تازہ ترین
شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے اضافی چارجز و جرمانوں پر کراچی چیمبر کا اظہار تشویشراشن تقسیم کے نام پر غریب کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ حبیب جعفریانڈونیشیا نے کورونا وائرس کے باعث رواں برس “حج “منسوخ کر دیالوٹو پاکستان کوشہروز سبزواری اور صدف کنول کی شادی: ’تہمت لگائی ہے تو اب سامنے آ کر ثابت بھی کریں‘“مے ڈے، مے ڈے، ۔ ۔ ۔ “کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے بعد ملکہ برطانیہ پہلی بار منظرِ عام پرمادہ اور روحعمران خان کو خواتین سے بڑی محبت اور لگاؤ ہے۔ جسٹس وجیہیہ خوشیاں تم بن ادھوری* قلمکار: *عاشق علی بخاری*مسجد نبویﷺ کو عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز فجر اداچین انڈیا سرحد کشیدگی: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیامسلمانوں کے عظیم خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ اور انکی اھلیہ کی قبروں کی بے حرمتی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئےٹڈی دل کی آفت اور حکمرانوں کی نااہلیفوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیاجج اور عمرہ حکم ثانی تک معطلحکومت طلباء کے مستقبل سے نہ کھیلے ،فوری سکول کھولے جائیں:پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنکوٹ مومن میں یوم تکبیر کے سلسلہ میں تقریباداسی اور طیش،رؤف کلاسرا،،،

کراچی: ماڈل کالونی کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ

  • واضح رہے
  • مئی 22, 2020
  • 4:46 شام

افسوسناک حادثے میں چار سے پانچ عمارتیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ جبکہ مسافروں اور جہاز کے عملے سمیت 250 افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے

سول ایوی ایشن کے ترجمان کے مطابق یہ ایئر بس اے 320 طیارہ ملک کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا تھا اور لاہور سے کراچی آ رہا تھا کہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہو گیا۔

پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بظاہر طیارے کا لینڈنگ گیئر نہیں کھل سکا اور وہ اوپر اٹھتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا لیکن حادثے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی یہ پرواز پی کے 8303 دوپہر ایک بجے لاہور سے روانہ ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق طیارے پر 99 افراد سوار تھے جن میں عملے کے آٹھ ارکان اور 91 مسافر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن نامی آبادی پر گرا اور اس حادثے میں متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے

اردو زبان کی قابل اعتماد ویب سائٹ ’’واضح رہے‘‘ سنسنی پھیلانے کے بجائے پکّی خبر دینے کے فلسفے پر قائم کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ عوامی دلچسپی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے