تازہ ترین
کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ اور کراچی کچرا کنڈیبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میڈیا سے کتراتی ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کی بے گناہی کو بالواسطہ تسلیم کرلیامقبوضہ کشمیر: بھارت کو ایک اور جھٹکا دینے کی پاکستانی تیاریوکٹ ٹیکر سری لنکن اسپنر کا بالنگ ایکشن رپورٹپاکستان میں فوجی سربراہان کی تاریخکولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو پاکستان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ ٹرمپبھارتی فوج نے کشمیر میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اٹھا لیا’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کا مقدمہ لڑا جائے‘‘جنریشن گیپ ایک معاشرتی ناسورکشمیر میں بدترین مظالم پر عالمی برادری کو ہوش آگیانماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچیبھارتی ٹینس ایسوسی ایشن کا پاکستان میں ڈیوس کپ کھیلنے سے انکارحکومتی عدم توجہی سے سی پیک منصوبے متاثر ہونے لگےسرکاری سعودی آئل کمپنی کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘تعلق کے دوہرے معیار سے نجات!وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائےیومِ آزادی پر چوری شدہ نغمے کا استعمال 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

بجٹ پیشی سے قبل اپوزیشن قیادت کی گرفتاریاں

بجٹ پیشی سے قبل اپوزیشن قیادت کی گرفتاریاں
  • واضح رہے
  • جون 11, 2019
  • 2:15 شام

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی باری آگئی، جنہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رمضان شوگر ملز کیس میں درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج ہونے کے بعد گرفتار کرلیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران پراسیکوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کئے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ انکے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔

نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا ذریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے صرف گرفتاری کی وجوہات اور انکوائری اور تفتیش سے متعلق دستاویزات دیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کئے ہیں جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب کی ٹیم نے آصف زرداری کو زرداری ہاؤس سے گرفتار کیا تھا۔ سابق صدر کو جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس کے اے ون انٹرنیشنل کیس میں گرفتار کیا گیا، اس کیس میں زرداری سمیت ان کی بہن فریال تالپور بھی بینیفشریز میں شامل ہیں تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

گرفتاریوں کو حکومتی ارکان اسمبلی اور وزرا نے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض اراکین نے گرفتاریوں پر عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوئے نیب کارروائیوں کو مشکوک بنا دیا ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی گرفتاری پر عمران خان کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے احستاب کا جو نعرہ لگایا تھا وہ پورا ہوگیا۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملک میں بلا تفریق احتساب کا عمل جاری ہے۔ آصف زرداری اور حمزہ شہباز جیسے لوگ بھی اب قانون کے تابع آگئے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم آورنگزیب نے گرفتاریوں پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام دشمن بجٹ پیش کئے جانے سے قبل حمزہ شہباز کو گرفتار کیا گیا، جس سے حکومتی گھبراہٹ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی سروے اور بجٹ جیسی تاریخی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے گرفتاریاں تمہیں عوام کے غیض وغضب سے نہیں بچا سکتیں۔ جس حکومت میں پوری قوم قید کی کیفیت میں ہو، اس حکومت میں اپوزیشن کی گرفتاریوں سے نالائق اعظم خود کو نہیں بچا سکتا۔