تازہ ترین
اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبردورہ پاکستان کیلئے سری لنکا کی بے بی ٹیم کا اعلانبھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافلجنوبی افریقہ: ہر 3 گھنٹے میں ایک عورت قتل کردی جاتی ہے

بھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافل

بھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا؟ پاکستانی حکومت غافل
  • واضح رہے
  • ستمبر 10, 2019
  • 4:10 شام

کیا مودی سرکار نے اب مظلوم کشمیریوں کو ہمیشہ کیلئے قید رکھنے کا منصوبہ تو نہیں بنا رکھا۔ یہ سوال روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو بدلنا چاہتا ہے، وہ اپنے مظالم چھپانے کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا رنگ دے رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، گزشتہ 6 ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سےبڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 6 ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر کی تمام قیادت جیلوں اور گھروں میں نظر بند ہے، بھارت کی جانب سے نوجوانوں کو گرفتار کر کے کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اسی طرح کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومتی وزرا بار بار یہ باتیں دہراتے رہے ہیں کہ بھارت کشمیر سے کرفیو ہٹائے گا تو آزادی کے متوالے کشمیریوں کا ردعمل سامنے آئے گا اور پوری وادی میں بھارت کیخلاف مظاہرے ہوں گے۔

تاہم سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا خاتمہ کب کرے گا۔ حکومت پاکستان وادی میں 37 روز سے جاری کرفیو کے باوجود بھارتی عزائم کو بھانپ نہیں سکی ہے یا اس کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان بھارت کی چال کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا کہ حکومت یہ سمجھ سکی ہے کہ بھارت کشمیر سے کرفیو کیوں نہیں اٹھا رہا۔ یا کہیں جدوجہد آزادی کو دبانے اور کشمیریوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کا یہ بھارتی اقدام طویل المدتی منصوبہ تو نہیں۔

ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری طور پر اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ بھارت کشمیریوں کیلئے اسی طرح مواصلاتی نظام بند کئے رکھے گا جیسا اس نے اب تک رکھا ہوا ہے۔ کشمیر پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کرنے کیلئے بھارت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں کسی بھی طرح کی کوئی تحریک نہ چلنے دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو موسم سرما کے دوران اٹھایا جائے گا، جب وہاں برفباری اور سخت ٹھنڈ کے باعث نظام زندگی ویسے ہی مفلوج ہوجاتا ہے۔ یوں بھارت کیخلاف مظاہروں کے سلسلے شروع ہونے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔