تازہ ترین
دینی مدارس رفاہ عام میں سب سے آگےبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہدیکھنا قیمت گلزار بھی گرجائے گیاللہ کی طاقت، کرونا وائرس اور حفاظتی حصارخاموشئی احساس سے مردہ ضمیری تکہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہوآخر دنیا ختم ہونے کی کتنی پیش گوئیاں کی جائیں گی!ترقی کیلئے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ کاٹیآٹا سستا ہونے کے باوجود عوام 70 روپے فی کلو خریدنے پر مجبورکورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کا خطرہسابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ

الیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریب

الیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریب
  • واضح رہے
  • اکتوبر 2, 2019
  • 6:57 شام

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جسٹس (ر) الطاف قریشی اور جسٹس (ر) قیصر خاتون کی غیر آئینی تقرری پر محفوظ فیصلہ جلد سنایا جائے گا

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ الطاف قریشی اور قیصر خاتون کی تقرری کیخلاف عام لوگ اتحاد نے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے سربراہ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس وجیہ الدین احمد ہیں۔

واضح رہے کہ سیاسی جماعت عام لوگ اتحاد کے قائم مقام چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی، جس میں یہ استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان جسٹس (ر) الطاف قریشی اور جسٹس (ر) قیصر خاتون کی تقرری آئین کے مطابق نہیں ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔

عام لوگ اتحاد کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین کی دفعہ 207(2) کے ماتحت ہائی کورٹ کا جج اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال کے عرصے میں کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا۔ تاہم ان دونوں ججز کی تقرری اس عرصے کے دوارن کر دی گئی۔

واضح رہے کہ الطاف قریشی لاہور ہائی کورٹ اور ارشاد خاتون پشاور ہائی کورٹ کی جج رہ چکی ہیں۔

کیس کی 15 سماعتیں سندھ ہائی کورٹ کی دو پنچوں نے یکے بعد دیگرے کیں۔ اس حوالے سے جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں قائم بنچ نے دو ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اس اثنا میں الیکشن کمیشن کے دونوں ارکان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ اس کیس کو سندھ ہائی کورٹ سے اسلام آباد منتقل کیا جائے، کیونکہ الیکشن کمیشن اسلام آباد میں ہے۔

ادھر عام لوگ اتحاد نے مذکورہ درخواست کی مخالفت کی اور بتایا کہ الیکشن کمیشن کی عمل داری پورے پاکستان میں ہے، لہٰذا کسی بھی ہائی کورٹ میں یہ درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

اس پر سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ یہ مسئلہ سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ نے کرنا ہے۔ لیکن چونکہ الطاف قریشی اور قیصر خاتون کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ہمارے وکیل تقریباً 15 پیشیوں پر عدالت میں حاضر نہ ہو سکے اور انہوں ںے بحث نہیں کی، لہٰذا اس کا موقع دیا جائے۔

اس ضمن میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 30 ستمبر تک دونوں الیکشن کمشین ارکان اپنے تحریری دلائل عدالت میں پیش کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دونوں نے اپنے دلائل پیش کر دیئے ہیں۔ اب متوقع طور پر سندھ ہائی کورٹ الیکشن کمیشن ارکان کی غیر آئینی تقرری سے متعلق جلد محفوظ فیصلہ سنائے گی۔