تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

بجٹ پیشی سے قبل اپوزیشن قیادت کی گرفتاریاں

بجٹ پیشی سے قبل اپوزیشن قیادت کی گرفتاریاں
  • واضح رہے
  • جون 11, 2019
  • 2:15 شام

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی باری آگئی، جنہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رمضان شوگر ملز کیس میں درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج ہونے کے بعد گرفتار کرلیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران پراسیکوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کئے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ انکے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔

نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا ذریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے صرف گرفتاری کی وجوہات اور انکوائری اور تفتیش سے متعلق دستاویزات دیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کئے ہیں جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب کی ٹیم نے آصف زرداری کو زرداری ہاؤس سے گرفتار کیا تھا۔ سابق صدر کو جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس کے اے ون انٹرنیشنل کیس میں گرفتار کیا گیا، اس کیس میں زرداری سمیت ان کی بہن فریال تالپور بھی بینیفشریز میں شامل ہیں تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

گرفتاریوں کو حکومتی ارکان اسمبلی اور وزرا نے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض اراکین نے گرفتاریوں پر عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوئے نیب کارروائیوں کو مشکوک بنا دیا ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی گرفتاری پر عمران خان کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے احستاب کا جو نعرہ لگایا تھا وہ پورا ہوگیا۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملک میں بلا تفریق احتساب کا عمل جاری ہے۔ آصف زرداری اور حمزہ شہباز جیسے لوگ بھی اب قانون کے تابع آگئے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم آورنگزیب نے گرفتاریوں پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام دشمن بجٹ پیش کئے جانے سے قبل حمزہ شہباز کو گرفتار کیا گیا، جس سے حکومتی گھبراہٹ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی سروے اور بجٹ جیسی تاریخی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے گرفتاریاں تمہیں عوام کے غیض وغضب سے نہیں بچا سکتیں۔ جس حکومت میں پوری قوم قید کی کیفیت میں ہو، اس حکومت میں اپوزیشن کی گرفتاریوں سے نالائق اعظم خود کو نہیں بچا سکتا۔