تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

پی ٹی آئی حکومت کا پہلا کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا

پی ٹی آئی حکومت کا پہلا کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا
  • واضح رہے
  • اپریل 26, 2019
  • 5:18 شام

بلین ٹریز منصوبے کے تحت 10 کروڑ درخت بھی نہیں لگائے گئے۔ پارلیمنٹ کی انکوائری کمیٹی کے رکن نے پول کھول دیا۔

بلین ٹریز سونامی منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور گھپلوں کے انکشاف کے بعد پارلیمنٹ کی انکوائری کمیٹی نے بنوں کا دورہ کیا، جبکہ کمیٹی کے رکن اکرم درانی نے انکشاف کیا کہ ایک ارب سے زائد درخت لگانے کا حکومتی دعویٰ کھوکھلا ہے۔ منصوبے کے تحت دس کروڑ درخت بھی نہیں لگائے گئے۔

واضح رہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کیلئے 18 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ منصوبے میں کرپشن اور گھپلوں کے انکشاف پر پارلیمانی کمیٹی نے بنوں کا دورہ کیا، جس میں ارکان اسمبلی اکرم خان درانی، خوشدل ایڈووکیٹ، شگفتہ ملک، سرداریوسف اور لطف الرحمان سمیت دیگر نے سائٹ کا جائزہ لیا۔

اپوزیشن رہنما اور کمیٹی کے رکن اکرم درانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ارب سے زائد درخت لگانے کا دعویٰ کرنے والے دس کروڑ درخت بھی نہیں لگا سکے۔ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ 400 کنال کی زمین پر سرکاری ریکارڈ میں مزدور کو ساڑھے 15 ہزار کے بجائے 5 ہزار روپے مل رہے ہیں، 2 ہزار پودے لگا کر 2 لاکھ ظاہر کیے گئے، مزدور کو چیک کے بجائے کیش ادائیگی کی جاتی ہے، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے نالی چک کے مقام پر 10 لاکھ پودے ریکارڈ میں ظاہر کئے، لیکن حقیقت میں یہ ہزار بھی نہیں ہیں۔

ٹی وی رپورٹ مطابق فی پودے کی دیکھ بھال 50 روپے مقرر کی گئی تھی، جبکہ اب 500 روپے دیئے جا رہے ہیں، حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ پودے لگانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس میں بھی یوٹرن لے لیا اور مجموعی طور پر 10 کروڑ پودے بھی نہیں لگائے۔

دوسری جانب بنوں ڈویژنل فارسٹ آفیسر لطیف حسین نے بلین ٹری منصوبے میں بد عنوانی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی نے بنوں میں جن علاقوں کا دورہ کیا وہاں پہلے سے ہی پودوں کی کمی تھی۔

وزیر اطلاعات خیبر پختون شوکت یوسفزئی نے کرپشن کے انکشاف پر کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایک روز قبل تمام کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انکوائری کمیٹی کے دورئہ بنوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹریز منصوبے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی حکومت نے ہی بنائی ہے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔