراچی شفٹ ہو گیا۔ 1987 میں ولیکا صاحب نے 2500 روپے کے عوض مجھے کراچی کلب کی ممبر شپ دلوائی۔ 1986 میں سری لنکا میں منعقدہ ایشین سنوکر چمپئن شپ میں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ سیمی فائنل میں میرا مقابلہ اس وقت کے ایشین چمپئن ہانگ کانگ کے نامور کھلاڑی گیری کاک سے ہوا۔ میں اچھا کھیل رہا تھا لیکن کم تجربہ ہونے کی وجہ سے میں ہار گیا۔

س: آپ کو کبھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی یاد نہیں آئی؟

ج: میں جب لاہور سے کراچی جانے کی تیاری کر رہا تھا تو روانگی سے ایک رات قبل داتا دربار پر حاضری دی اور وہاں پر جاکر خوب رویا اور دعا کی کہ یا اللہ تم اپنے اس نیک بندے کے صدقے مجھے میرے والدین، بھائی اور بہنوں سے ملوا دو۔ 1986 میں ہی بطور اسنوکر پلیئر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے بھارت جانے کا موقع ملا۔ وہاں ممبئی میں اسنوکر کا انٹرنیشنل ٹورنامنٹ تھا۔ ممبئی پہنچا تو میں سیدھا انپے آبائی گھر گیا، جہاں پر میں پیدا ہوا تھا جن گلیوں میں کھیلتے ہوئے میرا بچپن گزرا تھا۔ وہاں پر میری ابّو سے ملاقات ہوئی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ تیرا بڑا بھائی رمضان دماغ کی شریان پھٹنے سے مر گیا،میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پھر ابّو نے بتایا کہ تیری بہنوں کی شادیاں پونے شہر میں ہو چکی ہیں۔ ممبئی میں کھیلی گئی اسنوکر چمپئن شپ میں انڈیا کے نامور سنوکر پلیئر سیٹھی کو لیگ میچ میں شکست دی لیکن فائنل میچ ان سے ہار گیا تھا۔ 1987 میں لطیف ماسٹر کے نام سے انٹرنیشنل اسنوکر چمپئن شپ کراچی میں منعقد ہوئی۔ اس میں پاکستان سری لنکا اور بھارت کے نامور کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ انڈیا کی طرف سے یٰسین مرچنٹ اور گیت سیٹھی نے شرکت کی تھی۔ میں نے لیگ میچوں میں ان دونوں نامور کھلاڑیوں کو شکست دی اور چمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی سال کراچی میں نیشنل اسنوکر چمپئن شپ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے پہلی مرتبہ اسنوکر چمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔