تازہ ترین
“باغ” ریاست آزاد جموں و کشمیرشیخ خالد زاہدزیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کاکھیل حکومت اور سپانسرز کی سر پرستی کے منتظر ہیں،رانا محمود الحسنرانا عباد کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہےسوشل میڈیا اور واضح رہے کے قواعدآئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردیقومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پرعمل شروع، جم، تھیٹرز اور سینما ہالز کل کھل جائیں گےہاتھی حساس جانور،ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی سن لیتے ہیںبیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

کتب بینی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

  • وحید احمد
  • جولائی 23, 2020
  • 2:38 شام

کتب بینی کا شوق انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ قوت تخلیق بھی فراہم کرتا ہے۔

مجھے بخوبی یاد ہے ہم بچپن میں سکول جانے سے پیشترگھر میں موجود سونی کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے نشر ہونے والے کارٹون دیکھا کرتے تھے، وہ یہ نغمہ گایا کرتے تھے:
" کتابیں باتیں کرتی ہیں ہمارا جی بہلانے کی

کبھی اگلے زمانے کی کبھی پچھلے زمانے کی "
یہ نغمہ سنتے اور گنگناتے ہمارا بچپن گزرااور کتابوں کے ساتھ رشتہ اتنا گہرا ہو گیا جس نے مجھے ایک قاری سے لکھاری اور پھر کالم نگار بنا دیا۔الجاحظ ایک مشہور عرب مفکر تھے جن کی ساری عمر تصنیف و تالیف میں گزری۔ان کی تصانیف کی تعداد 200 سے بھی زیادہ ہے،جن میں سے چند ایک کتب کے نام کتاب الحیوان، کتاب الاخبار، کتاب الاستبدادوالمشاورہ فی الحروب اور مقالہ فی اصول الدین ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ ایک شخص کو ان الفاظ میں نصیحت کی " کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔"

کتب بینی کا شوق انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ قوت تخلیق بھی فراہم کرتا ہے۔اس شوق کی بدولت انسان کے قلب و نظر میں دانش و حکمت اور کائنات کے راز کھوجنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی قران میں بارہا فرمایا کہ "افلایتفکرون ، افلا یتدبرون "کہ انسان غور و فکر کیوں نہیں کرتا۔

ایک وقت تھا جب علم کی پیاس رکھنے والے ہر شخص کے گھر کتابیں ترتیب سے الماری میں سجی ہوئی ہوتی تھیں، جب کسی کے گھر مہمان جاتے تو وہاں الماری میں سجی کتابیں دیکھ کر میزبان سے پہلا سوال یہ پوچھا جاتا تھا کہ "اتنی ساری کتابیں کون پڑھتا ہے؟" اور میزبان فخر سے بتاتے تھے کہ ہمارا بیٹا، بیٹی یا ہم خود پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ ایک دوسرے سے بھی مستعار لے کر کتب بینی کا شوق پورا کرتے تھے، طلباء اپنے سکول، کالج و یونیورسٹی کی لائبریوں سے استفادہ کرتے تھے جبکہ عام شہری جنہیں کتب بینی کا شوق تھا وہ شہروں میں موجود گورنمنٹ کی پبلک لائبریوں کا رخ کرتے تھے اور خود بھی قیمتاََ کتابیں خریدتے تھے۔ لیکن پھر زمانہ بدل گیا،

ٹی وی کے آنے سے لوگوں میں کتب بینی کا شوق کم ہوگیالیکن پھر بھی موجود رہا۔اس کے بعد انٹرنیٹ کی آمد نے کتب بینی پر ایک کاری ضرب لگائی اور یہ شوق تقریباََ معدوم ہوگیا۔ اس کے علاوہ کاغذ، پرنٹنگ، پبلشنگ اور کتابوں کی اشاعت سے متعلقہ تمام امور کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا نتیجہ کتابوں کی قیمت کے بڑھنے پر منتج ہوا اور یوں کتابوں اور قارئین کے درمیان فاصلے کی خلیج اور وسیع تر ہوگئی۔لیکن انٹرنیٹ کی کم قیمت،عام آدمی تک رسائی اورخاص طور پر سوشل میڈیا کی آمد نے کتب بینی کے شوق کو ایک دفعہ پھر سے ہوا دے دی لیکن اب یہ ڈیجیٹل شکل میں تھا۔

اردو زبان کی بہت سی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں پر آپ بچوں اور خواتین سے متعلق مضامین، آرٹیکل، پکوان، مذہب، صحت، کتابوں،ٹیکنالوجی، کاروبار، سیاسیات، طنزومزاح،شوبز، اردو تحقیق و تنقید، اردو ادب، عالمی ادب، شخصیات،ناول اور تعلیم و سائنس کے علاوہ ہزاروں موضوعات پر کتابیں،شاعری اور مضامین پڑھ سکتے ہیں۔اردو کی بڑی ویب سائٹس میں ریختہ ڈاٹ او آر جی، اردوپوائنٹ ڈاٹ کام، صرف اردو ڈاٹ کام، پنجند ڈاٹ کام، واضح رہے ڈاٹ پی کے،اردولائف ڈاٹ کام، اختر سردار ڈاٹ کام، سٹی ٹی وی ڈاٹ پی کے، ملت نیوز ایچ ڈی ڈاٹ کام، اردولائف ڈاٹ کام سمیت ہزاروں ویب سائٹس موجود ہیں جبکہ اقبال سائبرلائبریری ڈاٹ نیٹ انٹرنیٹ پر اقبالیات کا بہت بڑا خزانہ ہے۔

ینڈروائڈ فون کی آمد کے بعدجہاں ہر قسم کی نت نئی ایپس آنا شروع ہوئیں وہاں کتابوں سے متعلق ایپس نے بھی پلے سٹور پر جلوہ دکھانا شروع کیا۔کتب سے متعلق ایپس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان پر موجود زیادہ تر کتب پڑھنے کے لیے بالکل مفت دستیاب ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی پی ای ٹی فلم بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک پالی پلکس کارپوریشن لمیٹیڈکے بانی و چیئرمین سنجیو صراف نے ریختہ ڈاٹ او آر جی کی بنیاد رکھی۔ ریختہ اردو زبان کی دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ کے طور پر ابھری اور انہوں نے کتابوں کو سکین کر نے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنے کا عمل بھی شروع کیا۔ریختہ پر مواد اردو،

دیوناگری اور رومن رسم الخط میں موجود ہے۔ اس ویب سائٹ پر ایک کلک کے ساتھ ہی کسی بھی لفظ یا ترکیب کا مطلب جاننے کے لیے ان بلٹ لغات موجود ہیں۔بیشتر اردو شاعری کو شعرا کی اپنی آواز یا دوسروں سے پڑھوایا گیا ہے تا کہ اردو سے کم واقفیت رکھنے والے تلفظ اور ادائیگی سمجھنے کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کی شائستگی کا لطف اٹھا سکیں۔آپ صرف ایک لفظ لکھ کر اس سے متعلق شعر، نظم، قطعات یہاں تک کہ افسانوں میں ان الفاظ کے استعمال کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ریختہ پر 78 ہزار سے زیادہ کتابیں پڑھنے کے لیے موجود ہیں۔یہ سائٹ اردو شاعری کا دنیا کا سب سے انمول خزانہ ہے جس پر 30 ہزار سے زیادہ غزلیں اور نظمیں اور تین صدیوں کے 2500 سے زیادہ شعراء کا کلام موجود ہے۔ریختہ ایپ اینڈروائڈ پردستیاب ہے۔

اردوپوائنٹ ڈاٹ کام کا شمار بھی دنیا میں اردو کے حوالے سے معروف ویب سائٹس میں ہوتا ہے، 14 اگست 2000 کو لانچ ہونے والی اس سائٹ نے جلد ہی ادب کے حلقوں میں اپنی نمایاں پہچان بنا لی اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ اردوپوائنٹ ڈاٹ کام کی ایپ بھی موجود ہے، یہ ایپ انتہائی آسان اور تیز رفتار ہے، ویب سائٹ پر موجود تمام لنکس ایپ میں موجود ہیں جہاں سے انہیں آسانی سے کھولا جا سکتاہے اور انتہائی خوبصورت رسم الخط میں تمام مضامین اور خبریں پڑھی جا سکتی ہیں۔

صرف اردو ڈاٹ کام بھی ایک بہت اچھی ویب سائٹ ہے، ان کی ٹیم لائق تحسین ہے کہ وہ انتہائی کم وسائل کے باوجود قیمتی اور نایاب کتب کے ذخیرے کو سکین کر کے آن لائن مفت فراہم کر ہے ہیں ان کتب کو sirfurdubooks.blogspot.com پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔نایاب کتب اور وہ بھی بالکل مفت اس کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت بھی ہیچ ہے۔
پنجند ڈاٹ کام بیک وقت اردو، پنجابی اور انگریزی زبان میں دستیاب ایک مستند ویب سائٹ ہے۔ پنجند ڈاٹ کام نے کتب بینی کے شوقین افراد کے لیے " پنجند کتب " نام کی ایپ لانچ کی ہے جسے گوگل پلے سٹور پر Punjnud Books لکھ کر باآسانی سرچ کر کے انسٹال کیا جا سکتا ہے۔

پنجند کتب ایپ انتہائی دیدہ زیب ایپ ہے جسے استعمال کرنا نہایت آسان ہے۔تمام لنکس تصویری شکل میں زمرہ جات کو واضح کرتے ہیں جہاں سے ایک بچہ بھی با آسانی اپنی مطلوبہ ادب کی صنف کو تلاش کر کے مطلوبہ کتب پڑھ سکتا ہے۔ پنجند بکس پر نثری ادب، شعری ادب، مذاہب، افسانے، لوک ادب، غزلیات، تاریخ، رسالے، ناول، سائنس اور کالمز کے ساتھ ساتھ ننھے منے بچوں کے لیے بچوں کی دنیا کے نام سے بھی ایک گوشہ موجود ہے جس میں بچے بھی اپنی پسند کی دلچسپ و حیرت انگیز کہانیاں اور مضامین پڑھ سکتے ہیں۔

اس ایپ میں کسی کتاب کو تلاش کرنے کے لیے سرچ کا آپشن بھی موجود ہے۔ پنجند بکس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ کتاب محفوظ یعنی بک مارک بھی کر سکتے ہیں۔ رائٹرز اور کالم نگاروں کے لیے اس ایپ میں ایک بہترین آپشن لاگ ان کی صورت میں موجود ہے۔ جیسے ہی وہ ایپ میں لاگ ان کریں گے، ان کی لکھی ہوئی تمام تحریریں اور کالم ایپ میں ظاہر ہوجائیں گے، ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یہ تمام کتابیں اور تحاریر انتہائی خوبصورت نوری نستعلیق رسم الخط میں ایپ پر موجود ہیں جسے پڑھنے میں قارئین کو بالکل بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پنجند ایپ اساتذہ،ادب کے طلباء اور عام قارئین کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

لاک ڈاؤن کے ان دنوں کو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے مفید بنائیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں، ہارڈ کاپی میں کتابیں خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں لیکن ہر گھر میں اینڈروائڈ فون اور انٹرنیٹ لازمی موجود ہوتا ہے جسے آپ خود اور اپنے بچوں کو بھی ادب کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

وحید احمد

وحید احمد کا تعلق میاں چنوں، ضلع خانیوال سے ہے، پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں، ماسٹر ٹرینر بھی ہیں اور بطور کالم نگار ملکی اور علاقائی اخبارات و جرائد میں مختلف علمی، ادبی، حالات حاضرہ، قومی شخصیات اور قومی و بین الاقوامی طور پر منائے جانے والے دنوں کے بارے میں لکھتے ہیں،ان کے کالم مختلف ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔

وحید احمد