تازہ ترین
سابق آمر مشرف کو آئین توڑنے پر سزائے موت کا حکمپی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی نے 37 ایکڑ زمین ہتھیالی’’سارے پاکستان میں ملک ریاض جیسی مافیا سرگرم ہے‘‘اوورسیز پاکستانیوں کی قانونی معاونت کیلئے ادارہ بنانے کا فیصلہاظہر علی ٹیسٹ اور بابر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر۔ سرفراز فارغمولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اعلان۔ کنٹینرز بھی بنوالئےالیکشن کمیشن ارکان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے کے قریبزلزلے سے اموات کی تعداد 38 ہوگئی۔ سینکڑوں افراد بے یارو مددگاربائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینک اکاؤنٹس آپریشنل نہ ہونیکی شکایاتملکی تاریخ میں پہلی بار مرغی 400 روپے کی ہوگئیگستاخ ٹیچر نوتن لعل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہنارتھ کراچی صنعتی ایریا میں ڈاکوؤں کا راجپنجاب حکومت نے ایڈز کنٹرول پروگرام کے فنڈز روک لئےافغانستان میں این ڈی ایس کمپاؤنڈ کے قریب دھماکہ۔ 30 ہلاکافغان طالبان کے حملے تیز۔ غنی حکومت کیلئے الیکشن درد سر بن گیاپولیسٹر فلامنٹ یارن پر دوبارہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا امکانسیاسی قیدیوں کو ڈیل پر مجبور کرنے کیلئے بلیک میلنگ شروعوفاق میں ساری ٹیم مشرف کی ہے۔ رضا ربانیپی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کیلئے نواز شریف کا بڑا فیصلہسنسرشپ کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا 39واں نمبر

 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا
  • واضح رہے
  • اگست 6, 2019
  • 9:58 شام

دو بار کے صدارتی امیدوار اور سیاسی پارٹی عام لوگ اتحاد کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان بھارت کی ایما کے بغیر بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں لے کر جاسکتا ہے

عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے مقبوضہ کشمیر کی فتنہ و آتش انگیز صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرت الہی نے ہمیں ایک بار پھر وہیں لاکھڑا کیا ہے جہاں سے چلے تھے۔ بھارت نے اپنی دانست میں صرف آئین کی شقوں 35 اے اور 370 کی تنسیخ کرکے جموں، کشمیر اور لداخ کو ہتھیانے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے نتیجے میں تو مہاراج ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کا وہ معاہدہ بھی رخصت ہوا جس کے تحت صرف کرنسی، خارجہ تعلقات اور دفاعی امور بھارت کو تفویض کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کے اقدام کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں بھی فعال ہو گئیں جو متنازع علاقہ کے دیر پا حل کیلئے منظور ہوئیں تھیں۔ اس تناظر میں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر ہمہ فریقی اور بین الاقومی جہت اختیار کر گیا ہے اور اسے بھارت کی ایما کے بغیر انٹرنیشنل کورٹ میں لے جایا جاسکتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے انسانی حقوق کی پامالی کے سبب کلبھوشن کی نظیر کو برؤے کار لاکر کشمیریوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرایا جاسکتا ہے۔

جسٹس (ر) وجیہہ کا مزید کہنا تھا کہ گمان غالب ہے کہ ہماری واشنگٹن یاترا کے موقعے پر اسی طرح کی یقین دہانیاں کرائی گئیں ہوں جو چالیس کی دہائی میں کرائی گئی تھیں اور جن نادانیوں کے خمیازے 70 برس سے ہم کیا کشمیری بھی اپنی جان، مال اور عزتیں گنواکر بھگت رہے ہیں۔

سابق جج نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ مودی ہندوستان کیلئے وہی ہے، جو سویٹ یونین کیلئے گورباچوو تھا۔ لیکن مستقبل کی کل ذمہ داری کشمیری پاکستانیوں کی بنتی ہے جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کے پاس عزت، دولت اور اثر رسوخ بھی ہے۔ انہی کی پشت پناہی سے ایک بارآور جدوجہد جاری رکھی جاسکتی ہے اور اب تو لداخ کے جلو میں چین بھی فریق بن گیا ہے۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں