تازہ ترین
عمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،اختلاف کرنے پر مہماتیر محمد کو پارٹی نے نکال دیابینظیر بھٹو کے بارے میں’توہین آمیز‘ ٹویٹس: سنتھیا رچی کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست جمع کروا دی گئیامیر جماعت اسلامی سراج الحق کی کوٹ مومن آمدشدید گرمی۔ ارسلان ویلفیئر ٹرسٹ نے سندھ کے گوٹھوں میں ہینڈ پمپ لگانے کا بیڑا اٹھالیاکوٹ مومن پریس کلب کے نمائندہ وفد کی ایس ایچ او سے ملاقاتناجائز تعلقات کا شبہ،گھر بلواکر نوجوان قتلپاکستان اور اسرائیل کی دشمنی تاریخی آئنیہ میںعظمیٰ خان اور وکیل کی پریس کانفرنس:’عظمی خان کی جان کو خطرات لاحق ہیں، سکیورٹی فراہم کی جائے‘

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہ

Nawaz Sharif decision about pti government
  • واضح رہے
  • ستمبر 12, 2019
  • 10:49 شام

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نے مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کی حمایت کردی ہے۔ جبکہ لیگی رہنماؤں کو متحرک رہنے کا پیغام دیا گیا ہے

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی حکومت کیخلاف مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کی حمایت کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اسیر قائد میاں محمد نواز شریف نے حکومت مخالف تحریک میں حصہ لینے کیلئے لیگی رہنمائوں کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کی جانب سے اسلام آباد دھرنے کی حمایت کے بعد پی ٹی آئی کی غیر مقبول حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے اور عوامی ردِ عمل کے پیش نظر حکومتی ایوانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی حکومت گرانے کے کسی بھی اقدام کا حصہ بننے سے انکار کر چکی ہے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 149 کی ذیلی شق فور کے تحت سندھ کے دارالحکومت کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں دینے کی نئی بحث پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے کراچی پر غیر آئینی قبضے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔ اس حوالے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے یہ بیان لانگ مارچ کے تناظر دیا ہے کہ نہیں۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے۔ ن لیگ کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال بھی کہہ چکے ہیں کہ 2020 انتخابات کا سال ہوگا۔ جبکہ اسلام آباد میں موجود ایک اہم لیگی رہنما کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی تحریک میں حصہ لینے کا فیصلہ نواز شریف کا ہے۔ اس سے پارٹی کے تمام اہم رہنماﺅں کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی اس فیصلے کی تائید کر دی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو نواز شریف نے ملاقات کیلئے آنے والے کیپٹن (ر) صفدر کے ذریعے لیگی رہنمائوں کو پیغام پہنچایا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پی ٹی آئی حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔ حکومت نے ایک سال میں عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق اسی سلسلے میں آج بھی کیپٹن (ر) صفدر نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اور دھرنے سے متعلق بننے والی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

ادھر لاہور میں مقیم ن لیگ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ احسن اقبال، خواجہ آصف اور رانا مشہود گرفتاریوں کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ عہدیدار کے مطابق نواز شریف کو بھی ان ممکنہ گرفتاریوں کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پارٹی کے تاحیات قائد نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ لانگ مارچ تک تمام اہم پارٹی رہنما بھی گرفتار کر لئے جاتے ہیں تو پھر تنظیمی عہدیداروں کی قیادت میں کارکنان لانگ مارچ میں شرکت کریں۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں ن لیگ پنجاب چیپٹر کے اہم عہدیداروں کو متحرک ہونے کی ہدایت دی جا چکی ہے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے