تازہ ترین
کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ اور کراچی کچرا کنڈیبھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میڈیا سے کتراتی ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کی بے گناہی کو بالواسطہ تسلیم کرلیامقبوضہ کشمیر: بھارت کو ایک اور جھٹکا دینے کی پاکستانی تیاریوکٹ ٹیکر سری لنکن اسپنر کا بالنگ ایکشن رپورٹپاکستان میں فوجی سربراہان کی تاریخکولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو پاکستان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ ٹرمپبھارتی فوج نے کشمیر میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اٹھا لیا’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کا مقدمہ لڑا جائے‘‘جنریشن گیپ ایک معاشرتی ناسورکشمیر میں بدترین مظالم پر عالمی برادری کو ہوش آگیانماز پر پابندی بھارت کی دیگر ریاستوں تک جا پہنچیبھارتی ٹینس ایسوسی ایشن کا پاکستان میں ڈیوس کپ کھیلنے سے انکارحکومتی عدم توجہی سے سی پیک منصوبے متاثر ہونے لگےسرکاری سعودی آئل کمپنی کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری’’مسلم اکثریت کے باعث کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی‘‘تعلق کے دوہرے معیار سے نجات!وادی میں لاک ڈاؤن۔ ہزاروں کشمیری نمازِ عید ادا نہیں کر پائےیومِ آزادی پر چوری شدہ نغمے کا استعمال 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

 35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا

35اے اور 370 کی تنسیخ۔ جسٹس وجیہہ نے حکومت کو قانونی راستہ دکھادیا
  • واضح رہے
  • اگست 6, 2019
  • 9:58 شام

دو بار کے صدارتی امیدوار اور سیاسی پارٹی عام لوگ اتحاد کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان بھارت کی ایما کے بغیر بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں لے کر جاسکتا ہے

عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے مقبوضہ کشمیر کی فتنہ و آتش انگیز صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرت الہی نے ہمیں ایک بار پھر وہیں لاکھڑا کیا ہے جہاں سے چلے تھے۔ بھارت نے اپنی دانست میں صرف آئین کی شقوں 35 اے اور 370 کی تنسیخ کرکے جموں، کشمیر اور لداخ کو ہتھیانے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے نتیجے میں تو مہاراج ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کا وہ معاہدہ بھی رخصت ہوا جس کے تحت صرف کرنسی، خارجہ تعلقات اور دفاعی امور بھارت کو تفویض کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کے اقدام کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں بھی فعال ہو گئیں جو متنازع علاقہ کے دیر پا حل کیلئے منظور ہوئیں تھیں۔ اس تناظر میں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر ہمہ فریقی اور بین الاقومی جہت اختیار کر گیا ہے اور اسے بھارت کی ایما کے بغیر انٹرنیشنل کورٹ میں لے جایا جاسکتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے انسانی حقوق کی پامالی کے سبب کلبھوشن کی نظیر کو برؤے کار لاکر کشمیریوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرایا جاسکتا ہے۔

جسٹس (ر) وجیہہ کا مزید کہنا تھا کہ گمان غالب ہے کہ ہماری واشنگٹن یاترا کے موقعے پر اسی طرح کی یقین دہانیاں کرائی گئیں ہوں جو چالیس کی دہائی میں کرائی گئی تھیں اور جن نادانیوں کے خمیازے 70 برس سے ہم کیا کشمیری بھی اپنی جان، مال اور عزتیں گنواکر بھگت رہے ہیں۔

سابق جج نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ مودی ہندوستان کیلئے وہی ہے، جو سویٹ یونین کیلئے گورباچوو تھا۔ لیکن مستقبل کی کل ذمہ داری کشمیری پاکستانیوں کی بنتی ہے جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کے پاس عزت، دولت اور اثر رسوخ بھی ہے۔ انہی کی پشت پناہی سے ایک بارآور جدوجہد جاری رکھی جاسکتی ہے اور اب تو لداخ کے جلو میں چین بھی فریق بن گیا ہے۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں