تازہ ترین
“باغ” ریاست آزاد جموں و کشمیرشیخ خالد زاہدزیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کاکھیل حکومت اور سپانسرز کی سر پرستی کے منتظر ہیں،رانا محمود الحسنرانا عباد کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہےسوشل میڈیا اور واضح رہے کے قواعدآئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردیقومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پرعمل شروع، جم، تھیٹرز اور سینما ہالز کل کھل جائیں گےہاتھی حساس جانور،ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی سن لیتے ہیںبیروت میں خطرناک دھماکہ۔ 2500 زخمیوں میں سے 25 چل بسےجی۔سی لاہور حسرتوں کو حقیقت سے ملانے کا ذریعہ۔روشن خیالی اور اسلامی تعلیماتکلبھوشن آرڈیننس کچھ ہی دنوں میں “ایکٹ آف پارلیمنٹ” بننے والا ہے۔ جسٹس وجیہگلوبل فاؤنڈیشن کا کے الیکٹرک کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہبرقی دنیا سے عملی دنیا میں منتقلیڈسٹرکٹ پولیس افیسربہاولنگرقدوس بیگ کی علما ٕ اکرام سے میٹنگکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا۔۔۔۔زادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس تحریر   شبیر احمد ڈار بہاولنگرمیاں شوکت علی لالیکاکےمعاون خاص میاں فیض رسول لالیکا کا تقریب سےخطابتعلیمی ادارے کھیلوں کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، نعمان گوندلآئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

آئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری

WhatsApp Image 2020-07-24 at 7.58.10 PM
  • ابوبکر امانت
  • جولائی 24, 2020
  • 8:18 شام

یہ انکشاف معروف صنعتکار میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے گفتگو میں کیا اور کہا کہ حکومتی فیصلہ عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ایما پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دگر گوں معاشی حالات کے باوجود توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عوام اور کاروباری برادری کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا اس لئے حکومت آئی ایم ایف کے احکامات کی بجا آوری کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ نیپرا اعداد و شمار کا کھیل کھیلنے کے بجائے عوام کو حقیقی ریلیف دے۔
میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ مالی سال 2018ء میں ملک میں 121 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی جو 2019ء میں 122.7 ارب یونٹ اور 2020ء میں 122 ارب یونٹ رہی جس سے پتہ چلتا ہے کہ بجلی کی طلب میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور ملکی ترقی کے دعووں میں کتنی سچائی ہے۔ بجلی کی طلب ساکن اور بلا نمو ہے جس میں اضافے کے لئے اسکی قیمت کم کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ بڑھانے کی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمز کے ذریعے بجلی کی پیداوار کل پیداوار کے 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس میں اضافہ ضروری ہے کیونکہ درآمد شدہ مہنگے ایندھن سے بجلی کی پیداوار ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ پن بجلی کی پیداور میں اضافہ ہوا ہے جبکہ فرنس آئل سے بجلی کی پیداور30 فیصد سے گھٹ کر3 فیصد رہ گئی ہے جسے درآمد شدہ کوئلے کے ذریعے بجلی بنا کر پورا کیا گیا ہے ۔ بجلی کی پیداوار کے لئے ملک میں موجود کوئلے کے بجائے درآمدات کرنا حیران کن ہے ۔ عالمی منڈی کے مقابلے میں قطر سے مہنگی آر ایل این جی خریدی جا رہی ہے اوراس سے بھی بجلی بنائی جا رہی ہے جسکی لاگت 10 روپے فی یونٹ ہے جبکہ کوئلے سے بننے والی بجلی پر لاگت 6 روپے فی یونٹ ہے۔

حکومت نے انرجی مکس کو بہتر بنایا ہے جسکی وجہ سے مالی سال 2020 میں 6سو راب روپے کا ایندھن درآمد کرنا پڑا جو 2019 سے 10 فیصد کم تھا اور اگر روپے کی قدر میں زبردست کمی نہ کی گئی ہوتی تو فرق مزید بڑھ جاتا ۔ انھوں نے کہا کہ اگر نجی بجلی گھروں کو پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگیاں کرنے کا مسئلہ حل ہو جائے تو بجلی کا ٹیرف مزید کم ہو سکتا ہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا جبکہ پیداوار اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

ابوبکر امانت

ایڈیٹر ’’واضح رہے‘‘ اینڈ ’’سوشل میڈیا مارکیٹر‘‘

ابوبکر امانت