تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

میڈیا اور ہمارا معاشرہ

media role
  • حیدری
  • مئی 13, 2020
  • 2:12 صبح

کون کہتا ہے کہ میڈیا کا اثر معاشرے پر نہیں ہوتا؟ بچپن سے انڈین فلمیں دیکھنے والی قوم کیسے شہ رگ کی آزادی کی جنگ لڑے گی۔

ہماری وحدت کو پارہ ہوتے ہوئے سو سال سے اوپر ہو چکے ہیں. اس کے بعد ہم ایسے بکھرے کہ ہمارا سمیٹنا ناممکن ہو گیا.

پی ٹی وی پر ارطغرل کی چند قسطیں شائع ہونے کے بعد پوری قوم گھوڑوں، تیر اور تلوار کی دیوانہ بن گئ. شاید مملکت خداداد میں ایسا گھر نہ ہو جس میں ارطغرل کا تذکرہ نہیں ہوا ہو. سوشل میڈیا پر تو آجکل صرف اس کا چرچا ہے. ٹیوٹر کے ٹرینڈ ہو، فیس بک کے ڈی پی و سٹیٹس اور واٹس ایپ کے گروپ ہو، کوئی اس سے خالی نہیں ہے.

اگر ایک ارطغرل سے اتنی بڑی تبدیلی معاشرہ میں آتی ہے تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ ہالی وڈ، بالی ود، لالی وڈ نے ہمارے معاشرہ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہوگی؟ معاشرہ کے بے راہ روی ان وڈوں کا بھیانک کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

مشہور قول ہے کہ :آپ اگر کسی قوم کو جنگ کے بغیر شکست دینا چاہتے ہو تو اس میں بے حیائی عام کرو. ہمارا حال بھی شکست خوردہ کی سی ہے. کشمیر، فلسطین، شام، عراق اور لیبیا وغيرہ کی صورت میں ہمارے شہ رگ، ہاتھ اور پاؤں کاٹے جا رہے ہیں لیکن ہم خاموش تماشائی بن کےنظارہ کر رہے ہیں.

آخر کب تک ہم اپنے آبا واجداد کی تاریخ سے بے خبر رہیں گے. ترکی نے ابتدا کی ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ غزنوی، غوری، مغل اور ٹیپو سلطان وغيرہ کے کارناموں سے قوم کو آگاہ کریں اور ان بے ہودہ، بے حیا اور ننگی تہذیب سے معاشرہ کو بچایا جائیں.

اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

حافظ الاسد

میرا تعلق پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر سے ہے اور کراچی یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کیا ہے.

حافظ الاسد