تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

پنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئے

پنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈ روک لئے
  • واضح رہے
  • ستمبر 19, 2019
  • 3:16 شام

اس سے پہلے خطرناک بیماری کی روک تھام کیلئے سالانہ 4 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے تھے۔ پنجاب میں ایڈز کنٹرول کے 17 مراکز موجود ہیں

پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئے ہیں، جس کے باعث مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ صوبے بھر میں ایڈز کنٹرول کے 17 مراکز موجود ہیں، جو اب غیر فعال ہونے لگے ہیں۔ قابل غور امر یہ ہے کہ اس سے پہلے حکومت خطرناک بیماری کی روک تھام کیلئے سالانہ 4 کروڑ روپے خرچ کر رہی تھی، جس کے سبب غریب شہریوں کو مفت علاج کی سہولت میسر تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے غریب عوام کو خطرناک بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ پنجاب میں ایچ آئی وی ایڈز کے 8 ہزار 308 کیسز ہیں، جو پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں۔ 2017 اور 2018 میں کوٹ مومن، سرگودھا اور چنیوٹ میں ایڈز کیسز سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد ایڈز کنٹرول پروگرام سے مریض رجسٹر کر کے چنیوٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور کوٹ مومن تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ایڈز سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق ایڈز کنٹرول پروگرام میں رجسٹرڈ مریض بائیو میٹرک اور مخصوص شناختی نمبر رکھتے ہیں، آن لائن ڈیٹابیس کے ذریعے مریض پنجاب کی کسی بھی علاج گاہ سے دوا خرید سکتے ہیں۔ میڈیا میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض نے سندھ کے بعد پنجاب کے پانچ اضلاع میں بھی اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، مگر اس طرف موجودہ حکومت کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے عوامی وسماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب  پنجاب حکومت کی جانب سے کینسر کی مختلف اقسام کا شکار مریض بھی مفت ادویات کی فراہمی بند ہونے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر مریضوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس یکم اپریل سے جناح اور میو ہسپتال میں ادویات نہیں مل رہی۔ لاکھوں روپے کی مہنگی ادویات بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ کراچی اور خیبر پختون میں ادویات فری ہیں۔ لاہور میں پہلے فری تھی اب نہیں دی جا رہیں۔