تازہ ترین
دینی مدارس رفاہ عام میں سب سے آگےبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہدیکھنا قیمت گلزار بھی گرجائے گیاللہ کی طاقت، کرونا وائرس اور حفاظتی حصارخاموشئی احساس سے مردہ ضمیری تکہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہوآخر دنیا ختم ہونے کی کتنی پیش گوئیاں کی جائیں گی!ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹیآٹا سستا ہونے کے باوجود عوام 70 روپے فی کلو خریدنے پر مجبورکورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کا خطرہسابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ

گستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ

Justice
  • واضح رہے
  • ستمبر 19, 2019
  • 8:22 شام

پولیس رپورٹ کرنے والے طالب علم محمد ابتسام، ان کے والد اور دیگر مسلمانوں کے گھروں کا محاصرہ ختم کرے ورنہ ملک گیر احتجاج کریں گے۔ جمعیت اہلحدیث پاکستان

جمعیت اہلحدیث پاکستان و جمعیت یوتھ فورتھ و جمعیت طلباء اہلحدیث کا مشترکہ ہنگامی اجلاس مرکز اہلحدیث میں چیف آرگنائزر مولانا محمد یوسف سلفی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں گھوٹکی میں ہندو ٹیچر نوتن لعل کی طرف سے گستاخی رسول کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہندو ٹیچر نوتن لعل کو تحفظ دینے کی بجائے اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اور آئین پاکستان کے تحت گستاخ رسول کا مقدمہ چلایا جائے۔

مولانا محمد یوسف سلفی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت گستاخ نوتن لعل کو تحفظ دینے کیلئے پولیس کے روایتی ہتھکنڈوں کے ذریعے فریق مسلمانوں کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ فوری طور پر توہین رسالت کے اس واقعے کا از خود نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت جو کہ ہندوؤں کو رام کرنے کیلئے سرگرم رہتی ہے اب گستاخ نوتن لعل کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

اجلاس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ جبکہ ایک قرارداد کے ذریعے واقعے کی رپورٹ کرنے والے طالب علم محمد ابتسام اور ان کے ساتھیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو کہا گیا کہ وہ انہیں فول پروف سیکورٹی فوری طور پر مہیا کریں ورنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری آئی جی سندھ پر عائد ہوگی۔